صدر اوباما کا جواب

صدر اوباما کا جواب

امریکہ میں یہ انتخابات کا سال ہے، موجودہ صدر باراک اوباما دوسری ٹرم کے لئے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ عام طور سے اگر بہت زیادہ مخالفت نہ ہو تو صدر کو دوسری ٹرم بھی مل جاتی ہے۔ جارج بش نے عراق، افغانستان پر حملہ کیا تھا اور امریکہ کے بہت سے لوگ اس کے مخالف تھے، پھر بھی وہ دوسری مرتبہ انتخاب جیت گئے تھے۔ خیر ان کی کیا بات ہے۔ وہ تو پہلی بار بھی ”بس آگئے تھے“۔ جارج بش نے جو کچھ کیا، اسے صاف کرنے کے لئے اوباما آئے۔ حالات اتنے بگڑ چکے تھے کہ ابھی تک قابو میں نہیں آئے۔باراک اوباما نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا، جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، اس لئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 یہ درست ہے کہ انتخابات میں امیدواروں پر ہر قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ کم سے کم ہم یہ سننے کے عادی ہیں، کیونکہ ہمارا تعلق تیسری دنیا سے ہے، جہاں انتخابات کے بعد امیدواروں کے وہ وہ کام سامنے آتے ہیں کہ عام آدمی بھی پریشان ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں الزامات کا سلسلہ اب زور شور سے جاری ہے کہ اب تعلق تیسری دنیا سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ بزرگ صحیح کہتے ہیں.... صحبت کا اثر ہوتا ہے.... صدر اوباما پر امریکی فوج کے سابق عہدےد داروں کے ایک گروپ نے الزام لگایا ہے کہ اسامہ کی ہلاکت کو صدر اوباما اپنی انتخابی مہم میں استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بہت سے راز اور حساس معلومات افشا کیں۔ اس موقع پر صدر اوباما نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گروپ ان کے سیاسی مخالفین سے ملا ہوا ہے، اس لئے ایسی باتیں کر رہا ہے۔

صدر اوباما پر انتخاب سے پہلے اور بعد میں بھی یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان کا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے ہے، جو افریقہ میں رہتا ہے۔ صدر اوباما کے والد مسلمان تھے اور جب وہ ملائشیا میں تھے تو اوباما کی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے میں ہوئی، حالانکہ باراک اوباما اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ عیسائی ہیں، لیکن ان کی بات کوئی نہیں سنتا۔ امریکی پریس یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ اوباما کا جھکاو¿ مسلمانوں کی طرف ہے۔ کیونکہ اُنہوں نے قاہرہ یونیورسٹی مصر میں اپنی تقریر سے پہلے”السلام علیکم“ کہا تھا۔ اس کے علاوہ جب وہ سعودی عرب کے شاہ سے ملے تھے تو سر تعظیم میں جھکایا تھا ۔ اکثر اسلامی تہذیب و روایات اور مذہب کا حوالہ دیتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ امریکی میڈیا اور مخالفین یہ نہیں دیکھتے کہ صدر اوباما نے عراق، افغانستان اور پاکستان میں کوئی رعایت نہیں کی۔ صدر بش کے زمانے میں اگر شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملہ ہوتا تھا، تو اُس کے مقابلے میں اب 100 ہوتے ہیں۔ تب چند لوگ مرتے تھے۔ اب سینکڑوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

صدر اوباما کی کوششوں سے امریکہ کا سب سے بڑا دشمن تلاش ہُوا اور اُسے ختم کر دیا گیا۔ اس کا سہرا موجودہ امریکی حکومت کے سر ہے۔ وہ اس کا ڈھنڈورا پیٹے یا خاموش رہے، لیکن عوام تو جانتے ہیں کہ یہ سب اوباما کے دور میں ہوا۔ اگر انتخابات کے دوران اس کی تشہیر نہ بھی کی جائے تو یہ ایک روشن حقیقت ہے، جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے سابق فوجیوں کا گروپ جو الزام لگا رہا ہے وہ بھی انتخاب کا حصہ ہے، کیونکہ جب الزام لگایا جائے گا، تو وہ بات سامنے آئے گی۔ اس کے بعد تردید ہوگی تو پھر دوبارہ وہ بات عام ہوگی۔ یوں خوب تشہیر ہوگی۔ کیا خبر جو لوگ اوباما کی انتخابی مہم چلا رہے ہوں، انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس پر بھی کسی کو کیا اعتراض؟ صدر اوباما نے امریکہ کے لئے جب ایک کارنامہ کیا ہے تو اسے تسلیم کیا جانا چاہئے۔

صدر اوباما کے چار سال افراتفری اور معاشی بحران کے رہے، کیونکہ یہ سب جارج بش نے جاتے ہوئے تحفے میں دئیے تھے۔ اگر تیسری دنیا کا کوئی ملک ہوتا تو ہزار بار اس بات کا ذکر ہو تاکہ یہ سب سابقہ حکومت کا کیا دھرا ہے، لیکن امریکہ میں پرانی روایت ہے کہ نیا آنے والا جانے والے کی ہر بات کو اپنا لیتا ہے۔ ایسا ہی صدر اوباما نے کیا۔ ان کے دور میں سب سے زیادہ پاکستان سے تعلقات بگڑے۔ پچھلے سال سلالہ چیک پوسٹ پر پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مراسم میں دراڑ پڑ گئی، جس کے بعد نیٹو سپلائی بند ہوئی۔ امریکہ کے لئے یہ بہت مشکل بات ہے، لیکن اوباما انتظامیہ نے اس پر پوری طرح قابو پانے کی کوشش کی اور کر رہی ہے، اس لئے امریکہ اور دنیا بھر کے فائدے میں یہی بات ہے کہ صدر اوباما کو مزید چار سال دئیے جائیں تاکہ انہوں نے اپنے پہلے انتخاب کے وقت تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا، اس پر عمل کر سکیں۔

مزید : کالم