فضائیہ کوڈرون گرانے کا حکم دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں مولانا فضل الرحمن

فضائیہ کوڈرون گرانے کا حکم دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں مولانا فضل ...

لاہور(نمائندہ خصوصی(جمعیت علماءاسلام کے مر کزی امیر اور قومی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مو لا نا فضل الرحمن نے ڈرون حملوں میں مسلسل اضافے پر شدید نکتہ چینی کر تے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو افواج بے گناہ لو گو ں کو مارکر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑارہی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پا کستان کے احتجاج کا جواب ڈرون حملوں کی صورت میں دیا ہے انہوں نے کہا کہ حکمران اورادارے سوچیں کہ نیٹو سپلائی بحال کر نے کی صورت میں انہیں ڈرون حملوں کا تحفہ دیا گیاہے اور خفیہ تعلقات کا بھیانک نتیجہ سامنے آرہا ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں سے الگ کوئی بھی طریقہ ملک وقوم کے لیے خطر ناک ہو گا مر کزی میڈیا سیل کے مطابق پارٹی راہنما ﺅں ملک سکندر خان ایڈووکیٹ ،مو لا نا گل نصیب خان،مو لا نا محمد امجد خان ،مو لا نا قاری فیاض الرحمن علوی سے ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارا پہلے دن سے یہ مطالبہ ہے کہ فیصلے ملک وقوم کے مفاد میں کئے جائیں لیکن سابقہ اور مو جو دہ حکمرانوں کو ملک قوم کے بجائے بیرونی مفادات عزیز ہیں۔ مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ فضائیہ کو ڈرون گرانے کا حکم دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ یو این اور انسانی حقوق کے اداروں سے کوئی توقع رکھنا سنگین غلطی ہو گی انہوں نے کہا کہ کب تک ہم معصوم بچوں اور بے گناہ لو گوں کی لاشیں اٹھا تے رہیں گے اب صرف احتجاج یا دفتر خارجہ کے بیان سے کام نہیں چلے گا پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عمل در آمد کیا جا ئے ۔دریں اثناءکندیاں میں مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ الیکشن سے قبل ایم ایم اے بحال ہوسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں کوششیں جاری ہیں۔ تمام ساتھی متفق ہیں۔ وطن عزیز میں نفاذ اسلام کےلئے کسی نے مخلصانہ کوششیں نہیں کیں۔ اگرعلماءکرام کو اس بار موقع ملا تو ضرور اسلام کانفاذ ہوگا۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے خانقاہ سراجیہ کندیاں میں ضلعی امیرصاحبزادہ سعید احمد سے گفتگو اورحاضرین سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کی بحالی بھی ضروری ہے تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو ملک بھرسے جے یو آئی کے امیدوار کھڑے کریں گے اور دوسری اسلامی ذہن رکھنے والی جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان میں مارشل لاءکی ضرورت نہیں ہے تاہم شفاف الیکشن کراناضروری ہیں تاکہ عوام کو بیروزگاری‘ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے۔

مزید : صفحہ آخر