موبائل فون اور کاروباری دہشت گردی

موبائل فون اور کاروباری دہشت گردی

 وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے واضح اعلان کے باوجود دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے موبائل فون بند کر دینے کا امکان ان دلوں میں بھی وسو سے پیدا کر رہا ہے، جن کا معروف معنوں میں دہشت پھیلانے سے دور دور کا تعلق نہیں ۔ یہ وسوسے ذاتی ابلاغ کی سہولت سے محرومی کے علاوہ معاشرت اور معیشت کے اہم سوالوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ یوں آپ اس اعتراف کو میری خود غرضی ہی کہیں گے کہ موبائل سروس مستقل بند کر دینے کی خبر پر مجھے اپنے باطن کے کسی گوشے میں ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا تھا ، ایک انتقامی نوعیت کی ”ہور چوپو “ ٹائپ کی خوشی ۔ اگر میری طرح جیل روڈ سے شاہراہ ایوان تجارت کی طرف رائٹ ٹرن لیتے ہوئے آپ کو بھی ”اوہ کتھے او‘ ‘ کی لمبی آواز سے شروع ہونے والی نصف درجن یومیہ کالیں سننے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ بھی اس خفیہ مسرت میں میرے طرفدار ہو جائیں گے ۔

 اس میں شک نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب گھنٹی بجتے ہی کال کنندہ کی شناخت ہو جاتی ہے اور ”فون الیہ“ بھی کار یا موٹر سائیکل روکے بغیر ”خط کا مضموں بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر‘ ‘ ۔ اس ”بھانپ ٹیکنالوجی“ کی بدولت ایک تو آپ کو موقع محل اور شخصیت کی مناسبت سے نہ صرف فوری جواب کا ڈرافٹ تیار کر لینے کی مہلت مل جاتی ہے ، بلکہ ایک مہذب چالاکی سے کام لیتے ہوئے آپ صوتی آہنگ ، ذخیرئہ الفاظ اور تپاک کا مطلوبہ معیار بھی سیٹ کر لیتے ہیں ۔ جیسے ’جی عثمان ، کیسے ہو ؟‘ ’ جناب عالی ! سب خیریت ، آپ کی دعا چاہئے ‘ ’سر ، سر ، بول رہا ہوں ، سر‘ ہو گیا ، سر ‘۔ اور پھر کبھی کبھار اسی سرسراہٹ کا طویل تر دورانیہ .... لیکن ضروری تو نہیں کہ کار چلاتے ہوئے آدمی نے نام اور نمبر پڑھنے کے لئے نزدیک کی عینک بھی لگا رکھی ہو ۔ دوسرے ٹریفک وارڈن سے بچنے کی کوشش بھی اضافی ٹینشن کا موجب بن جاتی ہے ۔

 ہم میں سے وہ لوگ جو ”مکاتیب غالب‘ ‘ اور ”غبار خاطر‘ ‘ کو مرزا کے ایس ایم ایس اور ابوالکلام کی ای میلوں میں بدلنے کا تصور نہیں کر سکتے ، آج بھی نوجواں سے آنکھ بچا کر اس وقت کو کسی نہ کسی بہانے یاد کر لیتے ہیں ، جب ہمارے بڑے شہروں میں بھی ایک مربع میل اوسط کے رہائشی علاقے میں ٹیلی فونوں کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی ۔ ہم نے پچاس کی دھائی میں دو دو ڈجٹ والے ، بغیر ڈائل کے ٹیلی فون ہی دیکھے ، جنہیں اٹھانے پر ”نمبر پلیز‘ ‘ کی صدا بلند ہوتی اور آپریٹر حسب فرمائش آپ کے نام کی کلی ، سیلیکٹرز کی مدد سے ، مطلوبہ خانے میں ڈال دیتا ۔ یہ تکلف تھا لوکل کال کے لئے ۔ دوسرے شہروں میں بات کرنے کے لئے ، جسے ٹرنک کال کہا جاتا تھا ، اس اصول کے تحت کہیں لمبا انتظار کرنا پڑتا کہ ”کیہہ ہوئیا تساں بولن چھڈئیا ، اساں ویکھن چھڈناں ناہیں‘ ‘ ۔

 سہولت کی کمیابی کے باعث اس دور میں جرمنی کا بنا ہوا کالے رنگ کا بھاری بھرکم ، بارعب ٹیلی فون عام شہری طبقے کے لئے بھی شاذ و نادر نظر آنے والی ایک ایسی چیز تھی کہ ”بس دور ہی سے دیکھ لیا اور چل پڑے ‘ ‘ ، چنانچہ ہم میں سے اکثر کا مشاہدہ صرف ریلوے پھاٹک پر نصب زمانہ قبل مسیح کے اس ٹیلی فون تک محدود تھا ، جس میں بولنے اور سننے کے آلے الگ الگ ہوتے ، اس لئے باقاعدہ فون استعمال کرنے کے لئے بڑے بڑے کاروباری اشخاص ، ذمہ دار دفتری اہلکاروں اور طب ، قانون یا صحافت کے بلند پایہ کارکنوں کو چھوڑ کر باقی لوگوں کو یہ سبق یاد رکھنے کے لئے شعوری کاوش کرنا پڑتی کہ فون کا ”چونگا“ تھام کر ایک موریہ حصہ کان کے ساتھ اور زیادہ سوراخوں والا منہ کے قریب رکھنا ضروری ہے ۔ بعض نے داس اینڈ چیٹر جی کی ”پالیٹکس میڈ ایزی‘ ‘ کے اصول پر یہ ذہن نشین کر لیا تھا کہ تار والا ”پاسا‘ ‘ بولنے کے لئے ہوا کرتا ہے ۔

 یہاں تک پہنچ جانے کے بعد آپ پوچھنا چاہیں گے کہ اگر پاکستانی قوم ”بے ڈائل“ سیاہ فام صوتی آلے سے لے کر نجی پی سی او اور پھر موبائل ٹیلی فون تک کا فاصلہ تیز رفتاری سے طے کر کے جنوبی ایشیا میں ”گنجانی ءابلاغ‘ ‘ کا اولمپک جیت گئی ہے تو ایک دہشت گردی والی بات کو چھوڑ کر اس ترقی پر کسی کو تکلیف کیوں ہے ؟ سچ پوچھیں تو یہ ”سوﺅ موٹو‘ ‘ سوال خود میرے لئے اچھے خاصے ”رپھڑ“ کا سبب بن سکتا ہے ، لیکن نہیں ۔ دہشت گردی کے امکانی تعلق کو ایک فنی سچائی کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، مگر زندگی کے باقی لوازمات بھی تو دہشت گرد کی انسانی ضرورت ہیں ۔ کیا ہم انہیں بھی خلاف قانون قرار دے دیں یا پاک افغان سرحد کے آر پار اسلحے کی فراوانی کے اسباب متعین کرنے کے لئے اس گورے صحافی کو ڈھونڈنے نکل پڑیں ، جس نے انیس سو اسی کی دہائی میں ”©افغان مزاحمتی افواج“ کو پہلی بار ”مجاہدین“ کہا تو ہم دور رس نتائج سے بے پروا ہو کر خوشی سے بغلیں بجا رہے تھے ؟

 لینڈ لائن کے سنہری عہد میں ٹی اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ کی شائع کردہ ڈائریکٹری میں ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کے آداب بھی درج تھے ۔ جیسے ہی گھنٹی بجنے پر فون اٹھائیں تو پہلے اپنا تعارف ، اور اس کے ساتھ ہی کال کرنے والا اپنی شناخت کرائے گا تاکہ دونوں فریق ایک ہی وقت میں ”ہیلو کون صاحب ، ہیلو کون صاحب ‘ کا ورد کر کے بامعنی بات چیت کے امکان کو ختم نہ کر دیں ۔ مجھے تکلیف کیا ہے ؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ جی ایس ایم سسٹم کا آواز کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں بدلنا اور پھر دوبارہ صوتی لہروں میں تبدیل کر دینا میری تکلیفوں میں پہلے نمبر پہ ہے ۔ حضرت علی کا قول ہے ”بولو تا کہ پہچان لئے جاﺅ“ ۔ ڈیجیٹل زدہ آواز آپ کی آواز کی انفرادیت ، خاندان ، جغرافیائی پہچان ، عمر ، صنف ، زمانی محل وقوع اور تعلیم و تربیت کے عطا کردہ انسانی اوصاف کو ”روبوٹک“ بنا نے کا رجحان رکھتی ہے ۔ مجھے صوتی شناخت سے محرومی کی یہ سازش پسند نہیں ۔

 ٹھیک ہے آپ کو میری بات کا مزا نہیں آیا ۔ ہو سکتا ہے یہ براڈکاسٹ جرنلسٹ کے طور پر میری حد سے بڑھی ہوئی حساسیت ہو ۔ پر یہ بھی تو سوچئے کہ ایس ایم ایس کے نام پر سپیلنگ ، گرائمر ، انگریزی کے چھوٹے بڑے حروف اور علامات وقف کے ساتھ ہم جو کچھ کر رہے ہیں ، کیا اسے بھی چلنے دیں ؟ اب آتی ہیں دینی تعلیمات ، شیخ سعدی کی حکائتیں ، بزرگوں کے اقوال زریں اور بے وزن اشعار ۔ اصلاح سخن کے شوق میں کئی دوستوں سے تعلقات بگاڑ لینے کے بعد اب ”شعری پیغامات‘ ‘ پر غور نہ کرنے کی عادت تو پکی کر لی ہے ، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ بعض احباب نے ایسے اخلاقی چشموں کے منہ کھول رکھے ہیں ، جن کا پانی پی پی کر آپ صرف ”جزاک اللہ“ پر مبنی جواب ہی روانہ کرسکتے ہیں ۔ جواب تو ہر بار پورے احترام سے ارسال کر دیا ۔ کوئی یہ بھی تو بتائے کہ اب ہر روز درجنوں ارشادات کیسے یاد رکھوں اور ان پر کیونکر عمل کروں !

 پنجاب میں بی بی سی کے نامہ نگار کے طور پر آج سے سولہ سال پہلے جب مَیں نے اپنا پہلا موبائل سیٹ خریدا تو صبح و شام لینڈ لائن کے ساتھ چپکے رہنے سے نجات مل گئی ۔ اس وقت میرا خیال تھا کہ یہ سہولت رپورٹروں ، آن کال ڈاکٹروں اور پیشہ ور سٹہ بازوں کے سوا کسی کے لئے کوئی افادیت نہیں رکھتی ۔ بینک روڈ ، راولپنڈی کے اولین ٹریفک کانسٹیبل جیسی مستقل مزاجی تو ہر کسی میں نہیں ہوتی ، جسے شملہ کلاتھ ہاﺅس کے باہر نہایت نرمی سے سمجھانا پڑا تھا کہ منہ میں سیٹی کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسان اسے وقفے کے بغیر مسلسل بجاتا ہی رہے ۔ لیکن ، جناب ! مو بائل کی سیٹی بجی اور بجتی ہی چلی گئی ، بالکل اسی جذبے کے ساتھ ، جس سے کام لے کر منفرد غزل گو جگر مراد آبادی مے نوشی سے تائب ہو نے کے بعد لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ جو بھی مسلمان ہے ، اسے نماز پڑھنی چاہئے ، جو مسلمان نہیں ، اسے بھی نماز پڑھنی چاہئے ۔

 غیر مسلم کو نماز پڑھوا دینے کی بہترین علامتی مثال مَیں نے انار کلی بازار کے اس معروف ڈیپارٹمنٹل سٹور میں دیکھی ، جہاں ایک خوش اطوار بزرگ ہمیشہ ایک مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ ہر نوجوان گاہک کا استقبال ”آﺅ بیٹے‘ ‘ کہہ کر کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد مکالمہ یہاں سے شروع ہوتا : ’ہاں بیٹا! کیا چاہئے“ ؟....بس جی ، تولیہ چاہئے ذرا بڑا ، نہانے کے لئے‘ ‘ ۔ اس پر سیلزمین کو ہدایت کی جاتی کہ ”بیٹے ! بھائی جان کو وہ تولیہ دکھاﺅ جو مَیں اپنے لئے لے گیا تھا“ ۔ یہ سن کر بھائی جان کی کیا مجال کہ تولیہ پسند نہ آئے ۔ رہا یہ اعتراض کہ رنگین ہو تو دھلائی کے بغیر زیادہ دن نکال لے گا ۔ کہا : ”بیٹا! رنگین کا میل جلد دکھائی نہیں دیتا ۔ بنیان ، رومال اور تولیہ ہمیشہ سفید لیا کریں ، ذرا گندہ ہوا تو دھلوا لیا ‘ ‘ ۔ اسی حسن اخلاق کا نتیجہ تھا کہ مدتوں اگر شیونگ برش لینے گئے تو تھری پیس سوٹ پہن کر باہر نکلے ۔ جب کبھی شرٹ خریدنے کا ارادہ کیا تو واپسی پر کچھ نہیں تو بارہ کپ پرچوں اور کوارٹر پلیٹوں کا ڈبہ ساتھ تھا۔

  موبائل فونوں کی بھر مار یقینی طور پر اس کاروباری اصول کا جیتا جاگتا نمونہ ہے کہ رسد اپنی طلب آپ پیدا کرتی ہے ۔ ظاہر ہے اسے جارحانہ مارکیٹنگ ہی کی بدولت ممکن بنایا گیا ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ انار کلی والے بزرگ بھی منافع کمانے کے لئے ”بیٹوں“ کا انتظار کرتے رہتے تھے ، مگر یہ انسانیت ملی سیلز مین شپ تھی اور وہ اس طرح کا ”جھاکا“ دے کر پیسہ کھینچتے محسوس نہیں ہوتے تھے کہ دیکھو مَیں تمہارا کتنا فائدہ کر رہا ہوں ۔ موبائل فونوں کی جارحیت کو دیکھ دیکھ کر صرف بینک روڈ والے کانسٹیبل کا خیال آتا ہے ، جو اپنی نا سمجھی سے صوتی آلودگی میں اضافہ کر رہا تھا ۔ ذرا گہرائی میں جائیں تو موبائل فون کے عام صارف کے نقطہ ءنظر سے پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ کنکشن میں کو ئی فرق نہیں ، کیونکہ مہینے کے بعد بل ادا کرنے والا بھی زر ضمانت کی شکل میں ساری ادائیگی پہلے ہی کر چکا ہوتا ہے ۔ بارہ کروڑ انسانوں کو سروس فراہم کرنے والے اگر برا نہ مانیں تو کانسٹیبل کی حرکت صوتی دہشت گردی تھی اور آپ کی حکمت عملی کاروباری دہشت گردی ہے ۔

مزید : کالم