د ہشت گر د ی ا یک لعنت

د ہشت گر د ی ا یک لعنت

آ ج کل ملکی اور بین الااقوامی حالات کی وجہ سے دہشت گردی کی اصطلاع زبان زدہ عام ہوئی ہے۔ سب سے پہلے1794ءمیں فرانسیسی رہنما روبس پیرراری نے قومی کانفرنس میں لفظ خوف کو متعارف کروایا اور کہا کہ دراصل لوگوں کو مختلف طور طرےقوں سے خوف زدہ کر نے کا نام ہی دہشت گردی ہے ۔ یہ تخریب کاری چاہے مذہب ، سیاست ، انقلاب، لسانی و گروہی، فرقہ واراےت یا کسی بھی نام سے کیوں نہ ہو اور کسی بھی قسم کی کیوں نہ ہو، اس کا آخری نتیجہ انسانیت اور معیشت کی تباہی کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔ امریکہ کی ہیرٹج ڈکشنری کے مطا بق ”کسی ایک تنظیم یا شخص کا کسی دوسری تنظیم یا شخص یا گر وہ کے خلاف طاقت کا خوفناک اور غیر قانونی استعمال دشت گردی کہلاتا ہے، کیونکہ اس کا مقصد حکومت یا معاشر ے کو سیاسی یا نظریاتی بنا پر خو ف زدہ کرنا ہوتا ہے“۔

مارچ2005ءاقوام متحد ہ کے ایک پینل نے دہشت گردی کا مفہو م کچھ ا س طرح بیان کیا ہے: ”شعوری طور پر انسان کو ہلاک کرنا یا شدید جسمانی نقصان پہنچانا دہشت گردی کہلاتا ہے۔ اس کا مقصد عوام کو یا کسی تنظیم و حکومت کو خوف زدہ کر کے ا پنے خاص مقاصد کے لئے مجبو ر کرنا ہوتا ہے،،۔

14اگست2012ءکو پاکستان آرمی چیف آف سٹاف، جنرل اشفا ق پریز کیانی نے ا پنے خطاب میں کہا: ”ہر وہ شخص جو اپنی رائے کو غلط طور پر بزور بندوق دوسروں پر مسلط کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کر تا ہے، وہ دہشت گردہ ہے،،۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس موقع پر یہ پیغام بھی دیا کہ تما م لوگو ں اور اداروں کو آ ئین کی پاسداری کرتے ہوئے ملکی سلامتی کے لئے ایک ہو جانا چاہے ۔ فو ج کے سپہ سالار کا پیغام دہشت گردی کے خدوخال کا درست طور پر احاطہ کرتے ہوئے وضاحت کرتا ہے کہ یہ جنگ اگرچہ اغیار نے شروع کی، لیکن اب یہ اپنی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، چنانچہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے“۔

ہما را مذ ہب ا سلا م بھی بلا جو ا ز ا نسا نی خو ن بہا کو ر و کتا ہے۔ حتیٰ کہ مذ ہب کو تلوار کے ز و ر پر پھیلا نے سے منع کر تا ہے۔ سعو دی عر ب کی مجلس شو ر ی ٰ کے ممبر شیخ صالع ا لا د ن ا ور عبد ا اللہ ا لا سیل کے مطا بق :” د ہشت گر دی سے مر ا د غیر قا نو نی ذ را ئع کا ا ستعما ل، جو کو ئی بھی گر و ہ ، شخص یا ر یا ست ا پنے مقا صد کے حصو ل کے لئے کر تی ہے، جس سے عا م لو گو ں میں خو ف و ہر ا س پید ا کر کے ا پنے خا ص مقاصد کے حصول کے لئے انہیں ڈرایا اور دھمکا یا جا تا ہے اور یہ مقاصد سیاسی ، مذہبی یا نظریاتی بھی ہو سکتے ہیں۔ اس سے عوام میں یا معاشرے کے کسی خاص طبقے یا گروہ میںخوف و ہراس اور قتل وغارت گری کو فروغ ملتا ہے۔

11ستمبر2001ءکے واقعات نے دہشت گردی کی ایک ایسی جنگ کو جنم دیا ،جس نے نہ صرف پوری د ُنیا خاص طور پر پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اس جنگ نے ہمیں اپنی اور اغیار کی جنگ کی بحث میں الجھا کر رکھ دیا ہے، لیکن اس جنگ نے سب سے زیادہ ناقابل تلافی نقصان پاکستان کو پہنچایا ۔ ا س جنگ میں پاکستان کے 30ہزار سویلین، پانچ ہزار سے زیادہ ہمار ی افواج کے بہادر افسران اور جوان شہید و زخمی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلح جوان مغر بی سر حدوں کا دفاع کرتے ہوئے بیرونی ا ور اند ر و نی ملک د شمن عنا صر سے نبرد آ ز ما ہےں۔

ا سی سا ل16 ا گست کی صبح سا ت بجے ملک د شمن عناصر نے شاہراہ ریشم پر چلاس کے قریب 22 بے گناہ معصوم پاکستانیوں کو دو بسو ں سے ا ُتار کر گو لیوں سے بھون ڈالا۔ ان شہداءمیں ہر فرقے کے لوگ شامل تھے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں نے عید کے دوسر ے روز کوئٹہ میں فائرنگ کر کے ایک آدمی کو شہید اور چار افراد کو زخمی کر دیا۔ ان سب کا رروائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ا ُن لو گو ں کی حر کت ہے جو بظاہر مسلمان تو ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقت میںیہ لوگ مسلمان تو کیا انسان تک کہلانے کے مستحق نہیں۔

اسی دن صبح 2 بجے 9دہشت گرد و ں نے پاک فضائیہ کے کامرہ ایئربیس پر حملہ کیا جس کو سپاہی آصف اور اس کے سا تھی جوانوں نے ایئر کموڈور اعظم کی قیادت میں بہادر ی اور جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عز ا ئم کو نا کا م بنا یا۔ ا س حملے میں سپا ہی آ صف او ر اس کے ایک ساتھی نے جام شہادت نوش کیا ۔ ایئر کموڈور اعظم نے قائدانہ صلاحیتیوں کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے زخمی ہو نے کے باوجود دہشت گردوں کو شکست دی ۔ اس حملے میں فضائی نگرانی کرنے والے ایک طیارے کو معمولی نقصان پہنچا۔ سوال پید ا ہوتا ہے کہ آخر یہ کو ن سے ہاتھ اور کون سی طاقتیں ہیں جو پاکستان میں انارکی پید ا کر کے ایک مسلم ایٹمی طاقت کو ختم یا کمزور کرنے کے درپے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والے کوئی اور نہیں ہمار ے اپنے ہیں، جو چند سکوں کی خاطر معصوم لوگوں پر خود کش حملے جیسے غیر اسلامی اور قبیح فعل کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ بہرحال دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اصل وجوہات کا جاننا اور ان کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ بیرونی جاسوسی ادارے ، ہمارے اندرونی ملکی مسائل مثلاً بیروز گار ی ، غربت، فرقہ وارادیت، قومیت پرستی ، جاہلیت، اقر باءپروری، ناانصافی اور معاشرتی ناہمواری کا فائدہ ا ُٹھاتے ہوئے مقامی باشندوں کو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں اور پھر یہی بیرونی طاقتیں اپنے ڈیزائن ا و ر مفادات کے تحفظ و تکمیل کے لئے ایجنڈا وار کام کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے اندر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مذمت کھلے عام کرنی چاہے۔

پاکستان اپنی تار یخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے ۔ سیاست دانوں ، مذہبی رہنماﺅں، حکومتی اداروں، ایوانوں اور عوام کو اپنے تمام باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان اندرونی و بیرونی عناصر کے خلاف ا ُٹھ کھڑا ہو نے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جہاں حکومت پر بیروز گاری، غربت ، جاہلیت، اقرباءپروری، نا انصافی اور معاثرتی نا ہموار ی کے خا تمے کی ذمہ دار ہے، وہیں مذہبی رہنماﺅں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ معاشرہ کے اندر سے فرقہ وارادیت، قومیت پرستی جیسے نا سوروں کا خاتمہ کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔ اس طرح امریکہ کو ڈروان حملے روک کر افغانستان سے جانا ہو گا اور اسی میں خطہ کی بھلائی ہے۔

مزید : کالم