سندھ میں پیپلزپارٹی کی بہتری پنجاب میں عزت کی بحالی

سندھ میں پیپلزپارٹی کی بہتری پنجاب میں عزت کی بحالی
سندھ میں پیپلزپارٹی کی بہتری پنجاب میں عزت کی بحالی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

! تجزیہ چودھری خادم حسین جمہوری نظام میں یوں تو ضمنی انتخاب کی کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہوتی، تاوقتیکہ ایک دو اراکین کے جانے سے ایوان کی اکثریت پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے ۔ موجودہ ایوان میں نشستوں کا تناسب کچھ ایسا ہے کہ ضمنی انتخابات میں ہار جیت سے ایک ہیئت تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیںتھا۔ البتہ عام انتخابات کے صرف تین ماہ بعد ہی 16 قومی اور 26 صوبائی نشستوں پر ضمنی انتخاب منی جنرل الیکشن بن گئے تھے اور ان میں نمبر گیم سے زیادہ ساکھ مسئلہ بن گئی تھی۔ اور یہ عزت اور توقیر پارٹی کی سطح پر اپنی جگہ تھی، لیکن ذاتی حوالے سے بھی اہمیت کی حامل تھی۔ اس میں پیپلز پارٹی سے لے کر پیر پگارا اور شازیہ مری سے شرازیوں، عمران سے بلور اور ذالفقار کھوسہ سے میاں منظور وٹو تک کی اپنی پوزیشن تھی۔ ان انتخابات پر بہت کچھ کہا جا چکا ہے، ہم ذرا تاخیر سے بات کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ایسے ہی بات ہوسکے گی جو کسی طرف سے نظر انداز ہو گئی ہو، ٹھٹھہ کے شیرازی برادران کا جہاں تک تعلق ہے تو انہوں نے عام انتخابات سے ضمنی انتخابات تک کئی بار پوزیشن بدلی، وہ خاندانی طور پر مضبوط لابی والے ہیں، جب پیپلز پارٹی میں آئے تو اس طرف سے خوشی منائی گئی، مگر منہ بولے بھائی اویس مظفر کی مہربانی سے ناراض ہو گئے تو قیاس آرائیاں بدل گئیں، مظفر کو بھی ہرایا جانے لگا، یہ لوگ اس امتحان سے نکل گئی۔ شیرازیوں نے مسلم لیگ ن کی چھتری تلے پناہ لی، تاہم اہلیت اور نااہلیت کے چکر میں عدالتی حکم کے تحت ضمنی الیکشن میں کڑی نشست پر کھڑے ہوئے۔ حیثیت آزاد تھی۔ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہیں تھا، شاید زعم ہو ، بہرحال پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار نے ہرا دیا اور پارٹی سرخرو ہو گئی۔ اویس مظفر کے بھی ٹوہر بن گئے۔ شازیہ مری الیکشن ہار گئیں، ان کو خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی میں پہنچا دیا گیا، لیکن دل تھا کہ مانتا ہی نہیں ان کو پیر صدر الدین ( پیر پگارہ کے بھائی) کی خالی نشست پر میدان میں اتارا گیا اور اس مرتبہ وہ سرخرو ہوئیں۔ پگارا والوں اور اتحاد کو دھچکہ پہنچا، پنجاب میں حنا ربانی کھر کی جیتی نشست جمشید دستی نے چھین لی تھی، وہ جیالے ہی تھے۔ متوالے بننے کی کی کوشش کی شرط والا متولا قبول نہ ہوا، انہوں نے آزاد حیثیت سے بھائی کو میدان میں اتار دیا، کھر نے نشست جیت کر واپس لی۔ کھر خاندان کا نام بچا لیا، وہ گئے مخدوم احمد محمود تو ان کے صاحبزادے نے جو صوبائی نشست چھوڑی وہ مخدوم کے بھائی کو مل گئی، گھر کی گھر میں رہی۔ اصل میں تو پیپلز پارٹی پنجاب (وسطی) کے صدر میاں منظور احمد کا بہت کچھ داو¿ پر تھا، انہوں نے تو پارٹی کی فکر چھوڑی، اپنی پگ بچانے میں لگ گئے اور بیٹے کی کامیابی سے عام انتخابات میں لگا داغ کسی حد تک دھو لیا۔ عمران خان ن لیگ، اے این پی اور جمعیت علماءاسلام کے حوالے سے بہت کچھ قارئین کے سامنے آچکا، میں تو آج پیپلز پارٹی ہی ذکر کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر مخدوم امین فہیم اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پارٹی پرفارمنس کی تعریف کی۔ وہ اپنے موقف میں بجا ہوں گے لیکن اس کامیابی نے پیپلز پارٹی والوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا کہ ایک بار پھر پارٹی راہنماو¿ں نے پنجاب خصوصاً لاہور کو نظر انداز کر دیا، خیبرپختونخوامیں سودے بازی کیا صرف حمایت کی۔ بلوچستان میں برائے نام حصہ لیا اور چند سو ووٹ ہی آئے۔ اصل مسئلہ پنجاب اور لاہور سے ہے کہ یہاں جماعت کی بدترین کارکردگی نے پارٹی کو سندھ تک محدود کر دیاہے جوخطرے کی گھنٹی ہے۔ پنجاب سے جو تینوں نشستیں ملیں ان ے ٹکٹ تو جماعت ہی کے تھے لیکن جماعت سے زیادہ یہ خاندانی نشستیں بن گئیں تھیں اور کریڈٹ بھی خود ہی لے رہے ہیں کہ پارٹی کی طرف سے پنجاب میں تو انتخابی مہم ہی نہیں چلائی گئی۔ خود صوبائی صدر اوکاڑہ سے اس وقت تک نکلے جب تک صاحبزادہ ایم پی اے نہیں ہو گیا۔ اس سے بدتر حالت لاہور کی ہے۔ یہاں کی قائد خاندانی مسائل کا شکار ہو گئیں کہ اقبال گھرکی پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے۔ شاید اس طرح علاقے میں دشمنیاں ختم ہوسکیں؟ خود صدر محترمہ ثمینہ خالد گھرکی لاتعلق اور غالباً ابھی تک لندن میں ہیں، لاہور اتنا لاوارث تھا کہ یہاں زبردستی کے امیدواروں کو کوئی تسلی دینے بھی نہیں آیا، چہ جائیکہ انتخابی مہم چلائی جاتی، یہاں میدان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں سجا اور سو فی صد کامیابی مسلم لیگ ن کو ملی، مسلم لیگی نازاں ہیں۔ کیوں نہ ہوں۔ مجموعی طور پر فائدے میں ہیں۔ عام اور اس کے بعد ضمنی انتخابات نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا قائدین نے پنجاب پارٹی پر دو حرف بھیج دیئے، یا پھر کسی معجزے کا انتظار ہے اور وہ شاید 8ستمبر کے بعد وقوع پذیر ہوگا۔ بقول خورشید شاہ جب آصف زرداری پارٹی قیادت سنبھال کر میدان میں اتریں گے۔ سید خورشید شاہ صاحب نے ایک انٹر ویو میں بالواسطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری سیاست میں نہیں ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری پارٹی چلائیں گے اور بلاول پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتارا جائے گا۔ بات واضح ہے فی الحال وہ آو¿ٹ ہیں۔ یہاں پیپلز پارٹی کے حوالے سے بہت کچھ کہا جارہا ہے۔ اب سوال یہ ہو رہا ہے کہ اگر آصف علی زرداری نے بھی آکر اب پھر پارٹی اپنے جیل اور ریل کے دوستوں کے ذریعے چلانا چاہی تو پھر؟ سید خورشید شاہ، اعتزاز احسن اور بعض دوسرے رجائیت پسند جیالے کچھ اور ہی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زرداری اب ایسا نہیں کریں گے وہ چاہتے ہیں کہ پرانوں کو منایا جائے، نئے حضرات کے لئے وفارداری اور دیانت شرط رکھی جائے تو پرانا اور نئے کا امتزاج کام کر سکتا ہے، اس کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو والی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل کو بحال اور متحرک کرنا ہوگا، اور نئے حضرات کو بھی ساتھ لینا ہوا تو تنطیم کے ساتھ ہی لیا جائے گا۔ پارٹی کو متحرک کرنے کےلئے نہ صرف خود آصف علی زرداری بلکہ باقی رہنماو¿ں کو بھی وقت دینا ہوگا۔ عارضی طور پر بدنام حضرات سے اجتناب ضروری ہے کہ ساکھ بحال ہوسکے۔ ستمبر میں تھوڑا وقت ہے۔ جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ پارٹی کا مستقبل کیا ہے۔ بھٹو کی پارٹی کی فعالیت قومی سطح پر ضروری ہے ۔ 

مزید :

تجزیہ -