ہسپتالوں میں تشدد اور توڑ پھوڑ

ہسپتالوں میں تشدد اور توڑ پھوڑ

 سول ہسپتال کراچی کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے احتجاجاً اس وقت تک ایمرجنسی خدمات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے، جب تک ہسپتال کے ایک ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملے کے رکن کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد گرفتار نہیں کر لئے جاتے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے ایک زخمی کو ہسپتال لایا گیا۔ اسے گولیاں لگی تھیں اور حالت بے حد تشویشناک تھی۔ ہسپتال کے سٹاف کے مطابق آپریشن کر کے اس کی آنت کا ایک حصہ نکالنا پڑا۔ اس دوران مریض کو لانے والے مسلح افراد سرجیکل وارڈ اور آپریشن تھیٹر میں گھومتے رہے اور ڈیوٹی ڈاکٹرز اور ہسپتال کے سٹاف کو ہراساں کرتے رہے۔ جمعہ کی صبح زخمی انتقال کر گیا ، جس کے بعد اس کے ساتھ آنے والوں نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور سرجن ڈاکٹر عمیر الاسلام اور آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن محمد اکرم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمیر کو ان کے سٹاف نے ایک ایمرجنسی کیس کے لئے بلایا تھا لیکن مریض کے لواحقین ان پر بھی حملہ آور ہوگئے۔ اس حملے میں ان کے چہرے، ناک اور گردن پر چوٹیں آئیں۔ اس واقعہ پر میڈیکل کے شعبہ سے متعلقہ کراچی سمیت ملک بھر کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے احتجاجی اجلاس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں اکثر اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اجلاس میں شریک ڈاکٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کے تدارک کے لئے ہسپتالوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے۔

یہ درست ہے کہ بعض اوقات کسی عزیز کے بچھڑنے کا غم الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس موقع پر جذبات بے قابو ہو جاتے ہیں اور انسان غصے میں ایسا بہت کچھ کہہ اور کر گزرتا ہے جس کا وہ عام حالات میں تصور بھی نہیں کر سکتا، لیکن اس کے باوجود کوئی بھی بات ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کا جواز نہیں ہو سکتی۔کراچی کے سول ہسپتال میں ہونے والا واقعہ بے حد افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ مریضوں کے لواحقین کو سمجھنا چاہئے کہ ڈاکٹر ان کی خدمت کے لئے ہسپتال میں مامور ہیں۔ عموماً سرکاری ہسپتال گنجائش سے کہیں زیادہ مریضوں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر کم ہیں اور مریض بے حد زیادہ۔ نتیجتاً سرکاری ہسپتالوں کے بیشتر ڈاکٹر ڈیوٹی ختم ہونے کے کئی کئی گھنٹے بعد بھی لوگوں کے علاج میں مصروف رہتے ہیں۔ ان حالات میں عین ممکن ہے کہ کوئی بھول چوک بھی ہو جائے، لیکن غلطی اور دانستہ غفلت میں فرق کرنا بے حدضروری ہے۔ سول ہسپتال میں لایا جانے والا مریض انتہائی تشویشناک حالت میں لایا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق بروقت آپریشن کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر سے کوئی شکایت پیدا ہو بھی جائے تو کیا اس پر تشدد کر کے غصہ ٹھنڈا کیا جانا چاہئے؟....اس صورت میں بھی متعلقہ اتھارٹی کو شکایت کی جانی چاہئے، قانون ہاتھ میں لینا کسی صورت صحیح راستہ نہیں۔ اس واقعہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی مزید سوالات اٹھے ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد سیکیورٹی پر مامور ہیں۔ اتنے سیکیورٹی اہلکاروں کے باوجود مریض کے ساتھی اسلحہ لے کر ہسپتال میں دندناتے پھرتے رہے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے۔ ضروری ہے کہ ہسپتالوں میں میڈیکل عملے کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے اگر ایسا نہ کیا گیا، تو ممکن نہیں کہ ڈاکٹرز اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

کراچی میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ملک بھر میںاکثر اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ چند روز قبل لاہور کے سروسز ہسپتال میں ایک حادثے میں شدید زخمی ہونے والا نوجوان لایا گیا جو قریباً 1 گھنٹے بعد دم توڑ گیا۔ اس نوجوان کی ہلاکت کے بعد ساٹھ سے زائد افراد ہسپتال پر حملہ آور ہوگئے۔ ان کی جانب سے شدید توڑ پھوڑ کی گئی۔ کرسیاں اور میزیں توڑ دی گئیں اور قیمتی آلات چرا لئے گئے۔ ڈاکٹروں اور عملے نے خالی کمروں اور واش رومز میں چھپ کراپنی جان بچائی۔ مشتعل حملہ آوروں کا موقف تھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے توجہ نہ دینے کے باعث زخمی چل بسا۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ جو کچھ ان کے بس میں تھا، وہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے معاملہ کی چھان بین کے لئے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ، لیکن یہاں پر غور طلب بات ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے مبینہ غفلت کا جائزہ تو لیا جانا ہی چاہئے تھا لیکن یہ بھی ضروری تھا کہ توڑ پھوڑ کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ اگر اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہے تو کوئی ایک ڈاکٹر کسی مریض کو ہاتھ لگانے کو بھی تیار نہ ہوگا۔

 ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج اب تک جاری ہے۔ عوامی ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے ہڑتال تو واپس لے لی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب ان سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہی۔ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ہڑتال کی، ہم نے انہی کالموں میں شدید مخالفت کی تھی کہ اس کا خمیازہ غریب مریضوں کو بھگتنا پڑا۔ افسوسناک امر ہے کہ اب جب ڈاکٹروں کا اندازِ احتجاج پُر امن ہے تو ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔

یہ صورت حال وفاقی و صوبائی تمام حکومتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور اس بات کی عکاس ہے کہ صحت جیسے اہم شعبے میں سرکاری سطح پر کتنی دلچسپی ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں پُرتشدد واقعات روکنے کے لئے قانون سازی بھی کی گئی ے اور ذمہ دار کو تین سال تک سزا دی جاسکتی ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی ڈاکٹروں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور ان کے مسائل کے حل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ ہمارے ارباب اختیار خود تو معمولی سے معمولی مرض کا علاج بھی بیرون ملک سے کراتے ہیں اور اندرون ملک اس شعبے کو درپیش مسائل ان کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ باصلاحیت ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد ان مسائل سے تنگ آکر باہر کا رُخ کر چکی ہے اور کر رہی ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مریضوں کے لئے بھی ٹکٹوں کا بندوبست کر لیں اور انہیں لاکھوں ڈالر ادا کرنے کے لئے تیار رہیں تاکہ وہ بھی اپنے حکمرانوں کے نقش قدم پر چلنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

مزید : اداریہ