حکومتی مشیر سود مند مشورہ دینے میں نا کام ،وزیراعظم کا سپریم کورٹ پیش ہونے کا فیصلہ

حکومتی مشیر سود مند مشورہ دینے میں نا کام ،وزیراعظم کا سپریم کورٹ پیش ہونے کا ...

اسلام آباد(ابن آدم)48گھنٹے باقی رہ گئے ،وزیراعظم راجاپرویزاشرف کوآئینی ماہرین کوئی بھی سودمند مشورہ نہ دے سکے ،آئینی ماہرین کی اکثریت نے سوئس حکام کو خط لکھنے کا مشورہ دیاہے کسی درمیانی راستے بارے صحیح رہنمائی نہیں کرسکے ہیں جس پر وزیر اعظم پرویزاشرف نے وفاقی وزیر قانون فاروق فاروق ایچ نائیک سے ون ٹوون ملاقات کرنا پڑی ،ذرائع نے بتایاہے کہ حکومتی مشیروں نے وزیر اعظم راجاپرویزاشرف کو 27اگست کو سپریم کورٹ میں پیشی اوروہاں شوکازنوٹس کا جواب دینے بارے کوئی قابل عمل مشورہ نہیں دیاہے جس کی وجہ سے وزیر اعظم ذہنی طورپر الجھ گئے ہیں اورفوری طورپروفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کوبلابھیجاان سے کافی دیر صلاح مشورہ کیاہے اوراس بات پر اتفاق رائے ہوگیاہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کی راہ اختیارنہیں کی جائیگی یعنی دوسرے معنی میں وزیراعظم سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے اورعدالت کے اظہار وجوہ کا ذاتی طورپر جواب دیں گے ،آئینی ماہرین نے وزیر اعظم کواپنے مشورے میں کہاہے کہ کوشش کی جائے کہ عدالت سے الجھاﺅپیدانہ کیاجائے اورسوئس حکام کوخط لکھ دیاجائے اس بارے جوالفاظ و تراکیب کامعاملہ ہے اس بارے اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ سے مشاورت کرلی جائے اس بارے اگر ضروری سمجھاجائے توپانچ رکنی لارجربنچ کے سربراہ سے ان کے چیمبرمیں ملاقات بھی کی جاسکتی ہے اگر ایساہوجائے توبہت اچھاہوگاوگرنہ حکومت کو موجودہ وزیر اعظم سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔آئینی ماہرین کوجواب میں وزیراعظم راجاپرویزاشرف نے کہاکہ وہ کبھی بھی سوئس حکام کو خط لکھنے کامشورہ قبول نہیں کرسکتے یہ ان کے لیے اوران کی پارٹی کے لیے کسی خود کشی سے کم نہیں ہے اگر انھوں نے یا ان کی حکومت نے ایساکرنا ہوتا توپھر سیدیوسف رضاگیلانی کو گھر جاتے ہوئے ہم دیکھتے نہ رہتے اس لیے کوئی اور مشورہ دیاجائے آئینی ماہرین کوئی اور خاص مشورہ نہ دے سکے جس سے وزیر اعظم ذہنی طورپر الجھ گئے اور انھوں نے بعدازاں وفاقی وزیر قانون فاروق فاروق ایچ نائیک سے ون ٹوون ملاقات کرنا پڑی ۔ذرائع کے مطابق ایک گھنٹے سے زائد دیر تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ وہ اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتے ہیں اور حکومت نے ہمیشہ تمام اداروں کا احترام کیا ہے اور حکومت عدلیہ سے بھی تصادم نہیں چاہتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کیلئے لڑے گی اور یہ حق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا ہے ۔ ملاقات میں دونوں میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ حکومت عدلیہ سے تصادم نہیں چاہتی ہے اور جو بھی فیصلہ ہوگا ملک وقوم کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ اول