بداخلاقی کیس میں ملوث ملزم سے مدعی کا راضی نامہ رد ہونے پر ملزم کی درخواست ضمانت خارج

بداخلاقی کیس میں ملوث ملزم سے مدعی کا راضی نامہ رد ہونے پر ملزم کی درخواست ...


لاہور(نامہ نگار)سیشن عدالت نے 3سالہ بچی سے بداخلاقی کیس میں ملوث ملزم سے مدعی کا راضی نامہ رد کرتے ہوئے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کر دی عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ ملزم کا نفرت انگیز، ناقابل برداشت اور شیطانی عمل نہ صرف بچی بلکہ پورے معاشرے کے خلاف ہے ایڈیشنل سیشن جج نوید اقبال نے تین سالہ بچی سے بداخلاقی کیس میں ملوث ملزم خرم شہزاد کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم خرم شہزاد کا مقدمہ کے مدعی علی احمد سے راضی نامہ ہو گیا ہے تاہم عدالت سے استدعا ہے کہ ملزم کی درخواست ضمانت منظور کی جائے جبکہ متاثرہ بچی کے والد اور مقدمہ کے مدعی علی احمد نے عدالت نے بیان حلفی جمع کراتے ہوئے کہا کہ ملزم خرم شہزاد سے راضی نامہ ہو گیا ہے لہٰذا عدالت کے ملزم کو بری کرنے سے مدعی علی احمد کو کوئی اعتراض نہیں ہے، پراسیکیوٹر عطیہ عامر نے عدالت درخواست ضمانت کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم خرم شہزاد کو شیطانی فعل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے تھانہ شاہدرہ پولیس سٹیشن میں نامزد مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ میں بھی ملزم کے خلاف واضح ثبوت موجود ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ملزم کی درخواست ضمانت خارج کرے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ تین سالہ بچی سے بداخلاقی کے ملزم کا راضی نامہ اس کے والد علی احمد کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ ملزم کا نفرت انگیز، ناقابل برداشت اور شیطانی عمل نہ صرف بچی بلکہ پورے معاشرے کے خلاف ہے، عدالت نے حکم میں یہ بھی نمایاں کیا ہے کہ ملزم خرم شہزاد 22 سالہ نوجوان ہے لہٰذا ان حالات میں ملزم کی ضمانت منظور نہیں کی جا سکتی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4