سیاسی صورتحال کے خلافتاجر برادری سڑکوں پر نکل سکتی ہے

سیاسی صورتحال کے خلافتاجر برادری سڑکوں پر نکل سکتی ہے

کراچی(اکنامک رپورٹر)آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے ملک میں جاری سیاسی انتشار کے تسلسل کو معاشی تباہی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے خلاف ملک بھر کی تاجر برادری کسی بھی وقت سڑکوں پر نکل سکتی ہے جس سے پورا ملک انارکی اور افرا تفری کا شکار ہوسکتا ہے، مخدوش ترین حالات کے باعث تجارتی عمل کوما میں چلاگیا، سیاسی اور معاشی عمل مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، ملک کے مرکز سمیت پوری معیشت یرغمال ہوگئی ، انھوں نے کہا کہ سیاسی انتشار کا عفریت کراچی کے تاجروں کا 50ارب روپے سے زائد سرمایہ ہڑپ کرگیا، ڈالر کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی میں مزید اضافے کا بگل بجادیا، ملازمتیں ناپید فیکٹریوں سے چھانٹی شروع ہوگئی، کاروباری اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا، خسارے کی تجارت کا آغاز ہوگیا،

بیشتر تاجر دیوالیہ پن کی صورتحال کا شکار ہوگئے، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا، آج پریس و میڈیا کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں انھوں نے موجودہ صورتحال کو ملکی تاریخ کا بدترین سیاسی اور معاشی بحران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کشیدگی کے نتیجے میں خریداروں نے بدحواس ہوکر مارکیٹوں کا رُخ کرنا چھوڑدیاہے، معیشت کا پہیہ رک گیا ، سرمایہ کاروں کی رقوم ڈوبنا شروع ہوگئیں، فیکٹریوں میں پیداواری عمل 20فیصد مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں 15 فیصد سے بھی نیچے آگئیں، انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیروزگاری، بھوک اور افلاس سے پورا معاشرہ افراتفری کا شکار ہوسکتا ہے جس سے ملک خانہ جنگی کی طرف بھی جاسکتا ہے، انھوں نے کہا کہ خرید و فروخت منجمد ہونے سے تاجر ایک دوسرے کے مقروض ہورہے ہیں ، بینکوں کے قرضوں کی اقساط کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے جبکہ ملکی سطح پر مال کے آرڈرز کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آسکی، انھوںنے کہا کہ بڑھتا ہوا سیاسی انتشار ملک کے معاشی مستقبل کیلئے تباہ کُن ثابت ہوگا، سیاسی انتشار انارکی کا باعث بن سکتا ہے، عتیق میر نے موجودہ صورتحال پر حکومت کو سخت تنقید کا ہدف بناتے ہوئے کہا کہ حکومت موجودہ سیاسی بحران سے قبل سیاسی موسم کے مزاج کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے جوکہ اس کی نااہلی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے، انھوں نے کہا کہ بعض ملک دشمن طاقتوں کے اشارے پر اسلام آباد کو مفلوج اور غیر محفوظ کرنا روزمرّہ کا معمول بن گیا ہے جوکہ پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ اور جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے، انھوں نے کہا کہ سکندر ملک سے لیکر حالیہ دھرنوں تک حکومتی مرکز کا یرغمال ہونا انتہائی تشویشناک ہے، انھوں نے موجودہ حکمرانوں کو ملک کیلئے سیکوریٹی رسک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو حکومت اپنے مرکز کی حفاظت نہیں کرسکتی وہ ملک کیا بچائے گی، حکومتی نااہلی دوسری قوتوں کو اقتدار پر قبضے کا جواز فراہم کررہی ہیں،انھوں نے ملک میں موجود مقتدر قوتوں، اعتدال پسند طبقات اور سیاسی جماعتوں سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ملکی حالات کو مزید ابتر اور مخدوش ہونے سے بچائیں۔

مزید : کامرس