جمہوریت کا حُسن

جمہوریت کا حُسن

مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ سیاسی جماعتوں کو کارکن کیسے مل جاتے ہیں؟ خود مَیں زمانہ طالب علمی میں ایک سیاسی کارکن رہا ہوں۔ اس وقت بھی یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ مَیں صبح سے شام تک سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ خجل خواری کیوں کرتا ہوں اور آج بھی اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے والے مفت کے کارکن سیاسی جماعتوںکو کیسے مل جاتے ہیں؟ حالانکہ یہ وہ جنس گراں ہے کہ جنہیں ملتی نہیں، وہ ساری زندگی اسے ڈھونڈتے رہتے ہیں اور جنہیں مل جاتی ہے، وہ انہیں الیکشن کے بعد اچھوت سمجھتے ہیں۔ اب پھر اس جنس کی طلب کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ انتخابات کا نقارہ بجتے ہی سب ”اقتدارئیے“ کارکنوں کی چا پلوسی کرنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیں گے، لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیاسی کارکن کیسے مومن ہیں جو ایک ہی سوراخ سے باربار ڈسے جاتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے کارکنوں کو سرمایہ قرار دیتے نہیں تھکتے، لیکن یہ وہ سرمایہ ہے، جسے وہ سوئس بینکوں میں رکھتے ہیں، نہ اپنی تجوریوں کی زینت بناتے ہیں، بلکہ اسے ٹشو پیپر کی طرح ڈسپوزایبل شے سمجھتے ہیں۔ یہ سرمایہ اس ریز گاری کی مانند ہے، جسے بوقت ضرورت ٹیلیفون بوتھ میں ڈال کر کال ملانے یا راہ چلتے فقیروں سے جان چھڑانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو جیالے اور متوالے کارکن مل جاتے ہیں۔ بہت سے دانشور اس بات کا کھوج لگانے میں توانائیاں ضائع کر رہے ہیں کہ ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو بیٹھے بٹھائے کارکن مل جاتے ہیں، جو ان پارٹیوں کے لئے بندہ بے دام بن کر کام کرتے ہیں۔ میرے پاس اس کا جواب موجود ہے، لیکن پہلے ایک سیاسی کارکن کے بارے میں میری معروضات سن لیجئے۔

وہ ایک جیالا کارکن ہے اور سارا ملتان اسے جانتا ہے، میرا اس سے اکثر واسطہ پڑتا ہے، کیونکہ وہ میرے گھر کے قریب ہی پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے اور میرا جدی پشتی ہمسایہ بھی ہے۔ مَیں جب اس جیالے سے ملتا ہوں، اس کے حوصلے، ثابت قدمی اور صبر و ضبط پر دل ہی دل میں داد دیتا ہوں۔ اس کا نام رفیق ڈوگر ہے۔ اس کے جیالا ہونے میں پیپلز پارٹی کو شک ہے، نہ مسلم لیگ کو۔ وہ تین مرتبہ پیپلز پارٹی کی خاطر جیل یاترا کر چکا ہے، ایک بار تو لانگ مارچ کے چکر میں راولپنڈی جا پہنچا، جہاں سے پولیس والے اسے ”سوغات“ سمجھ کر اڈیالہ جیل لے گئے تھے رفیق ڈوگر اڈیالہ جیل کو اس لئے نہیں بھولتا کہ وہاں اسے این ڈی خان، ملک حاکمین، جہانگیر بدر، عبدالقادر شاہین اور پارٹی کے دوسرے بڑے لیڈروں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ یہ اور بات کہ اس کے جیل کے یہ ساتھی جیل سے باہر آتے ہی اسے یوں بھول گئے، جیسے طوائف دن کی روشنی میں آشنا کو بھول جاتی ہے، لیکن رفیق ڈوگر کو اس بات کا کوئی دکھ نہیں۔ اسے تو اس بات کا بھی کوئی دکھ نہیں کہ پارٹی کے وہ ”وارداتیے“ جو انگلی پر لہو لگا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کا ہنر جانتے ہیں، پارٹی کے پہلے دونوں ادوار اور اب موجودہ دور حکومت میں ”مار دھاڑ“ کر کے کاروں اور کوٹھیوں والے بن گئے۔ بڑے عہدے بھی پا گئے اور خوشحالی میں بھی نہا گئے، جبکہ وہ وہیں کھڑا ہے، جہاں ہوش سنبھالنے کے بعد اس کے باپ نے ایک ریڑھی سمیت اسے درخت کی صورت گاڑ دیا تھا۔

وہ 30 سال پہلے بھی ریڑھی لگاتا تھا ، آج بھی ریڑھی گھسیٹتا ہے۔ پہلے اکیلا تھا، اب بیوی بچوں والا ہے۔ پہلے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے دن رات ایک کرتا تھا، اب بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے لئے اپنا تن من جلاتا ہے۔ پارٹی سے اس نے جو واحد ”مفاد“ حاصل کیا، وہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں خدام الحجاج کے قافلے میں شامل ہو کر حجاز مقدس جانا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے اس سے بڑی سعادت اور کیا مل سکتی تھی۔ کچھ لوگ پلاٹ لے کر خوش ہو گئے، کچھ نے پرمٹ اور قرضے لے کر اپنی دنیا سنوار لی، لیکن مجھے یہی اطمینان ہے کہ میری آخرت کا کچھ سامان ہو گیا۔

اس کی یہی باتیں مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ جیالا کرمانوالہ نہیں، وہ صرف جیالا ریڑھی والا ہے اور ریڑھی کو اپنی اصل اوقات سمجھتا ہے۔ اس نے سیاست کی گنگا میں ہاتھ دھو کر خود کو چودھری صاحب، ڈوگر صاحب اورسردار صاحب نہیں بنایا، وہ ڈوگر ریڑھی والا ہی رہا۔ وہ تو پارٹی سے اپنے ان دنوں کا حساب بھی نہیں مانگتا جو اس نے جیل میں گزارے۔ وہ تو یہ بھی نہیں بتاتا کہ جب وہ جیل میں تھا، تو اس کے بیوی بچوں پر کیا گزری، جنہیں وہ روزانہ کما کر کھلاتا تھا؟ وہ کوئی آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی، مخدوم جاوید ہاشمی نہیں تھا، جن کے جیل جانے پر ان کے بچوں کو فاقے نہیں دیکھنے پڑتے۔ وہ تو یہ بھی نہیں کہتا کہ دکھ جھیلنے والی فاختاﺅں کے انڈے کھانے والے ”کوے“ ہمیشہ پارٹی کی اگلی صفوں میں عزت و احترام سے نوازے جاتے رہے ہیں اور آج بھی ایسے لوگوں کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں ہیں۔

رفیق ڈوگر نے مشکل گھڑیاں دیکھنے کے باوجود ”لوٹا“ بننے کے بارے میں سوچنے کا گناہ بھی نہیں کیا۔ اسے پارٹی میں رکھنے کے لئے کسی ترمیم کی ضرورت پیش آئی اور نہ دوسروں کی دیکھا دیکھی اسے یہ خیال آیا کہ وہ پارٹی تبدیل کر لے۔ وہ کل بھٹو کا دیوانہ تھا، آج اس کی بیٹی کا شیدائی ہے، وہ پارٹی وفاداری بدلنے کو ایک گالی سمجھتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر لڑنے مرنے کو بھی تیار ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی وہ تھی، جب برسوں پہلے بے نظیر بھٹو کے صدر بازار (ملتان) سے گزرتے ہوئے جلوس کے دوران اس نے دل میر دہی والے سے دودھ کی بوتل بھروا کر بی بی کو پیش کی تھی، جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر کے اپنے ہونٹوں سے لگا لیا تھا۔

عام حالات میں رفیق ڈوگر کسی کو یاد نہیں آتا، لیکن جب شہر میں پارٹی کا کوئی بڑا جلسہ ہو، حکومت کے حق میں نعرے لگوانے ہوں، یا دور اپوزیشن میں پولیس کی لاٹھیاں کھانے کا مرحلہ در پیش ہو تو پارٹی کے طرم خانوں کو رفیق ڈوگر یاد آجاتا ہے۔ اسے وہ لمحہ نہیں بھولتا، جب 1997ءمیں بی بی نے جنوبی پنجاب میں عوامی رابطے کی مہم کے سلسلے میں ملتان آنا تھا رفیق ڈوگر کی حیرت اور خوشی اس وقت آپے سے باہر ہو گئی، جب اس نے دیکھا کہ شاہ محمود قریشی، یعنی خانوادئہ قریشی کا مخدوم یعنی سابق وزیر، یعنی بی بی کا مصاحب، یعنی اولیاءکی دھرتی کا بہت بڑا سجادہ نشین بنفس نفیس پجارو میں بیٹھ کر اس کی ریڑھی پر آیا۔ اس وقت اسے لگا جیسے اس کی ریاضت کام آگئی، جیسے اس کی ثابت قدمی نے وڈیرا شاہی کو شکست دے دی، جیسے وہ ڈوگر سے ڈوگر صاحب ہو گیا۔ اس وقت پہلی بار اسے اپنی ریڑھی بہت اچھی لگی۔ اپنی زمین پر مضبوطی سے قدم جمائے رکھنا بھی باعث عزت و توقیر بن جاتا ہے۔

 پھر جب شاہ محمود قریشی نے اسے مخاطب کر کے کہا: ”ڈوگر صاحب! بی بی آرہی ہیں، آپ ان کے استقبال کے لئے کچھ کریں، صدر بازار میں بینرلگوائیں، جھنڈے لہرائیں، اس میں ہم سب کی عزت ہے“ تو اسے یوں لگا جیسے وہ ذرہ بے مایہ نہیں رہا، وہ مولو مصلی بھی نہیں رہا، واقعی صاحب بن گیا ہے، وہ ایک ایسی اینٹ ہے جو وڈیروں کو سپورٹ دیتی ہے، ایک پتھر ہے جو نظام کے ستون بناتا ہے، ایک چنگاری ہے جو شعلوں کو ہوا دیتی ہے، ایک لفظ ہے جو گنگ زبانوں کو گویائی عطا کرتا ہے۔ بس اسی خمار میں اس کی زبان پر یہ جُملہ آگیا۔ ”بینروں اور جھنڈوں کے لئے پیسے کون دے گا؟“.... ”ڈوگر صاحب پارٹی کے لئے قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں“ ....شاہ محمود قریشی کا یہ جملہ سن کر وہ کسی عاشق صادق کی طرح لا جواب ہو گیا۔ عشق کرنے والے کبھی کچھ مانگا نہیں کرتے۔ وہ یہ جملہ سن کر چپ ہو گیا، اگر وہ جیالا کرمانوالہ ہوتا تو پھٹ پڑتا۔ چلا چلا کر پوچھتا کہ قربانیاں دینا کیا صرف کارکنوں کی ذمہ داری ہے؟ دو وقت کی روٹی کمانے والوں سے ان کا وقت بھی مانگتے ہو اور روٹی بھی چھین لینا چاہتے ہو؟ ان کروڑوں اربوں روپوں کو ہوا کیوں نہیں لگواتے جو کارکنوں کی قربانیوں کے صدقے میں ملنے والے اقتدار کی ”برکت“ سے بینکوں میں جمع ہو چکے ہیں، لیکن رفیق ڈوگر نے ایسا کچھ نہیں کہا، بلکہ اپنے بچوں کے منہ سے نوالا چھینا اور صدر بازار کے مکینوں نے دیکھا کہ بی بی کی آمد پر سب سے بڑا بینر رفیق ڈوگر کی طرف سے لگا ہوا تھا۔

اب مَیں آتا ہوں اس سوال کی طرف کہ سیاسی جماعتوں کو رفیق ڈوگر جیسے جیالے اور متوالے کارکن کیسے مل جاتے ہیں؟ جہاں کوئی ایک گھنٹے کے لئے بھی کسی کی مفت نوکری نہیں کرتا، وہاں سیاسی جماعتوں کے پاس بیگار بھگتنے والے ہزاروں لاکھوں کارکن کیوں ہیں؟ شاید اس کا جواب یہ ہے کہ نظام بدلنے کی خواہشمند تو پوری قوم ہوتی ہے، لیکن جو لوگ اس سلسلے میں زیادہ بیتاب ہوتے ہیں، وہ کارکن بن کر سیاسی جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ صبح نو کی امید میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ استحصالی نظام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے نعروں سے متاثر ہو جاتے ہیں، وہ نیک کام میں نیک نیتی سے حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، وہ جیلوں میں جاتے ہیں، کوڑے کھاتے ہیں، اپنی روزی قربان کرتے ہیں، اپنی نیندیں حرام اور اپنی زندگی برباد کر لیتے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں رفیق ڈوگر ہو یا دوسرے سیاسی کارکن، یہ لوگ بہت عظیم لوگ ہیں، یہ لوگ دھرتی کا اصل مان ہیں، یہ انہی سر پھرے، مگر ثابت قدم کارکنوں کی دیوانگی کا نتیجہ ہے کہ سیاست دانوں کی تمام تر حماقتوں، مفاد پرستیوں اور لوٹ مار کے باوجود پاکستان میں جمہوریت چل رہی ہے، یہ جمہوریت کا اصل حسن ہیں، جسے کبھی اقتدار میں حصہ وار نہیں بنایا گیا، اگر کارکن اقتدار میں شریک ہو جائیں تو شاید جمہوریت اس قدر بد نما نظر نہ آئے، جیسی کہ نظر آتی ہے۔

مزید : کالم