سید علی گیلانی کی مسلسل گھر میں نظربندی کی شدید مذمت

سید علی گیلانی کی مسلسل گھر میں نظربندی کی شدید مذمت

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی سرپرستی میں قائم فورم نے بزرگ رہنماءکو مسلسل گھر میں نظربند رکھنے پر کٹھ پتلی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فورم نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے ۔ انہوںنے سید علی گیلانی کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ دینے کو دینی امور میں براہ راست مداخلت قراردیتے ہوئے کہاکہ اسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی پولیس نے سید علی گیلانی کو ان کی رہائش گاہ کے باہر سے اس وقت دوبارہ گرفتار کر لیا جب وہ نماز جمعہ ادا کرنے کیلئے جارہے تھے۔ انہوںنے کہاکہ سید علی گیلانی نے اپنی مسلسل نظربندی کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو بھی آگاہ کرنا تھا تاہم اس سے قبل ہی پولیس کے بھاری دستے ان کی رہائش گاہ کے باہر تعینات کر دیئے گئے اور انہیں حراست میں لے کرہمہامہ پولیس اسٹیشن میںنظربند کر دیا گیا۔ ترجمان نے افسوس ظاہر کیا کہ ایک طرف تو کٹھ پتلی انتظامیہ مقبوضہ علاقے میں قیام امن کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف حریت رہنماﺅں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر مسلسل پابندیاں عائد ہیں جو کہ سماجی مساوات کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے سید علی گیلانی کی طرف سے پولیس کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کو دو ہفتے کے بعد آئندہ سماعت کیلئے فہرست میں شامل کر لیا ہے ۔ سید علی گیلانی نے عدالتی احکامات کے باوجود پولیس کی طرف سے اپنی آزادی پر عائد قدغن کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضداشت دائر کر رکھی ہے ۔ سید علی گیلانی کی طرف سے ایڈووکیٹ ظفر قریشی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ اس سے قبل مقدمے کی سماعت کے موقع پر ہائی کورٹ نے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کلدیپ کھڈاسمیت پانچ پولیس افسروں کے نام نوٹسز جاری کئے تھے ۔ عدالت نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو بھی سید علی گیلانی کی نقل و حرکت پر عائد پابندی اٹھانے کا حکم دیا تھا۔ دریں اثناءمقبوضہ کشمیر سے بھارتی پارلیمنٹ کے سابق رکن غلام رسول نے بھی سوپور ٹاﺅن میں ایک عوامی اجتما ع سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی کی مسلسل گھر میں نظربندی کی شدید مذمت کی ہے ۔

مزید : عالمی منظر