ویتنام: افراط زر کی شرح کم ہوکر 5.04 فیصد ہوگئی

ویتنام: افراط زر کی شرح کم ہوکر 5.04 فیصد ہوگئی

ہنوئی( آن لائن) ویتنام میں افراط زر کی شرح کم ہوکر اگست میں سال بہ سال کی بنیاد پر5.04فیصد ہوگئی ہے،جو پچھلے تین سال کے دوران کم ترین شرح ہے،یہ بات جمعہ کو سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد وشمار میں بتائی گئی ہے،جس سے اس کمیونسٹ ریاست میں اقتصادی نمو میں سردمہری کی عکاسی ہوتی ہے۔اگست میں اشیاءصرف کی قیمتیں5.04فیصد بڑھی ہیں جو کہ نومبر 2009ءکے بعد سے سب سے کم اضافہ ہے۔رواں سال اپریل تک افراط زر کی شرح دو ہندسوں تک تھی،اگست2011ءمیں یہ شرح23فیصد تھی جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ بار بار شرح سود بڑھانا پڑا تاکہ معیشت کو زیادہ گرمی سے بچایا جاسکے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اشیاءصرف کی قیمتوں میں تیزی سے کمی سخت مالیاتی پالیسی اور ڈومیسٹک کنزیومر ڈیمانڈ میں کمی کا نتیجہ ہے۔سال2012ءکے پہلے نصف میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ویتنام کی اقتصادی ترقی کم ہوکر4.38 فیصد ہوگئی۔،گزشتہ سال معیشت میں 5 .9فیصد اضافہ ہوا جبکہ حکومت 2012ءکے پورے عرصے کے دوران شرح نمو6.0سے6.5 فیصد تک اضافے کا ہدف رکھتی ہے۔

مزید : کامرس