اندھیرے

اندھیرے
اندھیرے

  



                                                                                ”تم سے اپنا یہ وعدہ ہے میرے وطن ....تجھ سے تیرے اندھیرے مٹائیں گے ہم۔“ یہی وہ انتخابی نغمہ تھا جو اپریل2013ءسے 11 مئی 2013ءکی صبح تک کروڑوں پاکستانیوں کی سماعتوں سے ٹکراتا ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور اسی کی بدولت مسلم لیگ (ن) 11 مئی2013ءکے انتخابی معرکے میں اندازوں سے کہیں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اندھیروں نے چہار سو 18 کروڑ پاکستانیوں کو گھیر رکھا ہے اور گزشتہ عشرے کے دوران تو اندھیروں میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ مارچ2008ءسے 2013ءکے دوران قائم رہنے والی پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت نے عوام کو اس قدر مایوسی سے دوچار کیا کہ پیپلز پارٹی ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسی حکومتی جماعت ثابت ہوئی جو انتخاب سے پہلے ہی انتخاب ہار چکی تھی۔ اس کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت صف اول کے رہنماو¿ں کی مبینہ بدعنوانیوں کے چرچوں سے نہایت دل گرفتہ تھی اور اس میں انتخابی مہم چلانے کا حوصلہ بھی نہ تھا ۔ دوسری طرف اکتوبر2011ءکے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچانے والی پاکستان تحریک انصاف بھی جلد ہی اپنا تاثر کھو بیٹھی۔ 11 مئی2013ءکے انتخابات سے کہیں قبل سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کے حامیوں نے اس بات کا پراپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا کہ تحریک انصاف جس تبدیلی کی دعویدار ہے۔ وہ یہ مسلم لیگ (ق) پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے آزمودہ افراد کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے برآمد نہیں کر سکتی۔ اس لئے یہ تحریک انصاف کے ذریعے کسی انقلاب کا آنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

سوشل میڈیا پر موجود تحریک انصاف کے جوشیلے کارکنان کافاشسٹ رویہ بھی اسے خاصا مہنگا پڑا جس کے خلاف پراپیگنڈہ کر کے مسلم لیگ (ن) سوشل میڈیا کی جنگ جیتنے میں کامیاب ہو گئی جبکہ الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) اس لئے کامران ٹھہری کہ اس نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے سب سے اہم دکھ کی جذباتی انداز میں ترجمانی کی۔ برصغیر کے سب سے معروف گلو کار راحت فتح علی خان کی پسِ پردہ آواز اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف (موجودہ وزیراعظم) کا یہ عزم کہ وہ اس ملک کے اندھیرے ختم کر کے دم لیں گے، کی بدولت بہت سے پاکستانی نہ چاہتے ہوئے بھی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دے آئے۔

11 مئی2013ءکے عام انتخابات کے بعد22 اگست2013ءکو ضمنی انتخابات کا مرحلہ بھی طے ہو چکا، جس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کی 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی، لیکن اس کے باوجود اقتدار میں ہونے کے باوجود اس کی کارکردگی اتنی عمدہ نہیں رہی، جتنی کہ ماضی کے ضمنی انتخابات میں حکمران جماعتوں کی رہی ہے، اگرچہ ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بھی اپنے چیئرمین عمران خان کی حاصل کردہ دو نشستیں کھو چکی ہے اور عام انتخابات میں بالکل آف کلر دکھائی دینے والی پیپلز پارٹی حیرت انگیز طور پر قومی اسمبلی کی3 نشستوں کے حصول میں کامیاب ہوگئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کااندھیرے مٹانے کا اور تحریک انصاف کا تبدیلی لانے کا سفر یا تو شروع ہی نہیں ہو پایا، یا اس کی رفتار نہایت سست ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے قوم سے جن اندھیروں کو مٹانے کا وعدہ کیا تھا، ان میں توانائی بحران کا خاتمہ ہی شامل نہیں تھا، بلکہ غربت، بے روزگاری اور جہالت کے اندھیروں سے ملک کے عوام کو نجات دلانے کا وعدہ بھی شامل تھا۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ مسلم لیگ (ن) نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو جس انداز میں سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا کوئی اور جماعت ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اپریل اور مئی2013ءکے اخبارات کی فائلیں نکالیں تو ان میں چھپنے والے مسلم لیگ (ن) کے اشتہارات میں یہ بات واضح طور پر دکھائی دے گی کہ اس نے قوم کو خبردار کیا اگر اس (مسلم لیگ ن) کے علاوہ کسی اور دوسری جماعت کو ووٹ دیا گیا تو یہ اس سیاہ دور (پیپلز پارٹی کا2008-13ئ) کی حمایت ہوگی جس سے عوام نجات چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے قوم سے پہلے نشری خطاب کے حوالے سے عوام کو جو توقعات وابستہ تھیں، ان کا پورا ہونا مستقبل قریب میں تو دکھائی نہیں دے رہا۔ عوام الناس کی اکثریت اس خیال کی حامی تھی کہ وزیراعظم توانائی کے بحران کے علاوہ دہشت گردی اور ملک کو درپیش دیگر چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے کسی مربوط لائحہ عمل اور عوام کو کسی حد تک ریلیف دینے کے لئے کسی پیکج کا اعلان کریں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا، جہاں تک توانائی بحران کے حل کے حوالے سے پیش رفت کا امکان تھا، اس حوالے سے بھی 5 سال کی تاریخ دے کر عوام کو ٹرخا دیا گیا ہے کہ وہ ایک بار پھر انتظار کی سُولی پر لٹک جائیں۔

مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے سے قبل بارہا یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس معاشی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں کے تکنیکی ماہرین کی ایسی ٹیم ہے، جس نے ملک کے گھمبیر مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل ہوم ورک کر رکھا ہے۔ بس عوام ہمیں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان کروا دیں۔ اس کے بعد ان کی زندگیوں میں فوری تبدیلی آنا شروع ہو جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے وہ رہنما جو عوام کو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج پر اُکساتے(اور بعض رہنما تو احتجاجی جلوسوں کی قیادت بھی فرماتے) تھے اب وہی عوام کو صبر سے کام لینے کا درس دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں، جسے گھماتے ہی تمام مسائل حل ہو جائیں۔ امسال ملک میں ہونے والی ریکارڈ بارشوں کے بعد موسم کی صورت حال کچھ دنوں کے لئے بہتری ہوئی تو اس کا اثر بجلی کی طلب پر بھی پڑا اور اس میں کمی ہونے کے باعث لوڈشیڈنگ کی صورت حال میں بہتری آئی، جس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم نے 15000 میگاواٹ کی پیداوار حاصل کر لی ہے جو گزشتہ عشرے کے دوران اگست کے مہینے میں حاصل ہنے والی بجلی کی سب سے زیادہ شرح پیداوار ہے، لیکن اب پھر10-12 گھنٹے بجلی کی بندش (بڑے شہروں میں) یہ ثابت کر رہی ہے کہ بجلی کی پیداوار کسی بھی طرح 10,000 میگاواٹ سے زیادہ نہیں۔ ضمنی انتخابات میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی چھوڑی ہوئی نشست کا مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے نکلنا اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی چھوڑی نشستوں کا تحریک انصاف کے لئے نقصان برداشت کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عوام اب حکومتوں سے کارکردگی دکھانے کے متمنی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو عوام نے اس کی توقعات سے زیادہ مینڈیٹ دے کر اس پر یہ بھاری ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ انہیں اندھیروں سے نکال سکے جو گڈ گورننس کے نعروں سے دور ہونے والا نہیں، بلکہ اس کے لئے حقیقی گڈ گورننس درکار ہے۔     ٭

مزید : کالم