میڈیکل فنڈز روکنے پر وکلاءنے گزشتہ روز عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا

میڈیکل فنڈز روکنے پر وکلاءنے گزشتہ روز عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا

لاہور ( سٹاف رپورٹر) پنجاب با کونسل کی کال پر صوبہ بھر کے وکلاءسمیت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاءنے میڈیکل فنڈز روکنے پر پنجاب حکومت کے خلاف گزشتہ روز عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ وکلاءکے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث ہزاروں مقدمات التوا کا شکار ہوگئے جبکہ سائلین کو انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ روز کے بائیکاٹ کے حوالے سے صدر لاہور بار ایسوسی ایشن چودھری ذوالفقار علی اور سابق صدور شہزاد حسن شیخ ، ساجد بشیر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلاءکے لئے گزشتہ کئی سالوں سے حکومت پنجاب کی جانب سے سالانہ میڈیکل فنڈز جاری کیا جاتا ہے مگر موجودہ پنجاب حکومت نے میڈیکل فنڈز کو روک دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں وکلاءعلاج معالجہ کی سہولتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ چودھری ذوالفقار علی نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے ریپڈ ٹرانزٹ بس سروس کو کامیاب بنانے کے لیے ایک پل کی تعمیر پر پنجاب کے تمام تر وسائل جھونک دیئے ہیں اور جن وکلاءنے ملک میں جمہوریت قائم کرنے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لئے قربانیاں دیں اور مسلسل تحریک چلا کر ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ان کا سالانہ میڈیکل فنڈ روک کر وکلاءدشمنی کا ثبوت دیا ہے حالانکہ وکلاءنے جس آمر کے خلاف آواز اٹھائی وکلاءکے میڈیکل فنڈز اس کے دورہ میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہا ہے۔ شیخ شہزاد احمد نے کہا کہ پنجاب حکومت کو فوری طور پر وکلاءکا سالانہ میڈیکل فنڈز جاری کر کے وکلاءپر علاج معالجہ کی سہولتیں بند نہیں کرنی چاہیں ۔

مزید : ایڈیشن 1