فرسودہ نظام حکومت کا جانا ٹھہر گیا

فرسودہ نظام حکومت کا جانا ٹھہر گیا
فرسودہ نظام حکومت کا جانا ٹھہر گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آپ نے دیکھا جاگیردار وں اور سرمایہ داروں کی جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ ایک وقت میں 70 ڈشوں پر مشتمل کھانا کھایا جاتا ہے۔ اس ملک کے غریب لوگوں کی بھاری اکثریت کو روٹی اور شکر ملا پانی یا لال مرچ کے ساتھ بھی کھانا پیٹ بھر میسر نہیں ہے۔ کسی کو اعتراض کیوں ہوتا اگر میاں محمد نواز شریف 170ڈشیں اپنے مہمان کے سامنے رکھتے ،لیکن اس بات پر سب ہی کوشدید اعتراض ہوگا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے ایسا کیوں کیا، لیکن وزیر اعظم کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ پر قابض جمہوریت کے مجنوں ان سے زبانی احتجاج کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔ یہ اسی جمہوریت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جس نے اس ملک کے کروڑوں لوگوں کو ایک وقت کی روٹی سکون کے ساتھ کھانے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ۔ صورت حال کو بروقت سنبھالنا ہی تو بہتر طرز حکمرانی کہلاتا ہے۔ ماڈل ٹاﺅن لاہور میں جو کچھ ہوا اس پر فوری کارروائی میں سست روی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ پھر دو سیاسی جماعتوں کا مارچ شروع ہوا ۔ وہ پاکستان کے یوم آزادی پر شروع ہوا، حکومت نے دونوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے دیکھا تک نہیں ۔ پھر مذاکراتی کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیری حربے اختیار کئے گئے۔ مذاکرات میں غیر سنجیدگی نمایاں رہی۔ پاکستان کی ماضی کی سیاسی تاریخ میں اسی وقت بحران پیدا ہوا ہے جب حکمران اہم مذاکرات میں سنجیدہ نہیں رہے۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری 14 اگست سے اسلام آباد میں دھرنوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کے مطالبات کیا ہیں اور کیا نہیں ، یہ بحث بعد میں کرتے ہیں ۔ حکومت کے علم میں تھا کہ دونوں مارچ میں شامل لوگ اسلام آباد کی طرف آ رہے ہیں، لیکن جرا¿ت نہیں تھی کہ ماڈل ٹاﺅن لاہور کے واقعہ کے بعد پولیس حکام کارروائی کے لئے تحریری احکامات جاری کرتے۔ اسی لئے ایک جگہ سے اٹھ کر انسانوں کا اتنا بڑا ہجوم کنٹینروں کو الٹتے ہوئے آسانی سے شاہراہ دستور پر پہنچ گیا۔ شاہراہ دستور صرف ایک شاہراہ ہی نہیں ، بلکہ پاکستان کے اقتدار کی شہ رگ ہے۔ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتیں اس شاہراہ پر واقع ہیں۔ پارلیمنٹ میں داخل ہونے کے لئے وزیر اعظم اور اراکین کو عمارت کا پچھلا دروازہ استعمال کرنا پڑا۔ اس سے زیادہ حکومت کی بے بسی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اجلاس میں اونچی اونچی آوازوں میں تقاریر تو کرتے رہے، لیکن کسی نے ایسی ہمت کا مظاہرہ نہیں کیا کہ مظاہرین میں آکر عمران خان اور طاہر القادری سے ملاقات کرتے۔ مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی سخت تقاریر کر رہے تھے، لیکن وزیر اعظم کو مشورہ دینے کے علاوہ معاملے کو حل کرانے کے لئے کوئی قابل عمل تجاویز لے کر نہیں آئے۔ مولانا فضل الرحمان کے والد محترم مرحوم مفتی محمود اس ٹیم کا حصہ تھے جو بھٹو حکومت کی ٹیم کے ساتھ، جس میں بھٹو خود شامل تھے، مذاکرات کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔

عمران خان ہوں یا علامہ طاہر القادری، ان کے ساتھ مذاکرات اس لئے مشکل کام نہیں ہیں کہ انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ جو کچھ طے پائے گا اس پر عمل بھی کرایا جائے گا۔ عمران خان اور طاہر القادری نے اچانک اپنے مطالبات پیش نہیں کئے ہیں۔ عمران خان کی سرگرمیاں ، جلسے اور تقاریر گزشتہ ایک سال سے ان ہی مطالبات پر مبنی ہیں۔ طاہر القادری نے جنوری 2013 ءمیں اسلام آباد میں دھرنا لگایا تھا اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس میں بھی انتخابی اصلاحات کا واضح ذکر موجود تھا۔ اس معاہدہ پر پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے رہنماﺅں نے دستخط کئے تھے، لیکن اس پر عمل در آمد نہیں کیا گیا ۔ بامقصد ، قابل عمل اور نتیجہ خیزانتخابی اصلاحات ہی تو موجودہ جمہوریت کے مجنوﺅں کو قبول نہیں ہیں۔

حکومت اس امید پر جی رہی ہے کہ لوگ بیٹھے بیٹھے تنگ آ جائیں گے اور خود ہی اٹھ کر چلے جائیں گے۔ حکومت کے حامی، پاکستان میں موجود جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی جمہوریت پر یقین رکھنے والے بھی یہ ہی سوچ رہے تھے کہ لوگ بالآخر چلے ہی جائیں گے۔ حکمران طبقہ یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ یہ جو لوگ شاہراہ دستور پر دھرنا دئے بیٹھے ہیں ، نظام میں تبدیلی کا دیرینہ مطالبہ لئے بیٹھے ہیں۔ ان عام لوگوں میں سے کسی کو شائد ہی پارلیمنٹ میں جانے کا موقع ملے ۔ یہ لوگ70 ڈشوں کا کھانا نہیں مانگتے، بلکہ وہ تو اس ملک میں غریب آدمی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی امید لئے بیٹھے ہیں ۔ پینے کے صاف پانی کا علامتی ذکر تو میں اس لئے کر رہا ہوں کہ جس ملک میں اس کے شہریوں کو زندگی کی انتہائی اہم ترین بنیادی ضرورت کی چیز یعنی پینے کا صاف پانی یہ جمہوری حکومتیں فراہم نہ کر سکیں ، وہ کیا انصاف دلائیں گی، کیا تحفظ فراہم کریں گی اور آئین میں درج انسانی حقوق اور شہریوں کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیوں کر کریں گی۔

 پارلیمنٹ میں کئی کئی سال سے نمائندگی کرنے والوں کے اپنے روز و شب تو بہتر گزر رہے ہیں اسی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ پورے ملک کے عوام ان ہی جیسے شب و روز گزار رہے ہوں گے۔ زبانی جمع خرچ تک تو وہ عوام کے مصائب کا ذکر کرتے ہیں، لیکن اس کے آگے عملًا کچھ نہیں کرتے۔ عوام کے ان ہی مصائب کو ختم کرانے لئے لوگ عمران خان اور علامہ قادری کے ساتھ شاہراہ دستور پر موجود ہیں۔ اور جو نہیں پہنچ سکے ،وہ بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں، اراکین پارلیمنٹ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت موجود رہے تو پھر وہ طرز حکمرانی سے متعلق معاملات کو بہتر کیوں نہیں بنواتے۔ وہ چاہتے ہیں نا کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں تو وہ کیوں اقدامات تجویز کر کے حکومت کو انتخابی اصلاحات کرنے پر مجبور نہیں کرتے۔ یہ اراکین اور حکومت یا موجودہ نظام کے حامی دانشور حضرات کیوں نہیں چاہتے کہ جس طرح وہ منرل واٹر پیتے ہیں، ملک کے تمام لوگوں کو پینے کے لئے وہ ہی پانی میسر ہو، جن تعلیمی اداروں میں ان کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، عام شخص کے بچوں کو بھی وہیں تعلیم کی سہولت حاصل ہو، جس طرح تحفظ کے ساتھ وہ زندگی گزار رہے ہیں اسی تحفظ کے ساتھ اس ملک کا عام آدمی بھی زندگی گزار سکے۔

یہ لوگ تو پاکستان میں رائج موجودہ جمہوریت کے بڑے دل دادہ ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہی جمہوریت کے چیمپیئن ہیں، یہ ہر حال میں جس جمہوریت کو قائم رکھنے کے خواہاں ہیں تو عام لوگوں کے لئے بھی تو ان ہی تمام کی تمام سہولتوں کے حصول کے لئے ڈٹ جائیں جن سے ان کے خاندان استفادہ کر رہے ہیں۔ یہ جس جمہوریت کے تسلسل کے لئے الفا ظ کی جنگ میں مصروف ہیں ، اس لئے کہ اس جمہوریت میں ان کے لئے، ان کے رشتہ داروں کے لئے، ان کی خوشامد کرنے والوں کے لئے جو مراعات موجود ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عام آدمی والی عام جمہوریت آگئی تو ان کی مراعات ختم ہو جا ئیں گی۔ انہیں بھی یوٹیلیٹی اسٹوروں پر ایک کلو شکر کے لئے قطار میں کھڑا رہنا پڑے گا۔ اسی لئے مزاحمت کر رہے ہیں۔ کیا وزیر اعظم سمیت اراکین پارلیمنٹ اس بات پر رضا مند ہوں گے کہ وہ اپنے تمام رشتہ داروں کے نام ظاہر کریں جو سینٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہیں، جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اہم ترین سرکاری عہدوں پر مقرر ہیں، جنہوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں میں کیا کیا مالی مفادات حاصل کئے ہیں؟

عام آدمی والی جمہوریت ، بامقصد ، قابل عمل اور نتیجہ خیزانتخابی اصلاحات کے بعد صرف اور صرف صاف شفاف غیر جانبدارانہ اور کسی مداخلت کے بغیر کرائے گئے انتخابات کے ذریعے ہی پر امن طور پر آسکتی ہے ۔ دوسرا طریقہ پر تشدد ہے ۔ حالیہ صورت حال پر تجزیہ کرنے والے دانشور اور اینکر حضرات لوگوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں کہ ملک میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ خون ریزی ہو جائے گی۔ پاکستان کے قیام کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے زندگی شروع کی تھی، لیکن 67سال گزرنے کے باوجود وہ 70 ڈشیں تو کیا ، ایک وقت بھی پیٹ بھر کھانا کھانے کے قابل نہیں ہو سکے۔ انہیں کیا غرض کہ خانہ جنگی اور خون ریزی میں کس کا کتنا نقصان ہوگا۔ علامہ اقبال کہتے ہیں : ” جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی، اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو “ ۔ اس خون خرابے سے بچنے کے لئے وقت کی آواز یہ ہی ہے کہ کسی تاخیری حربے کے بغیر قابل عمل انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا جائے اور نافذ کی جائیں ، انتہائی غیر جانبدار افراد پر مشتمل الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے، موجودہ الیکشن کمیشن کے اراکین سے بااختیار کمیشن کھلی کارروائی میں معلومات حاصل کرے۔

عمران خان اور طاہر القادری بھی تو یہ ہی بات کر رہے ہیں ۔ اختلاف کہاں ہے؟ مذاکرات کی میز پر کھلے دل کے ساتھ بیٹھ جائیں ۔ موجودہ پارلیمنٹ کے لوگ اس حکمران ٹولے کے ساتھ کھڑے کیوں ہیں جو اس ملک کے عام آدمی کی قیمت پر زندہ ہے۔ یہ طبقہ عام پاکستانی کو اس دور جدید میں بھی غلام بنا کر رکھے ہوئے ہے۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے، لیکن اسلام آباد میں پاکستان عوامی تحریک کے سن 2013ءکے دھرنے اور 2014ءکے انقلاب مارچ اور پاکستان تحریک انصاف کے آازدی مارچ نے ایک بات تو طے کر دی ہے کہ لوگوں نے پاکستان میں موجود دقیانوسی، دیمک زدہ، بوسیدہ، اور بدبو دار نظام حکومت اور طریقہ انتخابات کو تبدیل کرانے کا عزم کر لیا ہے۔آج ہوگیا تو پر امن طور پر ہو جائے گا۔ ممکن ہے کہ وہ لوگ 14 اگست 2014 سے کی جانے کوشش میں کامیاب نہ ہو سکیں ،لیکن پر عزم لوگ جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ انقلاب فرانس پہلی کوشش میں نہیں آیا تھا۔ والٹیئر کو منوں کے حساب سے کاغذ کالے کرنا پڑے تھے۔ روسو کی تحریریں کام آئیں اور انقلاب فرانس نے دس سال کا عرصہ لیا تھا۔ چینی انقلاب لانگ مارچ سے قبل سے انگڑائی لے رہا تھا۔ مصر میں لوگوں کا سانس گھٹنے لگا تو سانس لینے التحریر اسکوائر آگئے تھے۔ لیبیا میں قذافی کے جبر نے لوگوں کو مارو یا مر جاﺅ کی حد پر پہنچا دیا تھا۔جان بچانے کے لئے بھاگتے ہوئے قذافی کو نوجوانوں نے کسی عدالت میں لے جائے بغیر مار دیا تھا۔ رومانیہ میں بھاگتے ہوئے صدر چاﺅ شسکو کو چوکی کے چوبدار نے بھاگنے سے روک لیا تھا۔ یہ سب کچھ انقلابوں کی داستانوں میں درج ہے۔ پاکستانی دانشور اور تعلیم یافتہ لوگ جن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ایک ہی دھرنے سے ڈھیر ہوگئے ہیں۔ کسی کو شاہراہ دستور پر کچرہ بہت نظر آرہا ہے تو کسی کو دھرنے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے فضلے کی بدبو ستا رہی ہے۔ ان لوگوں کو نہ جانے کیوں پاکستان میں موجود دقیانوسی، دیمک زدہ، بوسیدہ، اور بدبو دار نظام حکومت اور طریقہ انتخابات کے نتیجے میں پرورش پانے والی جمہوریت سے اٹھنے والی بدبو نہیں ستاتی ،جس میں مٹھی بھر لوگوں کے لئے سب کچھ ہے اورکروڑوں لوگوں کے لئے کچھ بھی نہیں اور ان کروڑوںلوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔

مزید : کالم