جیالا ازم اور عمران خان کے کارکن

جیالا ازم اور عمران خان کے کارکن

غالبا پی ٹی وی کے اس پروگرام کے میزبان نعیم بخاری اور مہمان سلمان تاثیر تھے۔ سلمان ان دنوں سیاست سے کنارہ کش تھے۔ دوران گفتگو نعیم بخاری نے پوچھا:”یہ جیالا ازم.... جیالا ازم کیا ہے؟۔ جواب ملا: ”ضیاءالحق کی آمریت کے دنوں میں شاہی قلعے کی دیواروں کے پیچھے پاکستان کا کم عمر ترین سیاسی قیدی ،زبیر شاد، بھی بند تھا۔ رات کے سناٹوں میں جب قیدی خاموشی کی زبان میں باتیں کر رہے ہوتے، یہ قیدی تشدد کی پرواہ کئے بغیر، جئے بھٹو کے نعرے لگانے لگتا۔ کم سنی کا تشدد اور جئے بھٹو کے نعرے....یہی جیالا ازم ہے“۔

جن دنوں سلمان تاثیر کا یہ انٹرویو نشر ہوا، زبیر شاد، مرتضی بھٹو کے لئے راہ ہموار کر رہے تھے۔ اسی بناءپر پیپلز پارٹی ان سے نالاں بھی تھی۔ سلمان تاثیر کے اس انٹرویو نے پارٹی کی ہائی کمان میں ہلچل مچا دی۔ معتوب اور باغی کارکن کی تعریف کرنے پر جواب طلب کیا گیا، لیکن سلمان تاثیر نے گوجرانوالہ کے انتہائی غریب گھرانے میں جنم لینے والے، بھٹو کے عاشق ، زبیر شاد کے بارے میں کہے اپنے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا۔ سچائی اور دلیری کی یہ داستان پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے دلوں میں گھر کر گئی۔ بقول زبیر شاد اس انٹرویو کے بعد پاکستان بھر سے غریب کارکنوں نے اتنی کثیر تعداد میں شکریے کے خطوط، سلمان تاثیر کے گھر روانہ کئے کہ ٹھیک ٹھاک ڈھیر اکٹھا ہوگیا۔ آج نہ تو زبیر شاد دنیا میں موجود ہیں اور نہ ہی غریب پرور سلمان تاثیر۔ دونوں انتقال کر چکے ہیں، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آنے والے دنوں میں زبیر شاد کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ہلا دینے والی داستان ہے۔

 سلاخوں سے رہائی پانے کے بعد یہ قیدی جب باہر نکلا تو بچپنا جوانی میں ڈھل چکا تھا۔بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں۔ زبیر شاد اور اس جیسے پیپلز پارٹی کے درجنوں سیاسی اسیر وں کو اسلام آباد بلایا گیا۔ وہاں تقریب کے دوران بدمزگی ہوگئی اور ان جیالوں پر تشدد کرکے باہر نکال دیا گیا۔ چند ماہ اِدھر اُدھر دھکے کھانے کے بعد انہیں احساس ہوا ،جس بھٹو اور نظریئے کی خاطر انہوں نے اپنے بچپن کی شرارتیں اور نوعمری کے خواب داﺅ پر لگائے تھے، وہ رخصت ہو چکا تھا۔ اسی دوران میر مرتضی بھٹو نے زبیر شاد سے رابطہ کیا۔ نتیجے کے طور پر پیپلزپارٹی کی طرف سے زبیر شاد کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ پھر میر صاحب بھی شہید کر دیئے گئے۔ نامکمل تعلیم، ہنر سے دوری اور نامساعد مالی حالات کی بناءپر زبیر شاد کی زندگی تلخیوں میں گھلتی چلی گئی۔ ایک وقت آیا، جب وہ گھر تک محدود ہوکر رہ گئے۔ اسی دوران ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے عہدیداروں نے اسے ڈاکٹر صاحب سے ملوایا۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی عزت افزائی فرمائی۔ زبیر شاد پیپلز پارٹی چھوڑ کر عوامی تحریک میں شامل ہوگئے۔

 ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف اپنے کارکنوں کو زبیر شاد کا احترام کرنے کو کہا ،بلکہ ماہانہ مشاہرہ بھی مقرر کر دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب بھی آہستہ آہستہ سیاست سے کنارہ کش ہوتے چلے گئے۔ زبیر شاد واپس گھر آگئے۔ یہاں حالات مزید ابتر ہو چکے تھے۔ دونوں بڑے بھائی فالج اور شوگر کی خطرناک سٹیج پر پہنچ چکے تھے۔ سارے خاندان کی کفالت اس پر آن پڑی اور وہ کفالت کہاں سے کرتا؟ قرض در قرض کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ اس نے دن کی روشنی میں گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا۔ دوست احباب بھی منہ موڑ گئے اور ایک دن پتا چلا زبیر شاد خود کینسر کی آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہے، پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ موت کی دیوی اپنے اس بالک کو لینے آن پہنچی، جس نے بھٹو کے خلاف ضیاءالحق کی وعدہ معاف گواہ بننے اور مراعات حاصل کرنے کی پیشکش ٹھکر ا دی تھی، جسے بے نظیر بھٹو اس وقت سے جانتی تھیں، جب اس کی عمر فقط 14سال تھی، جس نے اپنی شادی کے کارڈ پر بھٹو کی تصویر لگائی تھی، جس کے ولیمے پر بیگم نصرت بھٹو بغیر اطلاع کے چلی آئی تھیں۔ جس نے آزاد حیثیت سے کونسلر کا الیکشن لڑا اور طاقتور مخالف کو بھاری مارجن سے شکست دی۔

 وہ زبیر شاد خود تو دُنیا سے رخصت ہوگیا، لیکن اپنے پیچھے لاتعداد سوال چھوڑ گیا؟ سب سے بڑا سوال یہ کہ سیاسی جماعتوں کی نظر میں کارکنوں کی ”اصل حقیقت“ کیا ہوتی ہے؟ وہ کارکن جن کی محنت کی بدولت لیڈر مقبولیت اختیار کرتے ہیں ، جن کے دن رات کے پروپیگنڈے کے باعث لوگوں کی رائے عامہ بدلتی ہے، جنہیں نہ روزگار کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اہل و وعیال کی ضرورتوں کی، جن کی کتابوں میں غمی اور خوشی کا تصور پارٹی کی مضبوطی تک محدود ہوتا ہے.... وہ کارکن خود کیا ہوتے ہیں؟اک ہوا کا جھونکا۔ اک ٹشو پیپر۔ اک سختیاں سہنے والی مشین۔ مخالفین سے ٹکر لینے والے خدائی فوج دار۔ پارٹی کی خاطر گلی محلوں میں دشمنیاں پالنے والا بیوقوف۔ آخر یہ سیاسی کارکن کیا ہوتے ہیں؟ سچی بات تو یہ ٹھہری کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں جتنی حق تلفی کارکنوں کی ہوتی ہے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف آئیے۔ عمران کی مقبولیت میں بنیادی کردار کارکنوں کی جنونیوں جیسی شب و روز کی محنت ہے۔ ان کارکنوں میں وہی جوش و خروش نظر آرہا ہے، جو کبھی پیپلزپارٹی کے ورکروں کا وتیرہ تھا۔ کارنر میٹنگیں ہوں یا جلسے، تھڑوں کے بحث مباحثے ہوں یا سنجیدہ جگہوں پر مدلل گفتگو۔ فیس بُک پر ہوشربا حد تک مسلم لیگ(ن) ، پیپلزپارٹی کے بخیے ادھیڑتا پروپیگنڈہ ہو یا لوکل میڈیا سے خوشگوار ذاتی تعلقات۔ یہ کارکن اس قدر جی جان سے محنت کر رہے ہیں، کبھی کبھی شبہ ہوتا ہے، جیسے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی ان کے لئے زندگی موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ کئی ایسے کارکن دیکھے جن کی سنگت میں پورا پورا دن گزارنے کا موقع ملا۔ کیا مجال جو عمران خان سے ہٹ کر بات ہوئی ہو۔ ان کارکنوں کی اپنے قائد کے ساتھ اتنی عقیدت دیکھ کر جہاں حیرانی ہوتی ہے ،وہیں یہ ڈر بھی لگتا ہے کیا عمران خان بھی جواب میں اپنے ان مخلص ساتھیوں کی عزت نفس کا خیال رکھ پائیں گے ؟۔

 یہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی حد سے بڑھی ہوئی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ کسی دوسری پاکستانی سیاسی جماعت کے کارکن اپنی ٹاپ لیڈر شپ پر اتنی کھل کر تنقید کرنے کی جرا¿ت نہیں کر پاتے، جتنی کہ یہ کر رہے ہیں۔ آج کل عمران خان کو ہر شہر میں کارکنوں کی طرف سے اسی سوال کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے کہ کامیابی کا وقت آیا تو انہیں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟۔ ذرا پنجاب پر نظر دوڑائیں۔پی ٹی آئی یوتھ کے صدر محمد مدنی نے تحریک انصاف کی خاطر اپنا روشن کیرئیر داﺅ پر لگا ڈالا۔ پولیس کی مار کھائی۔ گرفتاریوں کے عمل سے گزرے۔ مختصر وسائل کے باوجود پنجاب کے طول و عرض میں یوتھ کے کارکنوں کو اس محنت سے تیار کیا کہ آج ہر گلی محلے میں نوجوانوں کی فوج ظفر موج نظر آرہی ہے، لیکن پھر کیا ہوا؟

 بیک جنبش قلم محمد مدنی کی جگہ ابرار الحق کو صدر بنا دیا گیا۔ اب ابرار الحق کیا ہیں۔ نہ عملی سیاست سے تعلق، نہ کارکنوں سے روابط، ابرار تو حسب معمول ان ادھیڑ عمر گویوں کی طرح سیاست میں پناہ لینے آئے، جو اپنے ہی گائے گانے سن سن کر بیزار ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر عمران خان نے بھٹو کا سحر توڑنا ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہئے، بھٹو نے مخلص کارکنوں سے قریبی روابط کی بدولت شہروں کے شہر فتح کئے۔ آج پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت اور کارکنوں میں فاصلہ اس قدر بڑھ رہا ہے کہ محبتیں پرائی، چہرے اجنبی اور تعلقات معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ خان صاحب مقبول فیصلے کیجئے۔ اگر الیکشنوں میں خدانخواستہ انیس بیس ہوگئی تو تمام نئے پنچھی اُڑ جائیں گے۔ کل کو بھی اگر کوئی عمران خان کے پیچھے کھڑا ہوا تو وہ صرف مخلص کارکن ہوں گے۔ وہ کارکن ، جنہیں آپ زبیر شاد جیسے جیالے کی مانند بے قدری کی راہوں پر ڈال چکے ہیں۔

مزید : کالم