پنجاب میں دیہی مرغیوں کی تعداد 4 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی

پنجاب میں دیہی مرغیوں کی تعداد 4 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی

فیصل آباد (بیورورپورٹ) ماہرین لائیوسٹاک نے بتایاہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں صوبہ بھر کے تمام 9ڈویژنز کے 36اضلاع میں لائیو سٹاک سیکٹر انتہائی برق رفتاری سے ترقی کر رہا ہے جس کا ملکی معیشت میں کردارانتہائی اہم اور مجموعی ملکی پیداوار میں اس کا حصہ 11.5فیصد جبکہ زرعی پیداوارمیں لائیوسٹاک کا حصہ 55.1فیصد ہے اور 3کروڑ 50لاکھ سے لے کر 4کروڑ تک کی دیہی آبادی لائیو سٹاک سیکٹر سے منسلک ہونے کے باعث آمدن کا 40فیصد حصہ گوشت و دودھ کی پیداوار سے حاصل کرتی ہے نیز پنجاب میں دیہی مرغیوں کی تعداد4کروڑ 15لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اسی طرح گائیوں کی تعداد ایک کروڑ 95لاکھ ، بھینسوںکی 2کروڑ 50لاکھ ، بھیڑوں کی 85لاکھ ، بکریوں کی 2کروڑ73لاکھ ہو گئی ہے۔محکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے حالیہ مون سون سیزن کے دوران 1کروڑ 62لاکھ گائیوں کو گل گھوٹو ، 1کروڑ 95لاکھ بھینسوں کو بلیک کوارٹر ، 66لاکھ بھیڑوں ، 2کروڑ 16لاکھ بکریوں کو انتڑیوں کے زہر ، نمونیا، چیچک اور 3کروڑ 41لاکھ مرغیوں کو فاﺅل پاکس اور رانی کھیت کے امراض سے بچاﺅ کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں جن میں سے 60فیصد سے زائدہدف مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس وقت پنجاب میں سالانہ 27931 ہزار ٹن سے زائد دودھ ، 715ہزار ٹن بڑا گوشت ، 197ہزار ٹن چھوٹا گوشت حاصل کیا جارہا ہے۔ ان جانوروں ، مویشیوں ، پرندوںکو علاج معالجہ کی سہولیات بہم پہنچانے کیلئے پنجاب بھر میں 580ویٹرنر ی ہسپتال ، 2240ویٹرنری ڈسپنسریاں ، 1672ویٹرنری سنٹرز ، 192مراکز مصنوعی نسل کشی اور 787ذیلی مراکزمصنوعی نسل کشی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

مزید : کامرس