حالات میں بہتری کی امید

حالات میں بہتری کی امید
 حالات میں بہتری کی امید

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


دوستو! سنائیں کیسے ہیں۔ امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ ہم بھی اچھے ہی ہیں۔ دوستو! انتہائی خوشی کی خبر ہے کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری بھی ملک میں جاری بحران کو حل کرنے کے لئے وطن واپس پاکستان پہنچ گئے۔ قابل ذکر بات ہے کہ آصف علی زرداری نے 37سال بعد جماعت اسلامی کے ہید کوارٹر منصورہ کا دورہ کیا، کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ 37سال قبل ذوالفقار علی بھٹو اچھرہ میں واقع مولانا مودودی کے گھر گئے تھے۔ اب آصف علی زارداری نے فوری طور پر ملکی حالات کے پیش نظر وطن واپسی کو ترجیح دی۔ زرداری نے وزیر اعظم پاکستان سے بھی ملاقات کی، جس میں ملکی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،زرداری نے وزیراعظم پاکستان کو یقین دہانی بھی کروائی کہ دھرنوں کا معاملہ بخیر و خوبی حل ہو جائے گا۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ زرداری اس سے قبل اپنے دور صدارت میں طاہر القادری کے بھر پور احتجاج اور دھرنوں کو بھگت چکے ہیں، ،،،، دنیا نے دیکھا کہ زرداری نے کمال مہارت اور دانش مندی سے حالات پر قابو پایا تھا، آج بھی حالات زرداری دور سے مختلف نہیں، اسی لئے تو زرداری نے ملکی حالات کی سنگینی کے پیش نظر میاں نواز شریف کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا، اور کھانا کھانے رائیونڈ پہنچ گئے، زرداری نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، زرداری کا کہنا تھا کہ استعفے کا مطالبہ غیر آئینی اور ریاست کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، زرداری نے بھی وزیراعظم کو استعفیٰ دینے سے روک دیا۔

حقیقت تو یہ بھی ہے کہ امیر جماعت اسلامی بھی انتہائی پر خلوص کوششیں کررہے ہیں کہ حالات بہتر ہو جائیں، اور یقیناًمعاملات کی بہتری کے لئے سراج الحق امیر جماعت اسلامی دن رات سیاسی رہنماؤں سے رابطے میں ہیں اور ان سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، خبر تو یہ بھی تھی کہ امیر جماعت اسلامی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملنے ان کے گھر بھی گئے، سراج الحق کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے استعفے منظور نہ کئے جائیں۔

بہت سے دوست کہہ رہے ہیں، جس طرح سے نواز زرداری بھائی بھائی ہوئے، اب اسی طرح سے جماعت اسلامی کی طرف زرداری دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ذمہ داری کا ثبوت پیش کر رہے ہیں، بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ حکومت اور ہمارا ملک آج جن بحرانوں کا شکار ہے ان میں کسی حد تک ذمہ داری پیپلز پارٹی کی بھی ہے، جی ہاں بے بہا مسائل سابق حکومت کے دور حکومت میں ہی اپنے عروج پر پہنچے، یہ بات بھی سب کے سامنے ہے کہ زرداری کو میاں نواز شریف کی جماعت کی مکمل حمایت حاصل تھی، اسی لئے تو زرداری نے پانچ سال مکمل کئے، اب زرداری بھی اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔

آج دھرنا دینے والوں میں عمران خان بھی طاہر القادری کے ساتھ اپنی جماعت کے ہزارو ں کارکنوں کو اسلام آباد لے جا کر بٹھا چکے ہیں، اور اب حکومت بیک وقت دو دو جگہ مذاکرات کر رہی ہے۔عمران خان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اگر استعفیٰ نہیں دیتے تو پھر ایک ماہ کی چھٹی لے لیں، ،، طاہر القادری کی طرف سے اس بات کی مخالفت کی گئی۔ گورنر پنجاب کا بھی یہی کہنا تھا کہ ایک کے سوا تمام مطالبات پر اتفاق ہو گیا تھا، جس کے بعد پھر سے ایک نئی بحث شروع ہو گئے۔ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے چیئرمین عمران خان کے حوالے کر دیئے ہیں،جو کہ سیکرٹری اسمبلی کو پیش کر دیئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے خبر تھی کہ جو استعفے تحریک انصاف کی طرف سے پیش کئے گئے ان میں سے بہت سے غیر موثر قرار ٹھہرے، کیونکہ اکثریت نے پارٹی چیئرمین کے نام استعفے پیش کئے تھے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے استعفے دے دئیے گئے تو پھر نوے روز میں خالی کردہ نشستوں پر ضمنی انتخابات ہو ں گے، بہر حال استعفے منظور ہوں یا نہ ہوں، اصل مسئلہ تو معاملات کا حل ہے۔ خبر تو یہ بھی موصول ہوئی کہ پاکستان تحریک انصاف کے بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ اپنے مطالبات کی ترتیب میں ردو بدل کے لئے تیار ہیں جو کہ نیک شگون بھی کہا جا رہا ہے کہ چلو کسی طرف سے تو دھواں چھٹتا نظر آیا، ، اب بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ برف پگھلتی نظر آرہی ہے۔

ہمارے بہت سے دوست کہتے ہیں کہ اچھا ہے کہ تمام جماعتیں جلد از جلد مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور جتنی جلدی ہو سکے معاملے کو خوش اسلوبی سے سمیٹنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ دھرنوں کی وجہ سے ملک بھر کے شہری عذاب میں مبتلا ہیں، ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ نازک وقت ہے ،فوج آپریشن ضرب غضب میں مصروف ہے، ، دشمن آئے روز سرحدی علاقوں پر فائرنگ کرتا رہتا ہے،لیکن ہمارے دھرنا دینے والے رہنماؤں کو تو گویا کسی کی پرواہ ہی نہیں، ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ خدارا ایسے نازک وقت میں تمام سیاسی جماعتیں اور دھرنا دینے والی جماعتوں کے قائدین بھی ملکی حالات کو سنجیدگی سے دیکھیں اور دھرنوں سے دستبردار ہو جائیں تو کسی کی شان نہیں گھٹے گی، حکومت دھرنا دینے والے رہنماؤں سے بات چیت کے لئے مثبت اشارے دے رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے بھی گرین سگنل مل چکا ہے، مذاکرات کا آغاز بھی ہو چکا ہے گو کہ ایک دفعہ مذاکرات پھر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں ،لیکن امید ہے کہ جلد ہی مذاکرات کے حوالے سے اچھی خبر ملے گی ۔

بہر حال ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ اللہ کرے جلد از جلد آزادی و انقلاب مارچ کا معاملہ حل ہو تاکہ ملک میں امن سکون قائم ہو سکے، دیکھا جائے تو تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اسی لئے دیکھتے ہیں کہ یہاں بھی دھرنا دینے والے قائدین کس انداز میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ہاتھوں پر ہاتھ مار کر تالی بجاتے ہیں۔ یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا، لیکن بہر حال اب راوی چین ہی چین لکھتا نظر آرہا ہے کیونکہ آصف علی زرداری بھی معاملات کی درستگی کے لئے میدان میں کود پڑے ہیں، اس لئے اب ضرور کچھ نہ کچھ اچھا ہو گا، سیانے تو یہی کہتے ہیں کہ ہمیشہ اچھے کی امید ہی رکھنی چاہیے، اسی لئے ہم بھی اچھے کی امید رکھتے ہوئے آپ سے اجازت چاہتے ہیں لیکن ایک اور تازہ ترین خبر ہے کہ دھرنے کے شرکاء جنھیں شہر اقتدار اسلام آباد میں دھرنا دئیے دس روز گذر چکے، اور اپنے مطالبات کی بحالی کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں، دھرنا دینے والوں کو بہت سی مشکلات بھی پیش ہیں، اس حوالے سے جو خبریں موصول ہو رہی ہیں، اس کے مطابق شہر اقتدار میں دھرنا دینے والے افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں، ،جس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ دھرنا دینے والوں کو جن قائدین نے دھرنے کے لئے گھروں سے بلوایا ،وہ انھیں مناسب سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہے، اسی لئے تو عمران خان کی طرف سے دھرنا دینے والے افراد کی دیکھ بھال عبدالعلیم خان کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ دھرنا دینے والوں میں بہت بڑی تعداد میں بچے،بڑے،خواتین، بزرگ،بھی شامل ہیں، جن کے لئے نہ توکوئی کھانے پینے کی چیز یں میسر ہیں اور نہ ہی بیت الخلاء کے لئے کو ئی مناسب انتظام، خبر تھی کہ لوگ روزانہ چھابڑی والوں سے غیر معیاری اشیاء کھا نے کی وجہ سے بیمار ہو چکے ہیں اور جن بیماریوں کا شکار ہیں ان میں ڈائریا، جلد،بخار، الرجی سمیت دیگر بیماریاں بھی شامل ہیں، ٹی وی پر تحریک انصاف کے ڈاکٹر نے بتایا کہ دو ہزار افراد روزانہ بیمار ہو رہے ہیں، جن کا علاج جاری ہے، اور یہ صورت حال بھی انتہائی تشویشاک ہے کہ شہر اقتدار میں بیماریوں نے بھی گھر بنا لیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ نہ تو انتظامیہ نے صفائی کا کوئی مناسب انتظام کیا ہے اور نہ ہی انقلابی و آزادی مارچ والے اپنی صفائی کا کوئی مناسب خیال رکھ رہے ہیں، جس کانتیجہ سب کے سامنے ہے۔

مزید : کالم