ہندو بھارت نہ جائیں تو کہاں جائیں ؟(2)

ہندو بھارت نہ جائیں تو کہاں جائیں ؟(2)

سندھ میں آباد ہندو سمجھوتہ کرنا جانتے ہیں اور انہوں نے کڑے سے کڑے وقت میں سمجھوتے کئے ہیں۔ مسجد منزل گاہ کی تحریک کے وقت ، وزیر اعلی اللہ بخش سومرو کی حکومت کے خاتمے پر، سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے وقت، قیام پاکستان کے وقت ایوب کھوڑو اور ان کے رفقاءکی دانستہ ہندو بھگاﺅ تحریک کے باوجود ہندوﺅں نے اپنی دھرتی اور اپنی جنم بھومی کو نہیں چھوڑا تو آج تو وقت اتنا کڑا نہیں ہے ،جتنا گزر چکا، لیکن جان و مال کا تحفظ اور عزت برقرار رکھنے کے لئے اگر وہ بھارت جانے کا کہتے ہیں تو کیا غلط کہتے ہیں ۔ گزشتہ کئی سالوں میں ہندو آبادی کا ایک بڑا حصہ لاقانونیت سے تنگ آکر کراچی، حیدرآباد اور سکھر بھی تو منتقل ہوا ہے۔ پھر کیا پاکستان میں غالب آبادی رکھنے والے مسلمان ملک کی موجودہ صورت حال سے اس قدر تنگ نہیں آچکے ہیں کہ ہر شخص چلا جانا چاہتا ہے، لیکن اکثریت اپنے جانے کی خواہش کے باوجود جا نہیں پاتی کہ جائے تو کہاں جائے۔ ہندو بھارت نہ جائیں تو کیا کریں۔ کراچی سے بھی تو وہ لوگ جو سرمایہ رکھتے ہیں، اپنا سرمایہ سمیٹ کر بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں۔

 مختلف تنظیموں سے وابستہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ ہندو نوجوان لڑکیوں کے اغواءکی مسلسل وارداتوں،زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے پے در پے واقعات ، بچوں کے اغواءبرائے تاوان کی وارداتوں ، تاجروں کا اغواءاور تاوان کی وصولی کے بعد رہائی یا پھر ان کا قتل ، پوری برادری کے لئے خوف کا سبب بن گیا ہے۔ یہ ان کا جلتا سلگتا مسئلہ ہے۔ سندھ کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ انہیں جب علم ہوتا ہے کہ ہندو عورتوں کو اغواءکیا گیا ہے تو انہیں دکھ ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود وزیر اعلی نے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ اس بات کی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کیوں نہیں تحقیقات ہو سکی ، تاکہ یہ بات کھل کر سامنے آسکے کہ لڑکی اغواءہوئی ہے یا اپنی رضا سے اپنے والدین کے گھر سے چلی گئی ہے۔ اگر اس قسم کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں گی تو کسی کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ ہندو عورتوں کو اغواءکیا گیا ہے۔

 یہ بات بھی کسی این جی او نے یا حکومت نے یا کسی اور سرکاری ادارے نے پتہ لگانے کی کوئی سعی نہیں کی ہے کہ جو بھی لڑکیاں بقول ہندو سماجی رہنماﺅں کے، اغواءکی گئیں، بندوق کے زور پر ان کا مذہب تبدیل کرایا گیا یا انہوں نے اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص کے ساتھ شادی کرلی تو اب وہ لڑکی کن حالات میں زندگی گزار رہی ہے، لیکن یہاں تو واقعہ ہوتاہے، ، تھوڑا شور اٹھتا ہے اور ، شور تھم جاتا ہے اور وہ باب بند ہوجاتا ہے۔ این جی اوز کو پروجیکٹ چاہئے اور حکومت کے اداروں کو تو وہ کام کرنے ہیں ،جن میں قبل از وقت کمیشن مل سکے۔ بے حسی سی بے حسی ہے۔ انسانی حقوق کی این جی اوز ہیں، خواتین کے معاملات پر کام کرنے والی این جی اوز ہیں، حکومت کا محکمہ سماجی بہبود ہے ان لوگوں کو یہ ذمہ داری ادا کرنا چاہئے، تاکہ حقیقی صورت حال لوگوں کے سامنے لائی جاسکے۔ وزیر اعلی سندھ دکھ کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی چھان بین کا تو حکم دے سکتے ہیں، تاکہ معاشرے میں انسانی اور اخلاقی قدریں بلند ہو سکیں۔ وہ لڑکیاں جو زبردستی اغواءہوئی ہوں یا اپنی رضا سے اپنی پسند کی شادی کر بیٹھی ہوں انہیں بھی یہ احساس ہو سکے گا کہ وہ تنہا نہیں ہیں، حکومت اور معاشرہ ان کی پشت پر ہے۔ وہ ایک پر وقار اور با اعتماد زندگی گزار سکیںگی۔ ایسی ہی صورت حال میں تو انہیں اعتماد اور پشت پناہی کی ضرورت ہے۔

پھر یہ لوگ اس طرح کا مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ حکومت قانون سازی کرے، تاکہ ان کی لڑکیوں کو مذہب کی تبدیلی پر اس طرح مجبور نہ کیا جاسکے۔ حکومت نے اب تک ایسے اقدامات نہیں کئے جن کے تحت یہ طے ہو کہ لڑکی اپنی رضا اور رغبت سے گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی ایسی لڑکیوں کے معاملات کو سنا ہے ۔ جو بھی فیصلے ہوئے ہندو برادری اس سے مطمئن نہیں نظر آئی ۔ ہندو لڑکیوں کو مسلمان کرنے سے قبل کم از کم چھہ ماہ کے لئے کیوں نہیں کسی ایسے ٹھکانے پر قیام کرایا جائے جہاں ہندو اور مسلمان دونوں متفق ہوں کہ لڑکی اپنی رضا سے مذہب تبدیل کر رہی ہے تو اسے مذہب سے آگاہی دی جائے۔ یہ کیا ہوا کہ لڑکی گھر سے گئی، اسے کسی درگاہ پر پیش کرکے کلمہ پڑھایا گیا اور اسے جو شخص مسلمان کرانے گیا اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا گیا۔ کیا کسی کو مسلمان کرنے کا یہ شفاف طریقہ ہے؟ کیا مسلمان گھرانے اپنی بیٹیوں کو اس طرح جا کر شادی کر لینے کی اجازت دیتے ہیں ؟ ہندو یہ اعلان کر نے میں کیوں حق بجانب نہیں ہوں گے کہ اگر ان کی لڑکی چلی گئی یا بھگائی گئی تو وہ اسے کاری قرار دے کر لڑکے سمیت ہلاک کردیں گے۔

جیکب آباد یا بالائی سندھ میں تو جب کوئی مسلمان لڑکی اپنی پسند کی شادی کرتی ہے تو عورت اور مرد دونوں کو کارو کاری قرار دے کر ہلاک کر دینا معمول اور غیرت کی بات قرار دیا جاتا ہے۔ آخر ہندو بھی تو انسان ہیں ان کی بھی تو غیرت ہے اور ان کی معاشرتی زندگی بھی تو بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر واویلا تو اٹھے گا ،لیکن غیر معمولی واقعات پر ابال کا پیدا ہونا تولازمی ہوتا ہے۔ ہندوﺅں کی تمام برادریاں متاثر ہیں۔ ان کا تعلق کہیں سے بھی ہو ۔ ہندو دھرم میں خواہ مہاراج یا برہمن ہوں (جو دھرم کے معاملات دیکھتے ہیں ) یا کھتری (جو بادشاہوں کے سپاہی ہوا کرتے تھے)، ویش (جو کاروبار کرتے ہیں ) ہوں یا شودر (جو خدمت گزار قرار دئے جاتے ہیں )۔ شودروں میں بھیل ، کوہلی، میگوااڑ سب ہی متاثر ہوئے ہیں ۔ کم ذات والے، اونچی ذات والے، کم پیسے والے، زیادہ پیسے والے، غرض کئی گھرانوں کی سماجی زندگی متاثر ہو ئی ہے ۔ میں یہ بات دہرا رہا ہوں کہ کہاں ہیں تعلیم یافتہ لوگ،ڈاکٹر، وکیل، اساتذہ، صحافی،تاجر، سماجی کارکن، سیاسی کارکن، پیش امام، مبلغ،غرض معاشرے کے وہ لوگ جن کی آواز پر ہر کوئی کان دھرتا ہے۔ کسی کی بیٹی اغواءہو اور معاشرہ کھڑا ہو جائے تو کسی کی کیا مجال ہو سکتی ہے کہ وہ زمین پر پیر جما سکے ۔ کوئی حادثہ ہو، یا کوئی واقعہ ، کوئی لٹ جائے، کسی پر تیزاب پھینک دیا جائے، کسی کو قتل کر دیا جائے، ہجوم لگ جائے گا ،لیکن کرے گا کوئی بھی کچھ نہیں، کیونکہ یہاں تو ہر کوئی تماش بینی میں مگن ہے اور اسی میں مگن رہنا چاہتا ہے۔ یہ برصغیر کے لوگوں کا اجتماعی مزاج ہے۔ لوگ صرف تماش بینی کرتے ہیں اور کچھ نہیں ۔(ختم شد)

مزید : کالم