نئی حکومت نے مایوس کیا،سابقہ حکومت کے دورمیں ایک دو لاپتہ افراد مل جاتے تھے: سپریم کورٹ

نئی حکومت نے مایوس کیا،سابقہ حکومت کے دورمیں ایک دو لاپتہ افراد مل جاتے تھے: ...
نئی حکومت نے مایوس کیا،سابقہ حکومت کے دورمیں ایک دو لاپتہ افراد مل جاتے تھے: سپریم کورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نئی حکومت سے کافی امیدیں تھیں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوجائے گا، سابقہ حکومت بہتر تھی کہ کبھی ایک یا دو لاپتہ افراد سامنے آجاتے تھے ،حکومت کی رٹ ہی نہیں ۔سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں لاپتہ افراد کے کیس میں چیف سیکریٹری بلوچستان بابر یعقوب اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیس پرکمیشن بنے، میٹنگز ہوئیں، کتنی ٹاسک فورس بنیں، رزلٹ کیا نکلا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ٹاسک فورس بنائی تھی اس کا کیا ہوا؟ہمیں اپنا حکم منوانا آتا ہے،آپ کسی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے، اس کا اختیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون و آئین کی پاسداری کریں، لوگ پہلے ہی کہتے ہیں کہ حکومت کی رٹ ہی نہیں ہے۔ آپ بتائیں کس افسر کو بلانا ہے، ہم کل بلالیں گے، سب ادارے لکھ کر دے دیں کہ وہ متعلقہ اہل کاروں کو نہیں بلاسکتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی قانون سے بڑا نہیں ہے، اگر لاپتہ افراد پر کوئی کیس ہے تو انہیں گرفتار کریں، عام شہری سے لے کر صدر تک سب کو قانون کے تحت چلنا ہوگا۔عدالت نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں لاپتہ افراد کے حوالے سے کیا کرنا چاہتی ہیں اس بارے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل جامع تحریری بیان دیں، بصورت دیگر ہم ایگزیکٹیوز کو طلب کرلیں گے۔