فوج کو دھکا دینے کی کوشش نہ کیجئے!

فوج کو دھکا دینے کی کوشش نہ کیجئے!
فوج کو دھکا دینے کی کوشش نہ کیجئے!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کا سیاسی بحران زیادہ گھمبیر ہوتا چلا جا رہا ہے اور لوگوں کی مشکلات ہیں کہ ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس طرح کی گنجلک صورت حال کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی، حتیٰ کہ 1971ءمیں بھی پاکستان ( اس وقت کے مغربی پاکستان) میں بھی عوام کی مشکلات کا گراف اتنا اونچا نہیں گیا تھا، جتنا آج جا رہا ہے اور آنے والے کل میں جانے کا اندیشہ ہے۔

اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرین کے علاوہ وفاقی دارالحکومت کے دوسرے باسیوں کو زندگی کے روز مرہ معمولات کی جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے، وہ ناگفتہ بہ ہیں۔

عمران خان ایک نیا پاکستان بنانے کی نوید دے رہے ہیں۔لیکن وہ پاکستان تو ہنوز پردئہ تقدیر میں ہے، زمین پر موجودہ پاکستان کے جو آثارنظر آ رہے ہیں وہ پرانے پاکستان کو مزید ”پرانا“ بنا رہے ہیں۔تحریک انصاف کے جواب میں اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں دوسری تحریکیں اور سیاسی پارٹیاں جو اینٹی PTI ہیں، وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، کاروبار زندگی ٹھپ ہو رہا ہے، ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر دن کو بِٹ بِٹ سکرین کی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھے جانے کا دورانیہ بڑھ چلا ہے اور رات کو جاگ جاگ کر بے خواب ہونے کی وجہ سے بچوں، جوانوں، خواتین اور بزرگوں سب کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔آج کسی اخبار میں عمران خان کے بارے میں لکھا تھا کہ 14اگست سے لے کر آج تک مسلسل کنٹینر میں سونے جاگنے کی وجہ سے ان کا چہرہ مہرہ وحشت زدہ نظر آنے لگا ہے، آنکھوں میں بے خوابی کے ڈورے نمایاں ہیں اور ان کے نیچے سیاہ حلقے ان کی بے آرامی کی غمازی کر رہے ہیں۔لیکن یہی حال پاکستان کی بیشتر آبادی کا بھی ہے۔اس کو انتظار ہے کہ کب کوئی فیصلہ ہو اور جان چھوٹے ۔ہر شب نئی تاریخ مل جاتی ہے اور اگلے پروگرام کا جان لیوا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ اس سارے پراسس نے پاکستانیوں کے معمولاتِ زندگی ابتر کر دیئے ہیں اور اس ابتری میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔چلو یہ سب کچھ قابل قبول بھی ہو سکتا تھا،اگر کوئی نتیجہ برآمد ہونے کے آثار ملتے۔ لیکن اگر فیصلہ کن مرحلہ غیر متوقع طور پر طول کھینچتا چلا جائے اور گومگو کا عالم طاری رہے تو اس سے بے یقینی کی جو کیفیت پیدا ہورہی ہے، وہ سوہانِ روح بن رہی ہے۔

مجھے عمران خان کی بیشتر باتوں سے اتفاق ہے۔انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور ضرور ہوئی ہے....الیکشن کمیشن کے اراکین فراڈ کے مرتکب ہوئے ہیں اور ضرور ہوئے ہیں.... اور عوام کا ”بھاری“ مینڈیٹ ایک ”بھاری چوری“ کی صورت میں سامنے آنے کے تمام شواہد بورڈ پر نظر آنے لگے ہیں۔

اتوار اور سوموار کی درمیانی شب محمد افضل خان ،سابق ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن ، پاکستان نے ساڑھے تین گھنٹے کا جو انٹرویو مبشر لقمان کے پروگرام ”کھراسچ“ میں ARYنیوز پر دیا ہے ،وہ اگرچہ اب تک الزام کے زمرے میں آتا ہے اور جسٹس ریاض کیانی کے جوابی انٹرویو/ پریس کانفرنس کا انتظار ہے (جو آپ شائد اس کالم کی اشاعت سے پہلے دیکھ اور سن چکے ہوں گے) لیکن کیا یہ ساری ایکسرسائز کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنے کی خبر دے رہی ہے یا فیصلے کی گھڑیوں کو طویل تر کر رہی ہے؟

پاکستان کا ہر شہری ہر صبح اور ہر شام ایک نئے مخمصے میں گرفتار ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نون لیگ کا بھاری مینڈیٹ بکھر رہا ہے۔14 اگست سے آج تک 12،13دن گزرگئے ہیں۔ن لیگ کی کریڈیبلٹی اب وہ نہیں رہی جو 14 اگست سے پہلے تھی۔ماڈل ٹاﺅن کی فائرنگ،14بے گناہوں کا قتل عام، 85بے گناہوں کا زخم زخم ہونا، رانا ثناءاللہ کا مستعفی ہو جانا، FIRکا درج نہ ہونا اور اب یہ الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری کے انکشافات، ان تمام واقعات نے لیگ کی شہرت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔مجھے یقین نہیں کہ نون لیگ کے کرتا دھرتا، اس نقصان کی تلافی کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے کہ اس نقصان کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کا پورا ہونا محال لگتا ہے، لیکن اس نقصان کے مقابلے میں فائدہ کس کو ہوا ہے؟پی ٹی آئی ....یا....؟ کوئی ”آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا“ والا مصرع کتنی بار دہرائے؟

عمران خان کی نئی کالیں (Calls) بھی دن بدن نئے گل کھلانے کی ”خوش خبریاں“ دے رہی ہیں۔مثلاً سرکاری بینکوں سے اپنی جمع شدہ رقوم نکلوا لو.... ٹول ٹیکس یا کوئی اور سرکاری ٹیکس نہ دو.... پہیہ جام کر دو، جنرل سٹرائیک کی طرف جاﺅ.... بالفرض اگر یہ سب کچھ معرضِ تکمیل میں آجاتا ہے تو اہلیانِ پاکستان کی مشکلات کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔

ARY نیوز پر محمد افضل خان کے انکشاف نے عدالتِ عظمیٰ کی غیر جانبداری کے تابوت میں بھی گویا آخری کیل ٹھونک دی ہے! پہلے لوگ چیف جسٹس افتخار چودھری کی کارستانیوں کو سن سن کر حیران ہو رہے تھے، اب چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی پر لگائے گئے الزامات سن کر پریشان ہیں کہ عدل و انصاف کے اتنے بلند زینے پر بیٹھ کر بھی یہ فاضل اور محترم ہستیاں ایسے ایسے گل کھلاتی ہیں۔مَیں نے اس رات کئی بار سوچا کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا! لیکن پھر کہیں سے وجدان کی آواز آئی کہ جب کوئی معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے تو اس کے سارے ستون (Tiers)روبہ زوال ہو جاتے ہیں....

سب سے پہلے فوج کا بت توڑاگیا.... لوگ چھ عشروں تک فوج کو ”حساس ادارہ“ کہتے رہے، پھر اس میں تھوڑی سی ترمیم ہوئی اور اس کو ”اسٹیبلشمنٹ “ کا لبادہ اوڑھا دیا گیا۔( اس لبادے میں بیورو کریسی کی شمولیت کا احتمال بھی تھا) اور آخر آخر تو لوگ کُھل کُھلا کر سامنے آ گئے کہ فوج نے یہ کیا اور فوج نے وہ کیا....نجم سیٹھی اور جیو نیوز پر ان کے ہم نوا دوسرے صحافیوں مثلاً حامد میر اور انصارعباسی وغیرہ نے یہ گردان شروع کر دی کہ فوج کوئی مقدس گائے نہیںکہ اس کا نام ”حساس ادارے“ اور ”اسٹیبلشمنٹ “ کے الفاظ کے پردوں میں چھپانے کا تکلف کیا جائے؟

اس کے بعد دوسرا وار سیاستدانوں پر کیا گیا۔یہ وار اگرچہ پہلا وار نہ تھا لیکن اس مقدس گائے کی گردن پر بھی وہ وہ چھریاں چلائی گئیں کہ جمہوریت کے حسن کا نعرہ ایک تمسخر بن گیا۔

عدلیہ کی باری سب سے آخر میں آئی۔پاکستان کی پبلک میں عدلیہ کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔یہ جملہ کہ ”جج خود نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں“ جو ماضی ءقریب تک زبان زدِ خاص و عام تھا، اس کی کھلم کھلا نفی کی جانے لگی۔افتخار چودھری نے تو تمام حدیں کراس کر لیں۔انتظامیہ اور عدلیہ میں کون برتر اور کون کمتر ہے، اس پر وکلاءاور دانشوروں نے مباحث کے انبار لگا دیئے اور دلائل کے طومار باندھ دیئے۔ 2008ءسے لے کر 2013ءتک پی پی پی کی حکومت میں اگر کوئی پتہ بھی حریف سیاسی جماعت پر گرتا تو سووموٹو نوٹس لے لیا جاتا، لیکن اگر حکومتی پارٹی کے درخت بھی جڑ سے اکھڑ جاتے تو اس کو آئین پاکستان کے عین مطابق قرار دے کرمنہ دوسری طرف پھیر لیا جاتا۔ یقین نہ آئے تو یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف صاحبان سے پوچھ لیں۔

اس ساری تگ و دو میں میڈیا کا رول بھی نمایاں ہو کر سامنے آتا رہا۔اس ایمپائر کے شاہنشاہوں کو بھی اپنے فنِ حکمرانی کا بڑا زعم تھا، بڑا غرور تھا، لیکن جب وہ ٹوٹا تو سارے تانے بانے بکھر گئے۔نون لیگ کی حکومت نے جیو نیوز کی حمائت میں بالخصوص پاک فوج سے الگ ایک مخالف راستہ اختیار کیا تو فوج جو حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے، کی راہیں حکومت سے جدا ہونے لگیں۔یہ دراڑ اب تک موجود ہے اور اس خلیج کو پاٹا نہیں جا سکا۔ عمران خان کی اَنا اور نوازشریف کا پندار اپنی جگہ لیکن فوج کا بھی اپنا ایک الگ تشخص ہوتا ہے۔وہ سویلین حکمرانوں کے ماتحت ہو کر رہنا چاہتی ہے۔لیکن اگر کوئی سویلین حکمران اپنی ہی فوج کی خود احترامی (Self Respect) کا خیال نہ رکھے تو یہ آبگینہ ٹوٹنے میں دیر نہیں لگاتا۔

حال ہی میں تحریک انصاف کے ایک بلند مرتبت رہنما جاوید ہاشمی نے مارشل لاءکی بھنک سن کر پارٹی سے قطع تعلقی اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ دراصل کوئی بھی سیاسی پارٹی مارشل لاءنہیں چاہتی۔آئین کی دفعہ 245کا نفاذ، فوج کو مارشل لاءکی طرف لے جانے یا نہ لے جانے کا ایک لٹمس تھا جس نے ثابت کر دیا کہ فوج بھی ہرگز مارشل لاءنہیں چاہتی، لیکن جیسا کہ لندن میں بیٹھے الطاف بھائی نے انتباہ کیا ہے کہ حکومت اور PTI کا سٹینڈ آف جلد ختم ہونا چاہیے،وگرنہ فوج کی مداخلت کا امکان ہے تو یہ بیان ان کا ذاتی خیال ہو سکتا ہے، فوج کی سوچ نہیں.... البتہ فوج یہ ضرور سوچ رہی ہے کہ اس کشاکش نے ایک عام پاکستانی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔اس کو مزید طول نہ دیا جائے اور اس کو جلد کسی نہ کسی منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔فوج پانچویں بار اس دلدل میں کودنا نہیں چاہے گی.... لیکن اس کو دھکا دینے کی کوشش بھی تو نہیں کرنی چاہیے۔

مزید : کالم