اہلِ فکر و نظر کا قابلِ ستائش مثبت کردار

اہلِ فکر و نظر کا قابلِ ستائش مثبت کردار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


                                    وطنِ عزیز پاکستان کو بعض طبقے اور حلقے اپنی جاگیر یا ہمیشہ کے لئے ماتحت سرزمین سمجھنے والے لوگوں کو، اس محدود سوچع، فکر اور تصور کو اب خیر باد کہنے پر مائل و راغب ہونے میں مزید کوئی تساہل اور تاخیر روا نہیں رکھنی چاہئے۔ بے شک بعض قدیم اقدار اور روایات تاحال یہاں مختلف شعبہءحیات میں رواں، رائج اور کسی بنا پر غالب و مسلط چلی آ رہی ہیں، لیکن گزشتہ چند دہائیوں کے عرصے میں آئین، قانون اور جمہوری اصول و اطوار کو فروغ دینے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ آج سے دس سال قبل محض چند ٹی وی چینل، عوام کو خبریں، اطلاعات اور تفریح کے بارے میں معلومات مہیا کرتے تھے، لیکن آج صورت حال کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کی بناءپر اکثر جرائم محض مختصر اوقات میں منظرِ عام پر آجاتے ہیں۔ یوں مظلوم لوگوں کی داد رسی کے لئے متعلقہ ادارے، اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے جلد چوکس، فعال اور تیار ہو جاتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کی ہمہ وقت کارکردگی سے عوام کے مسائل اور مصائب کو حل کرنے میں گزشتہ چند سال کی نسبت اب کافی مختصر وقت لگنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ذاتی مفاد، بددیانتی اور مالی لالچ کے منفی عوامل، بعض اوقات، ابھی تک غیر ذمہ دار لوگوں کی راہ میں آڑے آتے ہیں، لیکن زیادہ تر جرائم اور سماجی برائیاں جلد منظر عام پر آنے سے مجرموں اور غلط کاروں کی قانونی گرفت جلد اور آسان ہوگئی ہے، کیونکہ قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں کا، اپنی قانونی ذمہ داریوں کی انجام دہی سے، گریز اور تاخیر کا جواز، بہت کم ہو گیا ہے۔ اس تبدیلی سے کئی ایسے جرائم اب محض چند گھنٹوں اور دنوں میں، مظلوم لوگوں کی امداد سے حل ہو جاتے ہیں، جو ماضی قریب میں ان افراد کے لئے کئی ہفتوں اور مہینوں کے لئے بھی وبال جان بنے رہتے تھے۔
اطلاعاتی دور کا یہ تغیر بلاشبہ عوام کے لئے جدید دور کی ایک عظیم نعمت کے حصول سے کسی طور کم سود مند نہیں۔ یوں سرکاری مشینری کا کام بھی نسبتاً کافی سہل ہوگیا ہے۔ ان اطلاعاتی اداروں میں آئین، قانون، جمہوریت اور اخلاقی اقدار پر عمل درآمد کرنے کے بارے میں اکثر اوقات عوام و خواص کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے راغب کرنے کی ترویج و تشہیر سے معاشرے کے مختلف طبقوں اور حلقوں میں اصلاحِ احوال کی تعمیری سرگرمیاں، تقویت پذیر ہو کر پروان چڑھتی ہیں۔ اس ضمن میں یہ احتیاط بطور خاص پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر طبقے میں کچھ کالی بھیڑیں، اپنی سیاہ کاریوں سے منفی اثرات پھیلا کر اس کی بدنامی کا اور ناکامی کا سبب بنتی ہیں۔ دوسرے ہمارے معاشرے میں غربت، جہالت، بے روزگاری اور مادہ پرستی کی جاہلانہ روایات، ابھی کئی مقامات پر رائج و راسخ چلی آ رہی ہیں۔ ان سے محض چند دنوں یا ہفتوں میں نجات کا حصول، شاید ابھی ممکن نہیں، لہٰذا ان کے منفی اثرات کو زائل کرنا اور معاشرتی اقدار کو راہ راست پر لانے میں سب بالغ نظر، انصاف پسند اور محب وطن لوگوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں کوئی کوتاہی اور تساہل بروئے کار نہیں لانا چاہئے۔
سطور بالا میں، چند منفی روایات سے جلد نجات کا حصول عرض کیا گیا ہے۔ اس بارے میں تعلیم یافتہ اور با صلاحیت حضرات اور خواتین کو کسی ذاتی مفاد اور طمع کے بغیر اپنی مخلصانہ کوششیں اور سرگرمیاں رضا کارانہ طور پر جاری رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہئے۔ معاشرے کے ایسے مثبت اندازِ فکر عمل کے حامل لوگوں کی تعمیری کاوشوں اور اصلاحاتی تدابیر سے یہاں بہتری کے حالات و اثرات، ایک مسلسل عمل کے ذریعے وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی فاضلانہ اصلاحات اور قابلِ ستائش تجاویز سے ماضی کی طرح انشاءاللہ مستقبل میں بھی وطن عزیز جلد ترقی اور خوشحالی کے راستوں پر گامزن ہوگا۔   ٭

مزید :

کالم -