شدت پسندوں سے مذاکرات کی فراخدلانہ پا لیسی

شدت پسندوں سے مذاکرات کی فراخدلانہ پا لیسی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  
                                                                                                وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے کہاہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے حکومت ایک ہی آپشن پر غور کر رہی ہے اور وہ ہے مذاکرات کا آپشن ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کودرپیش دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مذاکرات ہی بہترین اور واحد راستہ ہیں۔حکومت او ر فوج دونوں ہی مذاکراتی عمل کی بھرپور حمایت کرتے ہیںاور فی الحال کسی دوسری آپشن پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں طالبان کو حکومتی مذاکرات کی پیشکش کو غلط انداز میں بیان کیا گیا کہ کابینہ دفاعی کمیٹی نے یہ شرط عائد کی ہے کہ حکومت صرف ہتھیار پھینکنے والوں سے بات چیت کرے گی۔یہ خبر بالکل بے بنیاد ہے دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں اس موضوع پر بات ہی نہیں کی گئی۔ حکومت نے بات چیت کے لئے کوئی پیشگی شرط عائد نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کارروائیوں میں ملک میں چالیس ہزار سے زائد شہری اور سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں دوسری جانب شدت پسندوں کے اہل خاندان بھی موت سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئیے کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ9/11 کے بعد مشرف دورکی جو پالیسیاں رہیں مسلم لیگ( ن) اس کی مسلسل مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک نجی پرائیویٹ ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردوں سے مذاکرات میں ناکامی کی وجہ حکمرانوں کی بدنیتی تھی۔ سول ملٹری قیادت میں اس سلسلے میں جتنی اس وقت ہم آہنگی ہے ماضی میں ایسی کبھی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف دوماہ میں یہ مسائل حل ہوجائیںہم اپنا ہوم ورک کر رہے ہیں اور نیشنل سیکورٹی پالیسی تشکیل کی جارہی ہے۔تمام متعلقہ فریقوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جارہا ہے۔ایک متحرک اور فعال نیشنل سیکورٹی پالیسی لا رہے ہیں۔طالبان کے سلسلے میں ہماری پہلی ترجیح مذاکرات ہےں۔
وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے اپنی نشری تقریر میں کی جانے والی مذاکرات کی پیشکش کے بعدوزیرداخلہ کی طرف سے مذاکرات کے سلسلے میں ان خیالات کا اظہار حکومت کی مذاکرات میں ہر لحاظ سے سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی طرف سے اس بات کی وضاحت کہ مذاکرات کے سلسلے میں حکومت اور فوج میں مکمل اتفاق موجود ہے معاملے کی مکمل وضاحت اور اس راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہونے کی نشاندہی کررہا ہے۔ اس کے بعد طالبان یا کسی طرح کی دوسری دہشت گرد یا شدت پسند تنظیموں کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ جاتی ، اور کسی کو بھی حکومت سے مذاکرات میں کسی طرح کی ہچکچاہٹ ہونی بھی نہیں چاہئیے۔ جن حقائق کی موجودگی میںعام دہشت گردوں میں انتقامی کارروائی کا جذبہ یا انتہا پسندی پیدا ہوئی ہے ان کا پورا احساس ہونے کا اظہار بھی وزیر داخلہ کی طرف سے کھل کر کیا گیا ہے۔یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد پاکستان کو اہل مغرب کی اس جنگ میں زبردستی گھسیٹا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اس کی ہمیشہ مخالفت کی گئی ہے۔ اب اس کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد طالبان اور دوسرے متاثرہ لوگوں کے جذبات کا پورا احساس رکھنے کی بنا پر اس حکومت سے بات چیت میں شدت پسندوں کو قطعی کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہئیے۔ نہ ہی طالبان کی طرف سے کسی طرح کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ ہونا چاہئیے۔
پاکستان نے ہمیشہ دنیا بھر کے مظلوم اور محکوم عوام کی تائید و حمایت کی ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے علاوہ دنیا میں ہر جگہ ظلم کا شکار مسلم اقلیتوں کے حقوق کے لئے سرگرم رہا ہے۔ پاکستان کو کمزور کرنے اور اس کی سرزمین پر دہشت گردی کی خواہش دراصل اسلام دشمن قوتوں کی ہے جو نہایت ہوشیاری کے ساتھ بالواسطہ طور پر دہشت گردوں کی اسلام ہی کا نام لے کردرپردہ مدد کر رہی ہیں۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان سے شکایات رکھنے اور اپنے لوگوں پر ہونے والے ظلم کا انتقام لینے والے لوگ معاملات کو پوری طرح سمجھیں، عالم اسلام کی ایٹمی طاقت کو کمزور کرکے عالم اسلام کو بے سہار ا کرنے کے بجائے اسلام کی طاقت بنیں، ملک کی مین سٹریم میں آئیں۔ پاکستان پورے خطے میں امن چاہتا ہے۔ اس کے لئے ہماری طرف سے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے استحکام سے پوری دنیا کا امن جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کی تمنا رکھنے والوں کو نہیں معلوم کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس سے پوری دنیا کا امن تہس نہس ہوجائے گا۔پاکستان کا استحکام خود عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ کوئی بھی پاکستان کی طاقت اور اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ دشمن کی تال پر رقص کرنے والے سادہ ، گمراہ یا مجبور انسان ہیں ، جن کا راہ راست پر لایا جانا ان کے لئے اور ان کے خاندانوں اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے ضروری ہے۔پاکستان کے اندر اگر ایسے لوگوں کے لئے ( شدت پسندی کے حوالے سے ) کسی طرح کی حمایت موجود ہے تو انہی احساسات کے تحت ہے۔ پاکستان میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات انتہائی افسوسناک تو ضرور ہےں لیکن اس سے پاکستان کی دفاعی طاقت یا اس کی علاقائی اور عالمی امن کے لئے پالیسیوں میں کسی طرح کی کمزوری یا تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ دراصل غیر ریاستی طاقتیں آج تک دنیا میں کہیں بھی ایسی پوزیشن میں نہیں آسکیں۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں اور زیر زمین کام کرنے والوں کو بھی بالآخر تشدد کا راستہ چھوڑ کر اپنے برحق موقف کی حمایت میں رائے عامہ کو ہموار کرنا پڑا ہے۔ بے گناہ نہتے شہریوں پر حملے اور اسلام کے قلعہ پاکستان کی دفاعی تنصیبات پر حملے اسلامیان عالم کی نہیں صرف دشمنان اسلام کی تائید و حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ سارا عالم اسلام اس صورتحال سے پریشان ہے ، زیادہ پریشانی اس بات پر ہے کہ دشمنان اسلام کس کس حیلے بہانے سے خود مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اپنا کھیل کامیابی سے کھیل رہے ہیں۔یہ سب پاکستان ہی میں نہیں افغانستان،عراق، شام ، لیبیا اور مصر میں بھی ہورہا ہے۔ ہمارے مختلف گروہوں میں نہایت ہوشیاری سے دشمنی اور تعلقات میں الجھاﺅ پیدا کئے جاتے اور اسلام دشمنوں کے مقاصد پورے کئے جاتے ہیں۔
طالبان کی طرف سے وزیر اعظم کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے پرتحریک طالبان پنجاب کے سربراہ کو کسی دوسرے لیڈر کی طرف سے برطرف کئے جانے کی خبریں مل رہی ہیں۔ اس طرح کی صورت حال کا پیدا ہوجانا ایک قدرتی امر ہے۔ حکومت پاکستان کے لئے تو مناسب یہی ہے کہ شدت پسندوں کے تمام گروہ اپنی ایک مذاکراتی ٹیم بنا کر حکومت سے مذاکرات کریں اور پھر فیصلوں پر سب مل کر عمل کریں۔ لیکن بظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس میں بڑی رکاوٹ وہ گروہ یا ان میں موجود وہ لوگ بنیں گے جنہیں پاکستان اور اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے مال اوراسلحہ مل رہا ہے۔ جنہیں پاکستان دشمن طاقتوں نے ٹریننگ دے کر پاکستان کو کمزور کرنے اور ہمارے معاشرے میں تباہی و بربادی پھیلانے کے ٹارگٹ دے رکھے ہیں۔ لیکن ہمیں امید یہی ہے کہ طالبان اور دوسرے گروہوں میں ان لوگوں کی طاقت اور تعداد بھی کم نہیں جو افغانستان کے اندر جاری جنگ کے سلسلے میں پاکستان کی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں ، جو اپنے لواحقین کے ڈرون حملوں میں شہید ہوجانے سے جذبہ انتقام کے تحت دہشت گردی پر اتر آئے ہیں،یا اپنی دانست میں اسلامی نظام کے لئے یہ جنگ کررہے ہیں۔ ان سے مذاکرات کی حکومتی خواہش تمام محب وطن پاکستانیوں کی خواہش ہے۔ ا ن کو مطمئن کرنا اور ان سے معاملات کا طے ہوجانا کوئی مشکل بات نہیں۔لیکن عیار دشمن بھی اپنی جگہ گھات لگائے بیٹھا ہے اس کے لئے بھی ایک کے بعد ایک چال سے مذاکرات کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کی چالیں چلی جارہی ہیں۔ ماضی میں تو ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب بھی پاکستان سے دشمنی نہ رکھنے والے اور محض ناراض طالبان سے ہمارے مذاکرات ہونے لگے تو اس کام کے لئے پیش قدمی کرنے والوں کو مروا دیا گیا۔
طالبان ہی نہیں فرقہ پرستی کی قباحت کا شکار لوگوں اور کراچی میں کارروائیاں کرنے والے سیاسی جماعتوں کے مسلح گروہوںسے بھی مذاکرات کئے جا نے چاہئیں تاکہ ملک صحیح معنوں میں امن کا گہوارہ بن سکے ۔ ہمارے سامنے اگر سری لنکا کی حکومت کے باغیوں سے نمٹ لینے کا معاملہ ہے تو ہم روسی حکومت کی طرف سے چیچنیا کے مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے احسن عمل کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ موجودہ حکومت کسی طرح مذاکرات میں مخلص نہیں۔ ہر کسی کو معلوم ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت اپنے بڑے بڑے اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی منزل کی جانب لے جانا چاہتی ہے اور اس کے لئے دہشت گردی اور شدت پسندی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ حکومت کی یہ پالیسی اور خواہش سب ناراض گروہوں کے لئے ایک بے حد مناسب موقع ہے۔ ان کے لئے ان کے خاندانوں اور آئندہ نسلوں کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ ماضی کو بھول کر پاکستان کی ” مین سٹریم “ میں شامل ہوجائیں اور مذاکرات کے بعد خود کو پیش کئے گئے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ اپنی توانائیوں کو کام میں لائیں اور ملت اسلامیہ کے روشن مستقبل کے لئے اسلام کے قلعہ پاکستان کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
 شدت پسندوں کو بربادی اور انسان دشمنی کی پالیسی بدل کر اب انسان اور پاکستان دوستی کی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ وہ حکومت پاکستان کی طرف سے اپنے لئے اس انتہائی نرم اور مبنی برحقیقت پالیسی سے فائدہ اٹھائیں گے اور خود کو ملت اسلامیہ کے حقیقی مفاد میں بدل کر اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کی کوشش کریں گے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)      ٭

مزید :

اداریہ -