کل کیا ہو گا؟

کل کیا ہو گا؟

ایک روز باقی ہے، کل عدالت عظمیٰ کا بڑا بنچ پھر سے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے جواب کی سماعت کرے گا۔ اس روز وزیراعظم کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔ تادم تحریر حکمرانوں نے ابھی تک یہ حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ راجہ پرویز اشرف عدالت میں پیش ہونے کے لئے جاتے بھی ہیں یا نہیں، اُن کے پیشرو مخدوم سید یوسف رضا گیلانی تو تین بار حاضر ہوئے اور آخری حاضری پر ہی اُن کو توہین عدالت کا مجرم قرار دے کر تا برخاست عدالت سزا دی گئی جو منٹوں میں بھی نہیں، سیکنڈوں میں پوری ہو گئی تھی کہ فاضل جج مختصر فیصلہ سناتے ہی اُٹھ کر چلے گئے اور عدالت برخاست ہوئی، جس کے ساتھ ہی سزا بھی پوری ہو گئی اور سید یوسف رضا گیلانی حیرت زدہ رہ گئے۔ بہرحال سزا یافتہ ہونے ہی کی بناءپر اُن کی رکنیت ختم ہوئی اور پانچ سال کے لئے نااہل بھی ٹھہرے۔ اب راجہ پرویز اشرف کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی اور راجہ پرویز اشرف کی بطور وزیراعظم نامزدگی سے اب تک پلوںکے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا حتیٰ کہ پارلیمنٹ نے توہین عدالت کا ایک نیا قانون منظور کیا جو عدالت عظمیٰ نے سرے سے ہی کالعدم قرار دے دیا اس پر واویلا مچا جو ابھی تک جاری ہے۔ حکمران جماعت اور اتحادی پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف سے واضح کیا جاتا ہے کہ ہر کام آئین و قانون کے مطابق ہونا ہے اور آئین کی تشریح کا اختیار عدالت عظمیٰ کے پاس ہے۔ یوں یہ صورت حال محاذ آرائی کی سی بن گئی۔ اب عدالت عظمیٰ کے فاضل بنچ نے موجودہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو نوٹس دے رکھا ہے کہ وہ27اگست تک سوئس حکام کو خط لکھ دیں، اب یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ایک وزیراعظم کے ساتھ جو سلوک ہوا دوسرے کے ساتھ اس سے مختلف تو نہیں ہو سکتا۔ اسی بناءپر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ سوموار کو راجہ پرویز اشرف کی قسمت کا بھی فیصلہ ہو جائے گا اور ان کو گھر جانا پڑے گا۔ یہ طریق کار سے لاعلمی کی بات ہے اگر موجودہ وزیراعظم بھی اپنے جواب میں خط لکھنے سے انکار کرتے ہیں تو ان کو بھی توہین عدالت کے الزام کا سامنا ہو گا اور عدالت باقاعدہ نوٹس دے گی، جس کے بعد ہی بحث اور پھر فیصلہ ہو گا۔

اس عرصے میں بہت بحث ہو چکی، بہت دلائل لائے جا رہے ہیں اور اب حکمرانوں کے درمیان مشاورت کا انداز ہی تبدیل ہو گیا ہے۔ ایک بڑا طبقہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے مصر ہے کہ وزیراعظم کو سپریم کورٹ نہیں جانا چاہئے خود اٹارنی جنرل ببانگ دہل کہتے ہیں کہ اگر مَیں وزیراعظم ہوتا تو کبھی نہ جاتا، وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ صدر کے بعد ملک میں سب سے بڑا عہدہ وزیراعظم ہے ، باقی سب بعد کے عہدے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ اٹارنی جنرل کی طرف سے یہی مشورہ ہے اور تادم تحریر اس حوالے سے مشاورت بھی ہو رہی ہے، ممکن ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک یہ طے ہو چکا ہو کہ وزیراعظم جاتے ہیں یا اُن کی طرف سے صرف جواب داخل کیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے کہ اس معاملے کے سیاسی پہلو اور معروضی حالات پر بات کی جائے یہ عرض ضروری ہے کہ اس بار راجہ پرویز اشرف کا دفاع استثنیٰ کے حوالے سے ہو گا۔ اٹارنی جنرل نے اس سلسلے میں مضبوط مو¿قف کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعظم ملک کے آئینی چیف ایگزیکٹو ہیں ان کو اپنے فرائض کی بجاآوری کے حوالے سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ ان کو نہ تو کوئی عدالت طلب کر سکتی ہے اور نہ ہی ان سے سرکاری امور کے حوالے سے باز پُرس کی جا سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ یہ اُن کی ذاتی رائے اور مشورہ ہے جو وزیراعظم کو دیں گے۔ اب عمل کرنا یا نہ کرنا ان (وزیراعظم) کی صوابدید ہے۔ اس سلسلے میں بڑے ایوانوں میں ہلچل ہے اور مشاورت کے لئے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمارے نامہ نگار کی اطلاع تو یہ ہے کہ اکثریت نے وزیراعظم کو پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

قارئین! ایک بڑی دلچسپ بات سامنے آئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فاضل جج کی طرف سے ریمارکس تھے کہ آئین سب کے لئے ہے اور آئین کے مطابق سب برابر ہیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کے علمبردار حضرات کا کہنا ہے کہ اگر یہ دلیل یا ریمارکس دیئے گئے ہیں تو پھر سب وزیراعظم کیوں نہیں؟ اس لحاظ سے آئین کی تشریح درست نہیں۔ آئین ہی نے یہ عہدے تفویض کئے اور وزیراعظم اور ایک شہری برابر کیسے ہو سکتے ہیں۔ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے یہ وزیراعظم بھی تو رکن اسمبلی بننے سے قبل ووٹر ہی تھے اور منتخب ہونے کے بعد ہی وزیراعظم بھی چنے گئے اِس لئے یہ حق تو عام شہری کا بھی بنتا ہے کہ وہ آئین ہی کی روشنی میں انتخاب میں حصہ لے کر رکن اور پھر وزیراعظم بنے۔

عام اطلاعات یہ تھیں کہ محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لئے کوئی راستہ نکالا جائے گا کہ عدالت عظمیٰ کا حکم بھی برقرار ر ہے اور وزیراعظم کا انجام بھی اپنے سے پہلے والے جیسا نہ ہو ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درمیان والی بات کہیں وجود ہی نہیں رکھتی۔ البتہ یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر سر تسلیم خم اور محاذ آرائی کی فضا ختم کر دی جائے، لیکن یہ بھی نہیں ہو رہا، اِس سے پہلے ایسا کیا گیا تاہم اب مختلف انداز سے سوچا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنے پہلے کالموں میں گزارش کی تھی کہ حکمران بھی جارحانہ انداز میں مدافعت کرنا چاہ رہے ہیں اور اب اٹارنی جنرل عرفان قادر کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ تو یہی تاثر دیتے ہیں۔ طریق کار تو یہ ہے کہ فاضل لارجر بنچ خط لکھنے سے انکار کی بناءپر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے گا اور استغاثہ اٹارنی جنرل ہی کو پیش کرنے کے لئے کہا جائے گا لیکن مشکل یہ آ پڑی کہ اٹارنی جنرل تو اپنے مو¿قف کا برملا اظہار کر رہے ہیں کہ وزیراعظم کے خلاف کارروائی ہو ہی نہیں سکتی، اِس لئے عدالت کو اس بارے مےیں بھی نیا انداز یا حکم دینا ہو گا۔ یہ فیصلہ بھی سوموار ہی کو ہو گا جو اب زیادہ دُور نہیں۔

ہمارے خیال میں اس بار وزیراعظم کے حوالے سے استثنیٰ کے دلائل سامنے آئیں گے اور پھر یہ مو¿قف بھی دہرایا جائے گا کہ پارلیمنٹ بالادست ہے، جس کا بنایا گیا قانون ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں یہ بھی دلیل لائی جائے گی کہ فاضل عدالت توہین عدالت والے قانون کو قطعاً کالعدم قرار نہیں دے سکتی تھی۔ البتہ یہ قانون متعلقہ دفعات کے حوالے سے سفارشات کے ساتھ واپس پارلیمنٹ کو بھیجا جا سکتا تھا کہ پارلیمنٹ ہی قانون بنانے اور اس میں ترمیم کی مجاز ہے۔

آج سے اگلے روز، یعنی ایک روز بعد جو صورت حال پیش آئے گی اس کے دور رَس سیاسی نتائج بھی سامنے آئیں گے۔ حکومت اور پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں اور طبقات کو یہ ایشو مل جائے گا وہ پہلے ہی عدلیہ کے ساتھ ہونے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کو اور بھی تقویت ملے گی اور پھر عدالت عظمیٰ کے فاضل چیف جسٹس تو کئی باتوں کا اظہار بہت واضح طور پر کر چکے ہوئے ہیں، اس لئے اس معاشرے میں جو تقسیم ہے وہ اور گہری ہو گی۔ بے یقینی تو اب بھی ہے اس بحران میں اور بھی اضافہ ہو گا اور نئی بحث بھی چلے گی۔

ہماری تو دلی خواہش ہے کہ انتخابات قریب ہیں۔ دُعا اور کوشش کرنا چاہئے کہ الیکشن وقت پر ہوں اور رائے دہندگان اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ اس لئے اب بحران سے بچنا اور کوشش کرنا چاہئے کہ یہ مراحل آرام سے گزر جائیں اور انتخابات بھی ہوں پھر آنے والی حکومت جو چاہے کرے۔ اس وقت معاشی، اقتصادی اور امن و امان جیسے سنگین بحران موجود ہیں۔ حکومتی رٹ متاثر کن نہیں۔ بیرونی خطرات اور جارحیت اپنی جگہ موجود ہے ایسے میں سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ حکومت کہتی ہے تو اسے ابھی سے نگران حکومت کے لئے مذاکرات شروع کر دینا چاہئیں تاکہ آئین ہی کے مطابق یہ کام بھی ہوں اور قوم اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی پسند کی جماعت کو برسر اقتدار لا سکیں۔ امن اور امن کے لئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔

مزید : کالم