تیاری

تیاری

تیاری کا تیر کمان میں ہےتیاری کا تیر کمان میں ہے، اب نکلا کہ اب نکلا!، اب نکلا کہ اب نکلا!

اگلے ہفتے کے آغازسے پورا پاکستان کسی نہ کسی تیار ی میں ہوگا، حتیٰ کہ بچے بھی سکول جانے کی تیار ی میں ہوں گے!

حکومت اپنی جگہ تیار ہوگی اور سپریم کورٹ اپنی جگہ ، سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن بھی تیار ہے یا نہیں...اللہ جانے سونامی کب لال حویلی سے لوٹے گا اور انقلاب کی تیاری کرے گا ، اب تو عمران خان اپریل 2013کی باتیں کرنے لگے ہیں!

اب سے پہلے ہم نے کبھی سحری کی تیاری کی تو کبھی افطاری کی اور پھر عید کی تیاریوں میں لگ گئے، حکومت کبھی سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی تیاری کرتی نظر آئی تو کبھی پیش نہ ہونے کی تیاری کرتی نظر آئی، امریکہ ڈرون حملوں کی تیاری میں رہا اور ہم ڈرون حملوں پر ردعمل کی تیاری کرتے رہے، الیکشن کمیشن ووٹر لسٹوں کی تیاری میں رہا تو حکومت نگران حکومت کی تیاری میں رہی، فوجی ناکے دہشت گردی کی روک تھام کی تیاری میں رہے تو وزیر داخلہ رحمٰن ملک میں موبل فون سمز پر پابندی کی تیاری کرتے رہے، یعنی ہم اتنی ساری تیاریاں کر چکے ہیں کہ اب کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں ہو پارہا!

ملک میں گڈ گورنینس کا فقدان ہے کیونکہ فوج سیاست کے لئے تیار نہیں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ناکام ہوتی جا رہی ہے کیونکہ سیاستدان جنگ کے لئے تیار نہیں ہیں!

صدر زرداری کبھی بلدیاتی انتخابات کا عندیہ دیتے ہیں تو کبھی عام انتخابات کا ، بجلی کے مارے ہوئے‘ مہنگائی کے مارے ہوئے ٹاک شوز کے مارے ہوئے اور کالموں کے مارے ہوئے عوام کسی ایک کے لئے بھی تیار نہیں ، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو حکومت نے اپنی ڈھال بنایا ہوا ہے ، امریکہ اپنی تیاری کررہا ہے، طالبان اپنی تیاری کررہے ہیں، فوج اپنی جگہ تیار ہے تو حکومت اپنی جگہ ، اگر کوئی تیار نہیں ہے تو عوام تیار نہیں ہیں، اور جو کچھ تھوڑے بہت ہیں ان میں آدھے اس طرف تیار ہیں اور آدھے اُس طرف تیار ہیں!...یوں بھی پاکستان میں وقت پر تو کوئی بھی تیار نہیں ہوتا، اچھے وقت کے لئے برے وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے، برا وقت ہر وقت پیچھے پڑا رہتا ہے!

پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں، اب اگلے پانچ سال کی تیاری کرنا ہوگی، پرانی قسم کی تیاری بالکل نئے انداز میں، خواہ نتیجہ پرانی طرح کی تبدیلی کی صورت میں ہی کیوں نہ برآمد ہو، ایسی پرانی تبدیلی پرانی قسم کی بوریت پیدا کرے گی اور ہم نئی قسم کی تبدیلی کی آنچ میں تپنا شروع ہو جائیں گے کیونکہ اس دفعہ کی تبدیلی تو براستہ لال حویلی ہوتی نظر آرہی ہے!

ادھر حکومت تیار ہے کہ وہ وزیر اعظم کو سپریم کورٹ نہیں بھیجے گی، ایسی تیاری ہے تو پھر پچھلے وزیر اعظم کو کیوں بھیجا تھا، اگر وہ غلطی تھی تو سزا صرف ایک وزیر اعظم کو کیوں ملے، باقیوں کو بھی ملنی چاہئے۔وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی عید توعید کے بعد کی تیاری میں گزر گئی ہوگی ، سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی طرح نہیں گزری ہوگی کہ جو بقول شاعر کاجل کی ، غازے کی گل کاری کے بعد/وہ حسیں لگتا ہے لیکن کتنی تیاری کے بعد۔لگا کرتے تھے !

سپریم کورٹ کل ایسا مقدمہ سنے گی جس کے لئے وکیل تیار ہوگا نہ موکل کیونکہ حکومت کی تکراربے اثر ہو چکی ہے، اصرار بے ثمر ہو چکا ہے، اب کچھ ہو سکتا ہے تو لڑائی ایکشن سے بھرپور اظہار ہی ہوسکتا ہے، فیصل رضا عابدی نے تو پہلے ہی لفظوں کی لڑائی شروع کردی ہے، کبھی کبھی لگتا ہے کہ وہ ملک ریاض کے سکرپٹ کا بقیہ حصہ پڑھ رہا ہے، یہ الگ بات کہ ملک ریاض کی تیاری اپنی تھی اور فیصل کی تیاری اپنی ، پتہ نہیں فیصل آف کیمرہ کیا گفتگو کرتا ہوگا، ویسے جتنی تیاری اس نے کر رکھی ہے اسے آف کیمرہ گفتگو کی ضرورت نہیںپڑتی ہوگی ،جس پروگرام میں وہ ہوتا ہے احتیاطاًاس کے وقفے مختصر رکھے جاتے ہیں !

چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت اب اتنی کم رہ گئی ہے کہ انہیں بے کار کے غم پالنے کی ضرورت نہیںہے، انہیں چاہئے کہ وہ صرف ان کی سنیں جن کے پاس درست بریف ہے اور ان کی ذرہ برابر پرواہ نہ کریں جوغلط بریف اٹھائے پھر رہے ہیں، یوں بھی فیصل رضا عابدی کچھ بھی کرلیں ، ان کی خواہش ان کے خوف سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی اور ان کا عمل ان کے الفاظ سے بڑا نہیں ہو سکتا!

مزید : کالم