جاپان اور جنوبی کوریا کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے

جاپان اور جنوبی کوریا کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے

ٹوکیو(اے پی اے ) جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک کی جانب سے جاپان کے شہنشاہ سے دوسری جنگ عظیم کے دوران جنوبی کوریا کی خواتین کے جاپانی افواج کی جانب سے جنسی استحصال پر معافی مانگنے کے مطالبے پر ایک بار پھر جاپان اور جنوبی کوریا کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ روز جاپانی پارلیمنٹ میں جنوبی کوریا کے صدر کی جانب سے کئے گئے اس مطالبے پر شدید تنقید کی گئی جبکہ جاپانی وزیر اعظم یوشی ہیکو نودا نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ماضی کے تعلقات کو طے کیا جاچکا ہے، لہذا اس موقع پر جاپانی شہنشاہ سے معافی کا مطالبہ غیر اخلاقی ہے اور جاپان جنوبی کوریا کے صدر کے اس بیان کو مسترد کرتا ہے اور ان سے اپنے بیان پر معافی کا مطالبہ کرے گا۔ دوسری جانب جاپانی حکومت جاپانی شہنشاہ کے دورہ جنوبی کوریا کو منسوخ کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، اس حوالے سے جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی جانب سے جاپانی شہنشاہ کو ملک کے دورے کی دعوت دی گئی تھی تاہم جاپان اس صورتحال میں جاپانی شہنشاہ کے اس دورے کو منسوخ کرسکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر