مایوس ہونے کی ضرورت نہیں

مایوس ہونے کی ضرورت نہیں

میں جب بھی یہ لکھتا ہوں کہ سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے موجودہ جمہوریت کی اصلاح کی جائے اسے عوام کی امنگوں کے مطابق ڈھالا جائے اور اس میں موجود خامیوں کو دور کر کے حقیقی جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں تو بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ میں جمہوریت کا مخالف کیوں ہوں۔ یعنی اب صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ لوگ کوئی مثبت بات بھی نہیں سننا چاہتے میں اگر یہ کہوں کہ مجھ سے بڑا جمہوریت کا حامی کوئی نہیں تو یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہو گی، مگر حقیقت یہی ہے کہ جمہوریت کے سوا میرے ذہن میں طرز حکمران کا دور کوئی تصور آتا ہی نہیں میرے ہی نہیں کسی بھی باشعور فرد کے لئے جمہوریت ہی پہلی اور آخری چوائس ہے۔ مگر کیا جمہوریت کے اس عشق میں مبتلا ہو کر ہم ان تمام کمزوریوں اور خامیوں کو نظرانداز کر دیں، جنہوں نے ہمارے ہاں رائج جمہوریت کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ جو ممالک حقیقی جمہوریت سے بہرہ مند ہیں، کیا وہاں بھی اسی قسم کی جمہوریت ہے، جیسی کہ ہم بھگت رہے ہیں۔ ایک بے لگام اور عوامی احتساب سے عاری جمہوریت صرف عوام کو قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالنے کا حق دیتی ہے۔ اس بات کی ضمانت بھی نہیں دیتی کہ ان کی رائے کا احترام بھی کیا جائے گا اور نتیجہ ان کی حسب منشا برآمد ہو گا۔

میں بھی اسی رجائیت کا قائل ہوں۔ جس میں رجائی مبتلا ہیں۔ انتخابات کا سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت کی اصلاح بھی ہو جائے گی۔ ایک عذر ہمیشہ سے یہ گھڑا جاتا رہا کہ ملک میں چونکہ بار بار مارشل لاءآتا رہا، اس لئے جمہوریت کو مستحکم ہونے کا موقع نہیں ملا۔ جمہوریت کا مستحکم ہونا تو ایک پہلو ہے، جمہوریت عوام کی امنگوں کا استعارہ کیوں نہیں بنی۔ آج جمہوریت ایک بدترین بحران کا شکار ہے۔ اس وقت ملک میں جو افراتفری اور بے یقینی ہے اس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی۔ پہلی بار ملک کا دارالحکومت عملاً حکومت کے قبضے سے نکلا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ پارلیمنٹ کے دروازے بھی بند ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جو حالات کو ہمیشہ پوائنٹ آف نو رٹرن تک لے آتی ہے۔ اس میں اتنا ظرف اور شعور کیوں نہیں کہ صورتحال کو بگڑنے سے پہلے سنبھال سکے۔ آج ہم آمریت سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ اگر جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے تو کسی کو بھی حیرانی نہیں ہو گی، کیونکہ پچھلے پندرہ دنوں میں فوج کی آمد کا تذکرہ اتنی بار کیا گیا ہے کہ اب کان اس سے مانوس ہو گئے ہیں کیا یہ سیاسی قوتوں کی ناکامی نہیں کہ پندرہ دن ہونے کو آئے ہیں، ملک کو مفلوج کرنے والا ایک مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ مذاکرات، مذاکرات کی جو دوڑ لگی ہوئی ہے، اس میں رتی بھر سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کے لئے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنا ناممکن ہو گیا ہے۔ حکومت اس کا الزام دھرنے والوں کو دے رہی ہے اور دھرنا دینے والے حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ درد مند دل رکھنے والے پاکستانی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، ارے کوئی راستہ نکالے، کوئی ڈیڈ لاک ختم کرے وگرنہ تیسری قوت کو مداخلت کرنا پڑے گی۔ مگر نقارخانے میں ان کی آواز کوئی سنتا ہی نہیں۔

جمہوریت کی اساس عام انتخابات ہیں ۔ یہ طے شدہ طریقہ کار دنیا بھر میں رائج ہے۔ ہم جمہوریت کو عوام کے سامنے جواب دہ تو کیا بنائیں گے، جمہوریت کی اس اساس کو ہی ٹھیک نہیں کر سکے۔ ہماری جمہوریت کو ہمیشہ سب سے بڑا خطرہ انتخابی دھاندلیوں سے رہا ہے۔ انہی کی وجہ سے تحریکیں چلیں اور مارشل لاءبھی لگے۔ اس بار بھی سارے جھگڑے کی بنیاد یہی ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم 67سال گذر جانے کے باوجود اپنے انتخابی عمل کو شفاف نہیں بنا سکے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہے تو ہماری جمہوریت کیسے مضبوط ہو سکتی ہے۔ حکومت اگر آغاز میں ہی دھاندلی کے الزامات پر سنجیدہ توجہ دیتی اور شکایت کرنے والوں کو مطمئن کرنے کی عملی کوششیں کرتی تو حالات اس نہج پر نہ آتے کہ جہاں سارا نظام ہی داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے کردار سامنے آ رہے ہیں، جو انتخابات کا حصہ رہے۔ ان کی کہانیاں حالات کو مزید سنگین اور متنازعہ بنا رہی ہیں۔ گویا رفتہ رفتہ مئی 2013ءکے انتخابات ایک ایسا گورکھ دھندہ بن گئے ہیں، جسے سلجھانا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس سارے ہنگامے کا ایک مثبت اثر تو یہ ہوا ہے کہ انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر سب متفق ہو گئے ہیں ۔ دیر آید درست آید کے مصداق اگر آنے والے انتخابات ہی شفاف طریقے سے منعقد ہوئے تو ہم حقیقی اور جوابدہ جمہوریت کی طرف گامزن ہو جائیں گے تاہم یہ مطالبہ بھی بے جا نہیں کہ انتخابی دھاندلی میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، تاکہ ایک اچھی مثال قائم ہو اور آئندہ کوئی عوام کامینڈیٹ چرانے کی جرا¿ت نہ کرے۔

حالیہ بحران نے بہت سے نئے امکانات بھی وا کر دیئے ہیں عوامی شعور کے بڑھتے ہوئے ریلے نے ان رویوں کو رد کر دیا ہے، جو ہماری روایتی سیاست کا مرکز رہے ہیں عوام اب اقتدار میں شراکت مانگتے ہیں۔ انہیں نظر انداز کرنا اب شاید ممکن نہ رہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد انہیں فراموش کر دینے کی جو بدعت ہماری سیاست میں موجود رہی ہے، عوام اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اس حوالے سے جو شعور بیدار کیا ہے ۔ وہ جمہوریت کو نظام خلوت سے باہر لے آیا ہے۔ اب جمہوریت کو شمع محفل بن کر رہنا ہے، عوام کے درمیان، عوام کے لئے جمہوریت کی اصلاح ہو گی تو سارے نظام کی اصلاح ہو جائے گی۔ ساری خرابیاں اس وجہ سے موجود ہیں کہ ہم نے جمہوریت کو ایک محدود طبقے کی آمریت کے طور پر قبول کر رکھا ہے۔ یہ طبقہ نام تو ہمیشہ عوام کا لیتا ہے، لیکن اس کی ساری جمہوریت اپنے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ عمران خان کی یہ بات اس حد تک درست ہے کہ اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ وہ مخصوص حربے استعمال کر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گا تو اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ عوام کی خدمت کرے۔ جب عوام کے ووٹ کی اہمیت بڑھے گی تو عوام بھی اہم ہو جائیں گے۔ پھر ان کے ایک ایک ووٹ کے لئے امیدواروں کو جان مارنی پڑے گی۔ وہ ان کی بات بھی سنیں گے اور ان کی خدمت بھی کریں گے۔ یہی وہ عمل ہے جو جمہوریت کو ایک آئیڈیل نظام کا مرتبہ عطا کرتا ہے۔

بدلتے ہوئے حالات میں پاکستانی سیاست کو داﺅ پیچ اور جوڑ توڑ کے عمل سے بھی نکالنا ہو گا۔ سیاست صرف شعبدہ بازی یا دھوکہ دہی کا نام نہیں، اس میں شفافیت اور اعلیٰ اقدار کا فروغ ضروری ہے۔ نئی نسل کی حالیہ زمانے میں سیاسی حوالے سے جو تربیت ہوئی ہے وہ اس تربیت سے بالکل مختلف ہے۔ جس سے روایتی سیاستدان بہرہ مند رہے ہیں۔ سیاست کو بدقسمتی سے ظاہر وباطن کے تضاد کی عملی شکل بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی لوگوں کا امیج اسی لئے منفی انداز میں ابھرتا ہے کہ ان کے کرداری اوصاف سیاست کی گرد سے گہنا گئے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو سیاستدان ملک کار ہبر ہوتا ہے۔ وہ عوام کا نمائندہ ہی نہیں ان کا رہنما بھی کہلاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست کے گدلے پن نے سیاستدانوں کو بھی رہبر کی بجائے رہزن کے روپ میں پیش کیا ہے۔ آج یہ تاثر عام ہے کہ سیاست لوٹ مار کا نام ہے اور سیاست میں لوگ صرف پیسہ بنانے کے لئے آتے ہیں۔ اس منفی تاثر کی وجہ سے سیاست جیسا مقدس شعبہ عوام کی نظر میں بے وقعت ہو کر رہ گیا ہے۔ اب سیاست میں نئی نسل شامل ہو چکی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کے ووٹ بھی ہیں اور سیاست میں عملی دلچسپی بھی لے رہے ہیں۔ آنے والے انتخابات میں ان کا کلیدی کردار ہو گا، ایسے میں سیاست کو روایتی طرز عمل سے نکالنا وقت کی ضرورت ہے۔ گویا اس وقت ہم تبدیلی کے عمل سے گذر رہے ہیں۔ جو اس تبدیلی کا ساتھ دیں گے وہ آنے والے دنوں میں اپنا سیاسی وجود برقرار کھ سکیں گے باقی نابود ہو جائیں گے۔ میں ذاتی طور پر اس حوالے سے رجائی رویہ رکھتا ہوں اور پرامید ہوں کہ ہمارآنے والا کل مثالی جمہوریت سے روشن ہے۔

مزید : کالم