نئے پاکستان میں رہنے والے پاکستانی تو پرانے ہی ہوں گے

نئے پاکستان میں رہنے والے پاکستانی تو پرانے ہی ہوں گے


پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک بدستور اسلام آباد میں دھرنے دیئے بیٹھی ہیں۔حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے چھ میں سے پانچ مطالبات مان لئے گئے لیکن عمران خان بضد ہیں کہ وہ نواز شریف کا استعفیٰ لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ ایسے میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ اسمبلیاں تحلیل نہ کی جائیں ، صرف تیس دن کے لئے نواز شریف کی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم بنا دیا جائے۔ عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو وزیر اعظم ایک ماہ بعد واپس آ جائیں۔یہ بھی کہہ چکے ہیں جب میڈیا حلقوں میں چہ مگوئیاں شر وع ہو گئیں کہ عمران خان کی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے اور ان کے ہاتھ جو کچھ آ رہا ہے وہ انہیں لے لینا چاہئے، عین اسی وقت عام انتخابات 2013ء کے دوران بطور ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن خدمات سر انجام دینے والے محمد افضل خان نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے بہت سے انکشافات کر ڈالے۔انہوں نے ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ابتدا میں انہیں صرف شک تھا کہ عام انتخابات میں بھاری پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے مگر آج انہیں مکمل یقین ہے کہ دھاندلی ہوئی تھی۔ جہاں جہاں کیمرے موجود تھے وہاں دھاندلی نہیں ہوئی باقی ہر جگہ دھاندلی کی گئی۔انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ وفاقی وزیر داخلہ نثار علی خان نے ہزاروں ووٹ ناقابل تصدیق ہونے کا دعویٰ کیا تو سیل شدہ ووٹوں کے ناقابل شناخت ہونے کاعلم چوہدری نثار کو کیسے ہو گیا ، سارے ووٹ تو انتخابات کے بعد سیل ہوجاتے ہیں تو کیا چوہدری نثار علی خان دھاندلی میں ملوث تھے؟انہوں نے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کے بارے میں کہا کہ ان کے خیال میں وہ دھاندلی میں عملی طور پر تو ملوث نہیں تھے مگر انہوں نے ان معاملات پر آنکھیں بند رکھیں۔انہوں نے الیکشن کمیشن، عدلیہ اور انتظامیہ سب پر ہی دھاندلی کے الزامات لگائے۔ریٹرنگ افسران کو تعینات کرنا الیکشن کمیشن کا کام تھا مگر ان کے بقول افتخار محمدچوہدری نے آر اوز کوتعینات کیا۔افضل خان نے کہا کہ کراچی میں نتائج تبدیل کئے گئے، صرف ایک ہی پارٹی کی طاقت وہاں کام کرتی ہے اور وہی کامیاب ہوئی ۔انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں عام انتخابات میں دھاندلی میں جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی براہ راست ملوث تھے، ان کی تعیناتی بھی میاں محمد نواز شریف کے ایماء پر کی گئی، جب کہ بلوچستان اور سندھ میں بھی الیکشن کمشنرز نے براہ راست مداخلت کی۔لہٰذاان کے مطابق اس الیکشن میں پینتیس نہیں بلکہ سینکڑوں پنکچر لگائے گئے۔ثبوت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنی باتیں ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔جسٹس ریاض کیانی نے جوابی پریس کانفرنس میں ان تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افضل خان ملازمت میں توسیع اور ایک سال بعد ہی گریڈ اکیس سے بائیس میں ترقی چاہتے تھے جو ممکن نہ تھا اور ایسا نہ ہوسکنے پر وہ یہ الزامات عائد کر رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں یہ عجیب ریت پڑ چکی ہے کہ بڑے سے بڑا الزام لگانے والا بھی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ان الزامات کی بنیاد پروہ دوسرے کو سزا دینے کی ضدپر بھی ڈٹ جاتا ہے۔افضل خان نے جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم جیسے با کردار اور دیانت دار آدمی پر تہمت لگائی،دوسرے معزز ججوں پر الزام تراشی کی، الیکشن ٹربیونلز پر بھی ذاتی فوائد اٹھانے کا الزام لگایا۔الیکشن ٹربیونل کسی ایک بندے پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ہر صوبے میں علیحدہ علیحدہ کئی کئی الیکشن ٹربیونلز قائم ہیں،صوبہ سندھ میں تین، پنجاب میں پانچ،کے پی کے میں تین، بلوچستان میں تین الیکشن ٹربیونل کام کر رہے ہیں۔تو کیا یہ سب ہی گردن زدنی ہیں؟ ان سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا سکتا ہے؟افضل خان کے ان نام نہاد ’انکشافات ‘ پرکئی سیاسی اور صحافتی حلقے تالیاں بجا رہے ہیں، بحث و مباحثے کر رہے ہیں، ایساتاثر دے رہے ہیں کہ اس بیان سے دھاندلی کے الزام کو بے پناہ تقویت ملی گئی ہے۔

ملک میں ہر ادارے کو بے وقار کرنا رواج بن گیا ہے، عدلیہ کے اوپر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے، قانون اور دستورکا مذاق اڑایا جا رہا ہے، کوئی نظم و ضبط نہیں ہے۔ جس کے دل میں جو آ رہا ہے وہ کہہ رہا ہے ، کوئی کسی کو روکنے والا نہیں ۔ ایسے موقع پر جب پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان یہ بات طے ہو چکی تھی کہ جو ڈیشل کمیشن اس سارے معاملے کی تحقیقات کرے گا تو پھر افضل خان کو کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان پیش کرنا چاہئے تھا ۔ نجی ٹی پر بیٹھ کر طرح طرح کے بتنگڑ بنانے کا مقصد صرف اور صرف ہنگامہ برپا کرنا نظر آتا ہے۔ جو لوگ اس وقت افضل خان کی دیانت داری کی گواہیاں دے رہے ہیں، وہ یہ بتائیں کہ افضل خان پہلے کیوں نہیں بولے اور عین اس وقت جب مذاکرات کے ذریعے معاملات حل ہونے کا امکان پیدا ہو رہا تھا تو ان کو اچانک یہ سب کیوں یاد آ گیا۔کوئی نہیں جانتا ، اس وقت معاملات کو مزید الجھانے کی بجائے بامعنی حل کی طرف لے کر جانا چاہئے۔ افضل خان کی اس گفتگو کی بنیاد پر عمران خان نے نواز شریف کے استعفے کے مطالبے کو مزید پُرزور بنا دیا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو سرکاری بینکوں سے اپنے پیسے نکالنے کی ہدایت کی ہے، پہیہ جام ہڑتال کی دھمکی بھی دیدی ہے۔چوہدری افتخار کی طرف سے ہتک عزت کے نوٹس کے جواب میں تو انہوں نے کہہ دیا ہے کہ الفاظ کے چناو میں غلطی ہوئی جس کو امید ہے درگزر کیا جائے گا، انہیں چاہیے ایسی باتوں سے گریز کریں جن کا جواز پیش کرنا مشکل ہو۔ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے جواب میں دوسری جماعتوں نے بھی ریلیاں نکالنی شروع کر دی ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سر فہرست ہے۔ایسے میں کہیں بھی تصادم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ہم تو یہی عرض کر سکتے ہیں کہ تمام سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں ہی حل ہونا چاہئے، کوئی بھی غیر سیاسی حل ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہم سب بھی انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں، ہم سب شفاف الیکشن کے بھی خواہاں ہیں، ہم سب پھلتا پھولتا پاکستان بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب معاملات آگے بڑھیں ۔ دوہفتوں سے ٹھہری ہوئی زندگی دوبارہ رواں دواں ہو،یہیں کھڑے رہنے اور ضد کا مظاہرہ کرنے سے ’نیا پاکستان‘ تونہیں بنتا نظر آتا۔ہم سب کو چاہئے کہ اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں ، اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں اور مل کر قائد اعظم ؒ کے بنائے ہوئے اس ’پرانے پاکستان‘ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اگر نیا پاکستان بن بھی گیا تو اس میں رہنے والے بھی ’پرانے پاکستانی ‘ہی ہوں گے۔

مزید : اداریہ