دھرنے اور خواتین!

دھرنے اور خواتین!
دھرنے اور خواتین!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عمران خان ملک و قوم کے لئے جس آزادی کے طلب گار ہیں اور طاہر القادری جس انقلاب کے خواہاں ہیں، وہ تو جب وقوع پذیر ہوں گے سو ہوں گے، لیکن دونوں جماعتوں کی اس سلسلے میں جدوجہد میں سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے ملک کی خواتین کو سیاسی طور پر خاطر خواہ حد تک متحرک کر دیا ہے۔کراچی میں بھی عمران خان کی حمایت میں کلفٹن کے علاقے میں جمائے جانے والے دھرنے میں خواتین ہی پیش پیش دکھائی دیں، بالکل ایسے ہی جیسے ایم کیو ایم کے جلسوں میں خواتین کا کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔عوامی تحریک کا کردار اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ ایک مذہبی جماعت ہونے کے باوجود اس میں خواتین کی بڑی تعداد نمایاں طور پر متحرک نظر آتی ہے، ورنہ تو زیادہ تر مذہبی جماعتیں یا مذہبی ذہن رکھنے والے لوگ عورت کے چار دیواری سے باہر نکلنے کے قائل نہیں۔یہ اور بات ہے اور اچھی بات ہے کہ ایسے لوگ بھی بچیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں، ورنہ ایک زمانہ تو یہ تھا کہ قسمت والی بچیاں ہی سکول یا کالج کی شکل دیکھ سکتی تھیں۔

اس زمانے کی ایسی ہی ایک قسمت والی خاتون کا نام شاہدہ قاضی ہے، جو سندھ کے ایک ممتاز گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔انہوں نے نہ صرف یہ کہ تعلیم حاصل کی، بلکہ عملی زندگی کے لئے صحافت کے دشوار گزار راستے کا انتخاب کیا۔وہ صحافت میں ماسٹرز کرنے والی پہلی طالبہ تھیں، پھر انہیں پرنٹ میڈیا کی اولین رپورٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا،جس کے بعد وہ شعبہ ابلاغ عامہ کراچی یونیورسٹی کی پہلی خاتون چیئرپرسن بنیں۔پروفیسر شاہدہ قاضی جو تین کتابوں کی مصنفہ ہیں اور پاکستان ٹیلیویژن میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکی ہیں،آج کل جناح یونیورسٹی برائے خواتین میں ڈین آف آرٹس اور شعبہ ابلاغ عامہ کے چیئرمین کی حیثیتسے ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔اس سے قبل وہ بے نظیر بھٹو چیئر جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں۔وہ اے پی این ایس ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔اس لحاظ سے جناح یونیورسٹی برائے خواتین کی طالبات خوش قسمت ہیں کہ انہیں شاہدہ قاضی جیسی منفرد خاتون کی رہنمائی حاصل ہے۔

جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی میں خواتین کی پہلی یونیورسٹی ہے ،جس سے اب تک ہزاروں طالبات فیض حاصل کر چکی ہیں۔یونیورسٹی نے، جہاں سائنس اور آرٹس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے، اپنا آغاز لڑکیوں کے لئے ایک سکول کے طور پر کیا تھا،جس کے بعد اسے کالج کا درجہ دیا گیا،جس کے لئے جناح کالج کا نام قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تحریری اجازت سے رکھا گیا۔محترمہ فاطمہ جناح نے بھی کالج کی تعمیر و توسیع میں الحاج مولوی ریاض الدین کی ہر ممکن مدد کی۔ 1998ءمیں کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔حکومت پاکستان نے الحاج مولوی ریاض الدین کو تعلیم کے میدان میں ان کی بے لوث خدمات پر صدارتی اعزاز سے نوازا ہے۔خواتین کی تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن تصویر کا ایک اورپہلو بھی ہے کہ اکثر بچیاں یا تو تعلیم کے دوران ہی یا تعلیم مکمل کرتے ہی شادی کے بعد امور خانہ داری میں مصروف ہو جاتی ہیں اور نہ صرف ان کی تعلیم پر خرچ کیا جانے والا ان کے والدین کا ، بلکہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ضائع جاتا ہے، بلکہ بہت سے لڑکے بھی ،جوان کی جگہ تعلیم حاصل کرکے گھر کی کفالت میں مدد دے سکتے تھے، اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔خاص طور پر روزگار سے متعلق تعلیم کے شعبوں، مثلاً ڈاکٹری، انجینئرنگ، ماس کمیونیکیشن وغیرہ پر تضاد نمایاں نظرآتا ہے۔

تضاد اس لئے کہ لڑکیاں بھی ان شعبوں میں تعلیم اس لئے حاصل کرتی ہیں کہ ان کی اچھی جگہ شادی ہو جائے۔ڈاکٹری اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں میں سے بہت سی شادی کے بعد بالآخر کوئی نہ کوئی مصروفیت اپنے شعبوں میں ڈھونڈ لیتی ہیں، لیکن ماس کمیونیکیشن میں تو شاید ہی کوئی بچی شادی کے بعد اخبار یا چینل کا رخ کرتی ہو، حالانکہ ماس کمیونیکیشن طالبات میں ایک مقبول عام مضمون ہے اور ہر سال مختلف یونیورسٹیوں سے سینکڑوں طالبات ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتی ہیں۔ان میں سے شادی سے پہلے بھی دوچار کو ہی میڈیا میں جگہ ملتی ہے اور وہ بھی شادی کے بعد رخصت ہو لیتی ہیں ، یوں ان کی تعلیم پر صرف کیا گیا ان کا اپنا وقت ،والدین کا پیسہ اور عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کیا گیا کثیر سرمایہ ضائع جاتا ہے۔

یہ اور اس قسم کے بہت سے تضادات ہیں،جن کے بارے میں کبھی بحثیں ہوا کرتی تھیں، وقت کے ساتھ زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کئے جا چکے ہیں۔یہ صورت حال ایک منجمد ماحول کی نشاندہی کرتی ہے، جسے انگریزی میں ”اسٹیٹس کو“ کہا جاتا ہے، جسے توڑنے کے لئے ایک بہت بڑے سماجی انقلاب کی ضرورت ہے،جس میں ان خواتین کے ساتھ ساتھ جو سماج میں تبدیلی کے لئے سیاسی طور پر سرگرم عمل ہیں، وہ تعلیم یافتہ خواتین بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں، جن کو گھر سے باہر نکلنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ان کے دور میں وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال اور منظم ہونے کے لئے سوشل میڈیا ایک ایسا موثر ذریعہ ہے،جس کی وساطت سے دنیا کے بہت سے ملکوں میں سماجی انقلاب کی تحریکیں خاموشی سے پروان چڑھ رہی ہیں، کیا ہی اچھا ہو، اگر ہمارے ہاں بھی یہ ذریعہ ایک سماجی انقلاب کی سبیل بن جائے،جس میں گھروں میں بیٹھی خواتین بھی اپنا بھرپور ادا کر سکیں۔

 

مزید : کالم