پاکستانیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت

پاکستانیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت

پاکستانیوں اور پاکستانی کمپنیوں کو بھارتی سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے حصص خریدنے کی بھی اجازت دیدی گئی ہے، ریزرو بینک آف انڈیا نے اسے بھارت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سکیم کا حصہ قرار دیا ہے، تاہم دفاع اور ایٹمی توانائی سمیت بعض شعبوں میں سرمایہ کاری پاکستانیوں کے ممنوع ہو گی اور جہاں وہ سرمایہ کاری کرنا چاہیں گے اس کے لئے بھارت کے سرمایہ کاری بورڈ سے پیشگی اجازت لینا ہو گی، بعض دیگر پابندیاں بھی ہوں گی۔

بعض حلقے اس سرمایہ کاری کو پاکستانیوں کے لئے ایک اچھا موقع قرار دیتے ہیں تاہم ان لوگوں کی بھی کمی نہیں جن کا خیال ہے کہ پاکستانیوں کو دشمن ملک بھارت میں سرمایہ کاری نہیں کرنی چاہئے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ پاکستانی اس سرمایہ کاری کے موقع سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں یا نہیں اور اس کے نتیجے میںخود انہیں بھی کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں، تاہم دونوں ملکوں میں اب تجارت آہستہ آہستہ وسعت پذیر ہے، پاکستان کے دو بینکوں، نیشنل بینک آف پاکستان اور یونائیٹڈ بینک کو بھارت میں برانچیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، اسی طرح ایک بھارتی بینک پاکستان میں برانچیں قائم کرے گا، تجارت کے لئے دستیاب اشیا کی فہرست وسیع ہو رہی ہے اور نگیٹو فہرست سکڑ رہی ہے۔ لیکن ایک ایسے ماحول میں جب اعتماد افزا اقدامات کے باوجود دونوں ملکوں میں اعتماد کا بدستور فقدان ہے اور دونوں ملکوں میں آنے جانے میں مشکلات ہیں اس بات پر زور تو بہت دیا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے شہری ایک دوسرے ملک میں آئیں جائیں لیکن آنے جانے میں رکاوٹیں بدستور بہت زیادہ ہیں ، دونوں ملکوں کے شہریوں کو اپنی آمد کی اطلاع پولیس سٹیشن پر دینی پڑتی ہے اور پھر ہر روز یہ عمل دھرانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں تو پھر بھی بھارتیوں کو کافی سہولتیں ہیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ بھارت میں پاکستانیوں کو کافی مشکلات درپیش ہوتی ہیں حتیٰ کہ بعض پی سی او تو پاکستانیوں کو ٹیلی فون کی سہولت تک فراہم نہیں کرتے کہ بعد میں انہیں پوچھ گچھ کا سامنا ہوتا ہے۔ البتہ جو اعلیٰ سطح کے وفود آتے جاتے ہیں ان سے ذرا بہتر سلوک کیا جاتا ہے ان دنوں پاکستان کا ایک پارلیمانی وفد بھارت میں ارکان پارلیمنٹ سے مذاکرات کر کے وہی پرانے مطالبے دھرا رہا ہے جو سال ہا سال سے کئے جا رہے ہیں۔ یعنی آمد و رفت اور ویزے میں آسانیاں پیدا کی جائیں، یہ مطالبات تو اپنی جگہ بہت جائز ہیں لیکن معلوم نہیں خرابی کہاں ہے کہ اس ضمن میں پیشرفت ہی نہیں ہوتی اور معاملہ سا ہا سال سے جامد و ساکت نظر آتا ہے، دونوں ملکوں میں بظاہر بسیں چلتی ہیں لیکن ان بسوں کے اندر مسافر کم اور باہر سکیورٹی زیادہ ہوتی ہے، ویزہ ملک گیر نہیں بلکہ چند مخصوص شہروں کا ہوتا ہے اور پولیس رپورٹنگ اس پر مستزاد ، بد اعتمادی کے اس ماحول میں کون سرمایہ کاری کرنے بھارت جائیگا؟ اور جو جائیگا اس کے لئے یہ کام آسان نہیں ہو گا، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملک اپنے تنازعات نیک نیتی اور خوش دلی سے حل کریں۔کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات کریں، ڈیڈ لائن مقرر کریں اور دونوں ملک خوش اسلوبی کے ساتھ بات آگے بڑھائیں،ہوتا یوں ہے کہ اگر ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں، پھر کوئی چھوٹا موٹا واقعہ ہوتا ہے تو دونوں ملک پہلے کی طرح خانہ نمبر ایک میں جا کھڑے ہوتے ہیں، بھارت کا خیال ہے کہ تجارت ہوتی رہے گی تو سارے مسائل وقت کے کولڈ سٹوریج میں پڑے پڑے ٹھنڈے ہو جائیں گے اور پھر پاکستان کشمیر کا نام بھی نہیں لے گا، لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ مسائل کولڈ سٹوریج میں رکھنے یا امریکی اصطلاح میں ”بیک برنر“ پر رکھنے سے حل نہیں ہوتے غور و فکر سے راہ نکلتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور انہیں نیک نیتی سے حل کیا جائے، پھر تجارت بھی ہوتی رہے گی اور سرمایہ کاری بھی،ورنہ جب تک فضا پر بداعتمادی کی گھٹا چھائی رہے گی اس وقت تک آگے بڑھنا بہت ہی مشکل ہو گا۔

مزید : اداریہ