مذہب اور سائنس: قربتیں اور فاصلے (3)

مذہب اور سائنس: قربتیں اور فاصلے (3)

 ڈاکٹرپول کنگ سے سوال یہ کیا گیا تھا کہ سائنس کی دنیا میں بعض قوانین ایسے بھی ہیں،جو عام سائنسی فارمولوں اور قوانین سے مستثنیٰ ہوتے ہیں اور ان کو”قوانینِ تحفظ“ یا Conservation Lawsکا نام دیا جاتا ہے۔ان قوانین کی رو سے کیایہ گنجائش نکلتی ہے کہ اس کائنات کے فناشدنی ہونے کے برعکس اس کی بقاءکی کوئی امید ہو.... ٭اس کا جواب ڈاکٹر صاحب نے یوں دیا تھا:

جواب:یقینا سائنس کو علم ہے کہ بعض اشیاءبالکل ہی معدوم نہیں ہو جاتیں، مثلاً آپ توانائی کے تحفظ یا بقاءکا معاملہ ہی لے لیں۔توانائی یقینا باقی رہتی ہے، لیکن تھرموڈائنامکس کی تھیوری بتاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کم سے کم کارآمد ہوتی چلی جاتی ہے.... یہ توانائی پھر حرارت میں بدل جاتی ہے اور جب انرجی، حرارت کا روپ دھارتی ہے تو اسے بہت سے کاموں میں استعمال نہیں لایا جا سکتا۔دوسرے لفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہوا کہ یہ کائنات رفتہ رفتہ اپنے انجام کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔البتہ یہ درست ہے کہ اس کائنات کے بعض حصے ایسے ہیں جو پانی کے بہاﺅ کی سمت نہیں، بلکہ الٹی سمت میں تیرتے ہیں، لیکن تخلیق آدم اور حضرت آدم کو آگہی کی ددیعت، اس سے مختلف بات ہے۔باایں ہمہ حقیقت یہی ہے کہ نوعِ انسانی بھی آخر اسی انحطاط اور فنا کا شکار ہوکے رہے گی۔میرا خیال یہ ہے کہ اگرچہ ”تحفظ“ کی یہ تھیوری کچھ نہ کچھ کام ضرور کرے گی،لیکن آخر کار ساری کائنات کا انجام نوشتہ ءدیوار ہے۔

٭....مَیں یہاں ایک بار پھرقارئین سے ”دخل در معقولات“ کی معذرت چاہوں گا....بعض قارئین کو شائد ”تھرموڈائنامکس“ کے بارے میں زیادہ آگہی نہ ہو۔ان حضرات کے لئے تھوڑی سی تشریح شائد معلومات افزا ہو....یہ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ”تھرمو“ کامعنیٰ حرارت ہے اور ”ڈائنامکس“ کا معنیٰ گردش یا حرکت ہے۔

تھرموڈائنامکس، نظریاتی فزکس کی وہ برانچ ہے،جس میں حرارت اور گردش کے موضوعات کی سٹڈی کی جاتی ہے ۔اس سٹڈی میں حرارت کو انرجی کی دوسری اقسام میں تبدیل کرنے کا عمل بھی شامل ہے۔اس کے دو اصول بہت اہم اور مشہور ہیں....پہلا اصول وہ ہے،جس میں انرجی کے ”قانونِ تحفظ“ کے اس پہلو پر بحث کی جاتی ہے ،جو کسی شے کی ”اندرونی انرجی“ میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے.... اور دوسرا اصول یہ ہے کہ تھرموڈائنامکس بجائے خود ایک قانون ہے،جس کا اطلاق مادے کے بہت چھوٹے ذرات پر نہیں ہوتا۔

مجھے احساس ہے کہ فزکس کے اصول و قوانین کے بارے میں اردو زبان کی یہ تشریحات اکثر قارئین کی سمجھ میں مشکل سے آئیں گی۔ نظریاتی فزکس کے بیشتر موضوعات یوں بھی بہت فلسفیانہ سے ہوتے ہیں اور ان کا ادراک کرنے کے لئے ایک خاص نوع کے علمی اور تعلیمی پس منظر کی ضرورت ہے۔ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ اصول اور یہ قانون روبہ تغیر رہتے ہیں، مثلاً تھرموڈائنامکس برانچ کا دوسرا اصول بیشتر سائنس دانوں کے ہاں قبول عام نہیں پا سکا اور باطل ہوچکا ہے۔سطور بالا میں ہم نے سائنس دانوں کے اسی استدلال پر تبصرہ کیا تھاکہ کائنات کی ہر چیز فانی ہے۔سب کوآخر میں فنا ہوجانا ہے۔صرف وقت کی فصیل بیچ میں حائل ہے۔یہ وقت ایک لمحہ بھی ہو سکتا ہے اور اربوں کھربوں سال بھی....اب سائنس دان یہ دعویٰ بھی کرنے لگے ہیں کہ کائنات اپنے منطقی انجام (فنا) کی طرف نہیں بڑھ رہی، بلکہ ایک ایسے سفر پر گامزن ہے ،جس میں معیار کی برتری ہوگی، نئے امکانات اور نئی امیدوں کے آفاق روشن ہوں گے اور وہی زندہ اور باقی بچے گاجو آزمائشوں اورامتحانوں کی باریک ترین چھلنی سے گزر کر زندہ رہ سکے گا۔ بعض فلاسفہ یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ یہی دنیا ہوگی جو اس تطہیری عمل سے گزر کر فردوس بن جائے گی۔مسلسل جدوجہد اور مسلسل گردش کا انجام لاحاصل نہیں ہوگا۔کائنات کسی انجمادی دور سے نہیں گزرے گی، بلکہ عروسِ زیست کی زلفیں اس مسلسل شانہ گری (Combing)سے اور نکھر جائیں گی....اقبال کا یہ شعر یاد آرہا ہے:

فطرتِ ہستی شہیدِ جستجو رہتی نہ ہو

خوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہو

اب ہم ڈاکٹر پول کنگ کے انٹرویو کی طرف لوٹتے ہیں:

آپ کہیں گے کہ اس گومگو کی کیفیت سے سائنس دانوں کی مراد کیا ہے۔اب ذرا یہ خیال کیجئے دنیا نے تو بہر کیف فنا ہوجانا ہے ۔لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ سائنس کی داستان ہی واحد داستان نہیں۔ مذہب کی بھی ایک داستان ہے جو ایک عمودی سٹوری ہے اور جو سائنس کی افقی سٹوری کو سہارا دے کر اوپر اٹھا لے جاتی ہے۔ خداوند قدوس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ بڑا صادق اور وعدے کا پکا(Faithful)ہے۔وہ اچھی، قیمتی اور پسندیدہ چیزوں کو غائب ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔میرا عقیدہ ہے کہ نوعِ انسانی کے لئے اور نیز کائنات کی ہر چیزکے لئے ،موت سے ماوراءبھی ایک تقدیر اور ہے۔یہ سٹوری وہ ہے کہ سائنس جسے بیان کرنے سے قاصر ہے، کیونکہ اس سٹوری کا تعلق تمام تر خدا کی صداقت پر اساس رکھتا ہے۔میں مکرر عرض کروں گا کہ خدا صادق اور امین ہے اور میرا اس عقیدے پر یقینِ کامل ہے کہ نوع انسان کا مستقبل مادی موت کے بعد بھی باقی ہے۔ہماری یہ تقدیر، پوری کائنات کے ساتھ وابستہ ہوگی، کیونکہ خدا کی تمام مخلوق، خدا کو یکساں عزیز ہے۔

یہ ایک عظیم سٹوری ہے.... بہت ہی عظیم....امیدوطمانیتِ قلوب کی سٹوری.... سائنس تو اس کارخانہ رنگ و بو کا انجام فنا اور تباہی کے سوا کچھ اور نہیں بتاتی، لیکن میرا خیال ہے یہ صرف مذہب ہے جو فنا کے برعکس ایک بہت اطمینان بخش منظر پیش کرتا ہے۔

سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ آفرینشِ کائنات کی غائت کیا ہے؟....اور کیا یہ غائت قابل قبول بھی ہے؟....لیکن اب اس سوال کا جواب دریافت کرلیا گیا ہے اور اس کی سمجھ بھی اب آنے لگی ہے۔سائنس اسی مسئلے کے حل کی جستجو میں ہے اور اس عالی شان دنیا میں جو عظیم ربط و ضبط اور نظم و انتظام پایا جاتا ہے، اس کی سمجھ اب آنے لگی ہے.... لیکن عجیب بات ہے کہ جب یہ سمجھ آنے لگی ہے تو سائنس یہ کہہ رہی ہے کہ اس عالیشان دنیا کا انجام تباہی ہوگا!....میرا خیال ہے کہ سائنس کے برعکس مذہب کے نقطہ ءنگاہ سے اس کا انجام انتشار(Choas)نہیں، بلکہ نظم کائنات (Cosmos) ہے! لیکن میرا یہ اعتقاد اور یہ ایمان، مذہب کے نقطہ ءنگاہ پر استوار ہے،نہ کہ میری سائنسی سوجھ بوجھ پر!

....................

سوال:انسانی زندگی کا طول و عرض بہت محدود ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس محدود سی زندگی کو ہم لامحدود اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی سے جا ملاتے ہیں۔یہ بتایئے کہ تخیل کی اس پرواز میں انسانی شعور کا کتنا رول ہے؟

جواب:انسانی زندگی بہت تہہ درتہہ اور بہت پیچیدہ ہے۔یہ لاتعداد سمتوں میں آپریٹ کرتی ہے۔اس زندگی میں ہر طرح کے انسانی وجدان(Intuitions)ہیں،جن میں سے کئی ایسے بھی ہیں،جن کا کچھ بھی عرفان ہمیں حاصل نہیں۔لیکن جو انسانیت کا ایک بہت اہم جزو ہیں.... میں اس بات کو ایک سادہ سی مثال پیش کرکے بتانا چاہتا ہوں۔

فرض کریں کہ آدھی رات جا چکی ہے۔ایک بچہ کوئی خواب دیکھ کر ڈرجاتا ہے اور جاگ اٹھتا ہے۔بچے کی والدہ یا والد اس کو دلاسا دیتے ہیں اور کہتے ہیں:”کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا“۔آپ یہ بات کئی بار دہراتے ہیں....اب یہاں ذرا رک کر سوچئے کہ آپ کے اس جملے کا مطلب کیا ہے؟ ....کیا والدین بچے سے جھوٹ بول رہے ہیں؟....حقیقت تو یہ ہے کہ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں ، وہ سرطان اور اسی قسم کی دوسری بے شمار بیماریوں اور ابتلاﺅں کی دنیا ہے۔ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں،جس میں ہم سب کو معلوم ہے کہ ہم نے مر جانا ہے۔تو پھر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مرنے سے سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا؟....بظاہر اس کا جواب تو یہ ہونا چاہیے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہوگا۔لیکن اس بات کے باوجود ایک گہرا وجدان ایسا ہے جو کہہ رہا ہے کہ آخر میں سب ٹھیک ہو جائے گا اور بچہ صحت مند ہو جائے گا....یہی انسانی وجدان ہے جو امید پر استوار ہے اور جانتا ہے کہ اگرچہ موت برحق ہے، لیکن موت سے کچھ آگے بھی ہے.... اور اسی ”آگے“کا نام حیاتِ بعدِ ممات ہے! ( ختم شد)

مزید : کالم