ایران علاقائی سیاست میں ایک بار پھر سرگرم ،سعودی عرب سے کشیدگی ختم

ایران علاقائی سیاست میں ایک بار پھر سرگرم ،سعودی عرب سے کشیدگی ختم

تہران (خصوصی رپورٹ) غیر وابستہ ممالک تحریک کی سربراہ کانفرنس آج تہران میں شروع ہوگی جو 31 اگست تک جاری رہے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں اس سربراہ کانفرنس کا انعقاد خطے کے حوالے سے اس عشرے کی ایک بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔ ایران نے عرصہ دراز سے خود کو علاقائی سیاست سے الگ تھلگ کر رکھا تھا تاہم کانفرنس میں اس کی شرکت اور اس سے بڑھ کر میزبانی کا عمل ایسی ڈویلپمنٹ ہے جسے ناقدین بہت بڑا اقدام قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس اہم تبدیلی سے اس بات کے اشارے بھی ملتے ہیں کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے اناپرست رویئے کو ختم کردیا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ گزشتہ ہفتے مکہ میں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد سعودی فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز سے اگلی نشست پر براجمان تھے اور ان کے ساتھ شام کی موجودہ صورتحال سے متعلق کھل کر گفتگو کرتے رہے۔ ایران نے واضح طور پر تنقید کی تھی کہ او آئی سی سے ایران کی رکنیت معطل کرنا ایک احمقانہ فیصلہ ہوگا۔ ایران کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا او آئی سی کے چارٹر کی خلاف ورزی ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق ایران اگر چاہتا تو اس کے پاس او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کی متعدد وجوہات تھیں۔ اس کے باوجود ایرانی حکام نے اجلاس میں شرکت کی اور پرو امریکہ اور اینٹی ایران سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ایران نے واضح مطالبہ کیا کہ شام میں جاری خونیں جنگ کو ختم کیا جائے۔ ایران نے کہا کہ تمام ممالک بالخصوص او آئی سی ممالک اس مسئلے کو حل کریں اور وہ راستہ تلاش کیا جائے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت مل سکے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی فرمانروا نے اجلاس کے موقع پر ایران کے لئے ایک تحفے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے شیعہ سنی ڈائیلاگ سنٹر کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ واضح رہے کہ اس دوران ایک اور اہم پیشرفت بھی ہوئی جس کے مطابق مصر کے صدر محمد مرسی نے غیر وابستہ ممالک کی سربراہ کانفرنس میں مصر کی شمولیت کا اعلان کیا۔ وہ خود تو نہیں لیکن نائب صدر محمود میکی نیم سمٹ میں شریک ہورہے ہیں۔ 1979ءکے ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ مصر کی جانب سے کوئی اعلیٰ عہدیدار ایران جارہا ہے۔ ایران کے مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کشیدگی 1980ءمیں پیدا ہوئی تھی جب مصر نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا۔ غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا قیام 1961ءمیں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت اس کے 120 ارکان اور 21 مبصرین ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری بھی آج شروع ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مزید : صفحہ اول