جمہوریت کیلئے آزاد عدلیہ ناگزیرہے عدالتیں کسی بھی قانون کو منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں :چیف جسٹس

جمہوریت کیلئے آزاد عدلیہ ناگزیرہے عدالتیں کسی بھی قانون کو منسوخ کرنے کا ...

سکھر (خصوصی رپورٹ) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی کے لئے آزاد عدلیہ ضروری ہے۔ عدالتیں کسی بھی قانون کو کالعدم یا منسوخ قرار دینے کا اختیار رکھتی ہیں۔ جمہوریت میں عدالتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں تاکہ حکومتی ادارے اور اتھارٹیز آئین کی مکمل پاسداری کریں، آزاد عدلیہ جمہوری معاشرے کی اہم ضرورت ہے، ملک میں قانونی مشینری کا بنیادی مقصد آئینی اصولوں، اس کے وفاقی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کی فوقیت کو برقرار رکھنا ،قوانین کی تشریح قومی ترقی اور انسانی عظمت کے مفاد میں کرنا ہے، عدلیہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے کوشاں ہے، قانون سخت اور غیر لچکدار نہیں بلکہ اسے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے، عدلیہ کو آئین اور جمہوری اقدار میں ریاست کے تیسرے ستون کے طور پر تقسیم اختیارات کے نظام کے زیر اثر کام کرتے ہوئے آئین اور قانون کی تشریح کرنی ہوتی ہے، بنیادی حقوق پر عملدرآمد کروانے کے لئے عدالتوں کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں ، عدالتیں آئین کے مقرر کردہ پیمانے کے تحت کسی بھی انتظامی حکم یا قانون کو اگر وہ بنیادی قانون سے خلاف یا متصادم ہو تو اسے منسوخ کر سکتی ہیں ، آئین اور قانون کی تشریح و تضادات و تنازعات کو حل کرنے اور انصاف کی فراہمی جیسے کام سرانجام دینے کے لئے عدلیہ کا بنیادی مقصد معاشرے میں سکون، استحکام اور امن کی فراہمی ہے، پاکستان میں قانونی تعلیم کا معیار زوال پذیر ہے، غیر سرکاری لاءکالجز بڑی تعداد میں پھیل گئے ہیں ان کا بنیادی مقصد صرف پیسے بٹورنا ہے ایسے اداروں سے قانون کے پیشے کے معیار کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ وہ ہفتہ کو یہاں پاکستان لاءکانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس سے جج صاحبان کے علاوہ ممتاز ماہرین آئین و قانون نے بھی خطاب کیا۔ چیف جسٹس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ بالخصوص اعلی عدلیہ مقاصد آئین کے حصول کی غرض سے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اصول کے نفاذ کےلئے ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل کرنے کےلئے کوشاں ہے۔ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی جیسے اہم اصولوں کے نفاذ میں عدلیہ کسی بھی جانب سے مثبت رائے کو خوش آمدید کہے گی۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کی فراہمی کے لئے قانونی تعلیم بنےاد اور ابتدائی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے۔ معیاری قانونی تعلیم جو کہ لاءسکولز اور کالجز میں دی جاتی ہے قابل،اہل اور موثر عدالتی نظام کے لئے بہت اہم ہے۔ لاءسکولز میں دی جانے والی قانونی تعلیم بینچ اور بار کے لئے خام میٹریل مہیا کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح پورے ملک میں عام تعلیم کا معیارتنزلی کا شکار ہے اسی طرح قانونی تعلیم کا معیار بھی متاثر ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک حتی کہ بعض ترقی پذیر اقوام نے قانونی تعلیم کے معیار کو بڑھانے میں پیش قدمی کی ہے۔ اس کے برخلاف پاکستان میں قانونی تعلیم کے معیار کی صورتحال زوال پذیر ہے۔ یہ تباہی نہ صرف سرکاری اداروں میں بلکہ اس سے زیادہ غیر سرکاری لاءکالجز میں ہے جو کافی پھیل گئے ہیں اور جن کا بنیادی مقصدصرف پیسے بٹورنا ہوتا ہے ان کی وجہ سے قانون کے پیشے کے معیار کو کافی حد تک نقصان پہنچا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان بار کونسل کے پاس ایک حل یہ ہے کہ پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل اور انجینئرنگ کونسل کی طرح اپنی تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے قانونی تعلیمی نظام کی اصلاح کرنے اور اسے جدت دینے میں مدد کرے۔ قومی اور نجی شعبہ کے قانونی مدارس کے معیار پر نظر رکھنے اوراسکی نگرانی کے لیے ایک خود مختار اور غیر جانبدار ادارہ ہونا چاہیے جو انکے معیار میں بہتری لائے۔ ایسے لاءکالج اور ادارے جو مطلوبہ معیار پر پورے نہیں اترتے انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ قانون کا بنیادی مقصد طرزعمل اور رویوں کے لئے بنیادی اصول فراہم کرنا اور معاشرے کو ایک منظم اور ترتیب سے چلانا ہوتا ہے۔ قانون سخت اورغیرلچکدار نہیں۔ اسکو بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تبدیل ہوناچاہیے۔ اور اسے وقت اور زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ عہدہ براءہونا چاہئے۔ اس کا مقصد سماجی و معاشی اور سیاسی تضادات اور مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ کو آئین اور جمہوری اقدار میں ریاست کے تیسرے ستون کے طور پر تقسیم اختیارات کے نظام کے زیر اثر کام کرتے ہوئے آئین اور قانون کی تشریح کرنی ہوتی ہے۔ قانون کی تشریح کے علاوہ عدلیہ کو تضادات کے حل اور تنازعات کے فیصلے کرنے میں انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ تضادات حکومتوں کے درمیان یا حکومت اور شہریوں کے درمیان یا پھر شہریوں کے اپنے درمیان ہو سکتے ہیں ۔ اس اہم مقصد کی ادائیگی کے لیے عدلیہ کو ریاست کے دوسرے اداروںسے آزاد اور خودمختار رکھاگیا ہے بلکہ الگ تھلگ ‘ تانکہ اس کونہ تو دیگر اداروں کے زیراثر ہونا چاہیے نہ نظر آنا چاہیے آئین جو کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنےادی حقوق اپنے وسےع تر معنوں اور خصوصیات کے ساتھ عام آدمی کو بغیر کسی رکاوٹ اور پابندی کے مہیا ہوں۔ اور ان پر عملدارآمد کروانے کے لیے عدالتوں کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں ۔ اس اہم کام کو سر انجام دیتے ہوئے عدالتیں انتظامی احکامات اور فیصلوں اور قانون سازی میں بدنیتی کے عوامل کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عدالتیں یہ کام عدالتی نظر ثانی کے پیرائے میں سر انجام دیتی ہیں یعنی آئین کے مقرر کردہ پیمانے کے تحت کوئی بھی انتظامی حکم یا قانون اگر بنیادی قانون سے خلاف یا متصادم ہو تو اُسے منسوخ کرے۔ لوگ عدالتوں سے اپنے تضادات اور تنازعات کے حل کے لیے رجوع کرتے ہیں ۔ تاکہ ان کی تکالیف اور ان کے ساتھ ناانصافی کا ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ آئین اور قانون کی تشریح اور تضادات و تنازعات کو حل کرنے اور انصاف کی فراہمی جیسے کام سرانجام دینے کے لئے عدلیہ کا بنیادی مقصد معاشرے میں سکون، استحکام اور امن کی فراہمی ہے۔ جس سے تجارت ،کاروبار، تجارتی سرگرمیوں، اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔مقدمات و تنازعات کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں بلاشبہ قانون اور آئین سے وابستہ رہتی ہیں تاکہ صاف و شفاف نظم ونسق کی حکمرانی ہو۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان جیسی آئینی جمہوریت میں عدالتیں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں تاکہ حکومتی ادارے اوراتھارٹیز آئین کی مکمل پاسداری کریں۔ فی الحقیقت صاف وشفاف نظم ونسق کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ ریاست کے تمام ادارے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اپنا مکمل کردار ادا کریں اور ایک دوسرے کے دائرہ کار میں اثر انداز نہ ہوں۔یہ اچھے نظم و نسق اور سماجی معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہاکہ آزاد عدلیہ جمہوری معاشرے کے لئے ناگزیر ہے۔ جج صاحبان کو اپنی ذمہ داریوں مثلاََ کیسز کے فیصلے اور تنازعات کے حل کو کیس کے مخصوص حقائق اور قابل اطلاق قانون کی بنیاد پر انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کے پاس دباﺅ کا مقابلہ کرنے اور بیرونی اثر کو زائل کرنے کی صلاحیت ہونی چائیے۔ اچھی حکمرانی اور شفاف انتظامیہ کے مقاصد کے حصول کے لیے عدلیہ کی مضبوطی اور ایک آزاد ‘ پیشہ ورانہ اور مکمل تربیت یافتہ بار بہت اہم ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہم قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی مسلسل کوششوں کو نہیں بھول سکتے۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام فیڈریشن آف پاکستان سال 2009 کے تاریخی فیصلے میں ان کوششوں کو سراہا ہے۔ اس فیصلے نے واقعی آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی جیسے نئے عہد کی بنیاد رکھی ہے۔انہوں نے کہاکہ سب سے اہم جو سفر ہم نے 2007 میں شروع کیا بغےر کسی خوف اور کسی مخصوص کلاس یا گروہ کی حمایت کے ابھی تک جاری ہے، جو کہ ہم نے آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہوئے شروع کیا تھا۔

مزید : صفحہ اول