عوامی مسائل اور میگاپراجیکٹس

عوامی مسائل اور میگاپراجیکٹس
عوامی مسائل اور میگاپراجیکٹس

  

 68ویں یوم آزادی پر 18کروڑ عوام کے دل و دماغ پر خوف و ہراس چھایا ہوا تھا، اس بار یوم آزادی کی اہمیت اس لئے بھی تھی کہ وطن عزیز کی افواج دہشت گردوں کے خلاف ”آپریشن ضرب عضب“ میں مصروف تھیں اور کامیابیاں حاصل کررہی تھیں، لیکن دوسری طرف پریشان کن بات یہ تھی کہ عمران خان نے یوم آزادی پر لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔علامہ طاہرالقادری ”انقلاب مارچ“ کا اعلان کررہے تھے اور دونوں کا بنیادی مقصد حکومت کا تختہ الٹنا اور ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے ذریعے نئے انتخابات کرانا تھا، حالانکہ عام انتخابات نگران حکومت نے کروائے تھے،جس کی بعض اہم تقرریوں میں پیپلزپارٹی کے علاوہ عمران خان کے مشورے بھی شامل تھے، لیکن عمران خان انتخابات میں عوام کے سیاسی عمل سے پوری طرح آشنا نہیں تھے۔

بحرانوں کے ستائے ہوئے عوام نے ان کے جلسوں کو غیر معمولی رونق بخشی اور وہ انتخابی مہم کے دوران ایک مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے جو تبدیلی کا نعرہ بلند کررہے تھے، لیکن جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو ان کا وزیراعظم بننے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔دوسری طرف کسی بھی سیاسی پارٹی کو اس کی توقع کے مطابق نشستیں نہ مل سکیں، چنانچہ ہر سیاسی جماعت نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا جو عملی طور پر یا تو الیکشن کمیشن کے سر لگتا تھا،جس کے سربراہ فخرو بھائی تھے،جن کے نام کی عمران خان نے تائید کی تھی یا پھر اس کی ذمہ داری نگران حکومت پر عائد ہوتی تھی جو غیر جانبدار تصور کی جاتی تھی۔

 عمران خان نے بستر علالت سے جمہوریت کو ”ڈی ریل“ نہ ہونے کا اعلان کیا، لیکن دھاندلی کا الزام چند حلقوں میں برقرار رکھا اور ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ کیا۔ان کے اس مطالبے کا فیصلہ ٹربیونل میں ہونا تھا، لیکن ان ٹربیونلز سے جو نتائج سامنے آئے، وہ عمران خان کو قبول نہیں تھے۔ دوسری طرف علامہ طاہرالقادری کے پاکستان آنے سے پہلے 17جون 2014ءکو لاہور پولیس نے منہاج القرآن سیکرٹریٹ پر تجاوزات ختم کرنے کے لئے ہلہ بول دیا اور مزاحمت نے ایسی صورت اختیار کی کہ پولیس کو گولی چلانا پڑی،جس میں کئی ہلاکتیں اور 80سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے فوراً پاکستان واپسی کا پروگرام بنایا تو وہ اسلام آباد ائرپورٹ پر اترنا چاہتے تھے۔

چودھری برادران اور شیخ رشید انہیں وہاں خوش آمدید کہنا چاہتے تھے، لیکن حکومت کو قانون شکنی کا خطرہ تھا، چنانچہ ان کا طیارہ لاہور کی طرف موڑ دیا گیا، اس روز کے ہولناک واقعات اب تاریخ کا حصہ ہیں، تاہم گورنر پنجاب نے حالات کو روبہ اعتدال کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن منہاج القرآن اور عوامی تحریک کا آتش فشاں سُلگ رہا تھا اور ”انقلاب“ سے حکومت کا تختہ الٹنے کی تاریخ کا اعلان کرنے کے وعدے بھی کئے جا رہے تھے۔اس ضمن میں 10اگست 2014ءکا دن بھی اہم تھا کہ اس روز طاہر القادری نے لاہور میں یوم شہدا منانے کا اعلان کر رکھا تھا، لیکن حکومت نے اسے روکنے کے لئے جگہ جگہ کنٹینرز کھڑے کر دیئے تھے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری اس سے قبل پیپلزپارٹی کے دور میں ایک دھرنے کی کامیابی سے سرشار تھے، لیکن اس کامیاب دھرنے کا کوئی مطالبہ عمل میں نہ آیا اور حکومت تبدیل ہو گئی۔اب انہیں نوازشریف کی حکومت کا سامنا تھا،جس کی نوازشات سے وہ ماضی بعید میں خوب فیض یاب ہو چکے تھے، لیکن اب وہ اپنے ”انقلاب مارچ“ کے لئے عمران خان کی طرف دستِ تعاون بڑھا رہے تھے اور انہوں نے مارچ کے لئے 14اگست کا اعلان بھی کر دیا ، یعنی انہوں نے بھی عمران خان کی طرح عوام کے یوم آزادی کو روندنے کا تہیہ کر لیا۔غنیمت امر یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کے حق میں ہیں اور آئین کو بھی پامال نہیں کرنا چاہتیں، چنانچہ بیشتر جماعتوں نے عمران خان کو عقل کے ناخن لینے اور آزادی مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا۔

اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے انتخابات 2013ءمیں دھاندلی کی تحقیقات کرانے کے لئے سپریم کورٹ کے کمیشن کے قیام کے مطالبے کو مان لیا اور امیر جماعت اسلامی کے مشورے پر آزادی مارچ کے راستے پر کھڑی رکاوٹیں بھی ہٹالیں، لیکن اس دوران لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ ایک پٹیشن کا فیصلہ آ گیا کہ غیر آئینی طریقے سے آزادی مارچ اور دھرنا نہیں ہوسکتا اور تحریک انصاف وزیراعظم سے کس آئین کے تحت استعفیٰ مانگ رہی ہے؟ ٹیکنوکریٹ حکومت کے مطالبے پر تحریک انصاف میں انتشار پیدا ہو گیا اور جماعت کے صدر جاوید ہاشمی اپنے تحفظات کے ساتھ لاہور سے ملتان روانہ ہو گئے، انہیں منانے کے بعد اب غیر سیاسی حکومت کے الفاظ استعمال کئے جا رہے ہیں۔

آصف علی زرداری اور الطاف حسین جمہوریت بچانے اور حالات کو متوازن کرنے کی جو کوشش کررہے تھے، وہ رنگ لائیں اور میاں نوازشریف کی مفاہمانہ تقریر نے بھی اچھا تاثر پیدا کیا۔ نوازشریف کو اپنی داخلی کمزوریوں کا ادراک بھی کرنا ہو گا اور میگا پراجیکٹس کو التوا میں ڈال کر عوام کی بہبود کو فوقیت دینا ہوگی، اس تجزیے کی روشنی میں 68واں یوم آزادی مایوسی اور پریشانی کی گرد میں لپٹا ہوا تھا۔ہاتھ دعا کے لئے بلند ہیں کہ خدا اس ملک کو سلامتی رکھے اور اس کے لیڈروں کو سیاسی دانش سے سرفراز کرے اور وہ عوام کے آئینی حقوق ادا کرنے پر پوری توجہ صرف کر سکیں،آمین!

مزید : کالم