حکومت آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے سے گریز کرے‘ یاسر سخی بٹ

حکومت آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے سے گریز کرے‘ یاسر سخی بٹ

اسلام آباد (پ ر) ملک میں سرمایہ کاری میں کمی اور معاشی زبوں حالی کی وجہ سے بیرونی زرمبادلہ میں بتدریج کمی ہو تی جا رہی ہے جس کی بدولت حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینا چا رہی ہے جوکہ ملکی مفاد میں نہیں ہے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبرکے صدر یاسر سخی بٹ نے آئی ایم ایف کوادا ئیگیوں کی حوالے سے ملک میں موجود صلاحیتوںپرتبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔انہوںنے کہا کہ اس وقت ملک مزید قرضوں کا متحمل نہیں ہے اور نہ ہی بیرونی امداد پر انحصار کر کے ملک میں معاشی ترقی لائی جاسکتی انہوںنے کہا کہ پہلے ہی حکومت نے آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرض لیا ہواہے جس کو واپس کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور مذید یہ کہ اس سے ملک میں معاشی ترقی بھی متاثر ہو رہی ہے۔صدر آئی سی سی آئی یاسر سخی بٹ نے کہا کہ سال 2012-13 میں 3.4 بلین ڈالر، 2013-14 میں 3.43 بلین ڈالر جبکہ سال 2014-15 میں حکومت نے آئی ایم ایف کو 1.35 بلین ڈالر ادا کرنے ہیںجس کی وجہ سے آئیندہ آنے والے تین سالوں میں ملک پر معاشی دباو¿ مذید بڑھ جائے گا تاہم حکومت کو چائیے کہ وہ ملک میں معاشی فروغ کے لئے عارضی حل نکالنے کی بجائے مستقل اور طویل المیعاد پالیسیوں کا انتخاب کرے تاکہ ملک کو پائیدارمعاشی ترقی کی راہوں پر گامزن کیاجا سکے۔انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذید قرض لینے کی بجائے حکومت کو چا ئیے کہ وہ ملکی ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے نیشنل پراجیکٹس شروع کرے تاکہ معیشت کو ترقی مل سکے۔صدر آئی سی سی آئی یاسر سخی بٹ نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو سیکٹر ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں انہیں فوری طور پر ٹیکس کے دائرہ میں لائے جس سے ریونیو میں اضافہ ہو ہو گاجبکہ ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے سے حکومت کا آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے انحصار کم ہوئے جائے گا اور ملک ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔انہوںنے مذید کہا کہ حکومت کو چائیے کہ وہ آئی ایم ایف سے نیا قرض لینے سے قبل تاجر برادری اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان سے مشاورت کرے تاکہ معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی ٹھوس حل نکالا جا سکے۔صدر آئی سی سی آئی نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریونیو پیدا کرنے کے حوالے سے مختلف ذرائع کو استعمال میں لائے تاکہ آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضے کو واپس کیا جا سکے حکومت کو آئی ایم سے قرض لینے سے قبل اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اس کے اثرات صنعتی سیکٹر پر نہیں پڑیں گے اور صنعتی سیکٹر کی ترقی کو بھی یقینی بنانا ہو گا ۔

مزید : کامرس