بھارت کشمیرکی متنازعہ حیثیت تسلیم کرے ، انجینئر رشید

بھارت کشمیرکی متنازعہ حیثیت تسلیم کرے ، انجینئر رشید

سرینگر (کے پی آئی)مقبوضہ کشمےر اسمبلی کے رکن انجینئر رشید نے نئی دلی کی اس دلیل کو سختی سے مسترد کیا کہ کشمیری مسئلہ کشمیر کے فریق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ تنازعہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ 1کروڈ 20 لاکھ کشمیریوں کے مستقبل کا سوال ہے اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی بنیادی فریقانہ حیثیت سے انہیں محروم نہیں کر سکتی ۔بارہمولہ میں عوامی اتحاد پارٹی کے زیر اہتمام ایک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہاکہ نئی دلی جس قدر جلد ہٹ دھرمی اور اناچھوڑ دے اسی قدر خود ہندوستان اور بر صغیر کے بہترین مفاد میں ہوگا۔انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کو طاقت کے بل بوتے پرنہ ہی دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر حقایق کو بدلا جا سکتا ہے ۔ انجینئر رشید نے کہاکہ کشمیریوں نے جو ہر محاذ پر بے پناہ قربانیاں دیں ہیں وہ کشمیریوں کی آنے والی نسلوں کو دلی کے تکبر اور گھمنڈ کے آگے سر نگوں ہو نے سے روکنے کے لئے قیامت کی صبح تک کیلئے مجبور کریںگی ۔ انہوں نے دلی کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس نے خود حزب المجاہدین کے کمانڈروںکے ساتھ نہرو گیسٹ ہاوس میں کشمیر مسلے کے حل کیلئے مذاکرات کئے لیکن آج دلی کی یہ دلیل بھونڈے مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں کہ وہ صلاح الدین یا کسی اور عسکری کمانڈر سے ہرگز مذاکرات نہیں کرئے گی ۔ انہوں نے کہا تاریخ گواہ ہے کہ نئی دلی نے حریت لیڈران سے لیکر مین سٹریم کہلائے جانے والے لوگوں سے بھی مختلف مواقعوں پر لا حاصل مذاکرات کئے اور ساتھ ہی حریت لیڈران کو سرینگر مظفر آباد بس سروس کے موقعے پر پاکستانی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے لئے سفری دستاویزات فراہم کرانے میں حد سے زیادہ دلچسپی دکھائی۔

اس لئے اپنی ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر ہندوستان کی قیادت کو چاہئے کہ وہ بر صغیر میں پائیدار امن کے قیام کے لئے کشمیر مسلے کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کر کے اس کے دیر پا حل کے لئے سہ فریقی مذاکرات کا فوری آغاز کری۔

مزید : عالمی منظر