طاہر القادری کا حکمرانوں کو 48گھنٹے کا الٹی میٹم ،نواز شریف نے الیکسن کمیشن خرید رکھا تھا،عمران خان

طاہر القادری کا حکمرانوں کو 48گھنٹے کا الٹی میٹم ،نواز شریف نے الیکسن کمیشن ...

                                                                اسلام آباد(اے این این) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کو 48 گھنٹے کی آخری کن ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہاہے کہ شہادت کے لئے غسل کرلیا اور کفن خرید لیا ہے، اب یہ کفن میں پہنوں گا یا نواز شریف کا اقتدار، ڈیڈ لائن سے پہلے پہلے حکمران مستعفی ہوںاور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر کاٹی جائے، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے، پاکستان میں غریبوں کیلئے جینے کی کوئی جگہ نہیں، عدالتیں اور قانون بے بس ہوچکے،غریب صرف کفن دفن کیلئے رہ گئے، ڈی چوک کو شہداءکا قبرستان بنا دینگے، کل دمادم مست قلندر ہوگا۔ پیر کی شام ڈی چوک پر دھرنے کے شرکاءسے جذباتی خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہم نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے مصیبتیں برداشت کیں، آج تک ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی ۔ دھرنے کے شرکاء11 دن سے تکلیفیں برداشت کررہے ہیں مگر بارش میں بھی نہیں اٹھے۔ ہمارے عزم و حوصلہ میں تاحال کمی نہیں ہوئی ۔ اب فیصلہ کن وقت آگیا ہے ۔ میں شرکاءکو مزید بھوک پیاس گرمی میں نہیں دیکھ سکتا ۔ حکمرانوں کے ضمیر مردہ ہوچکے ، یہ بے حس ہوچکے ہیں ،انہیں ماﺅں بہنوں ، بیٹیوں بچوں کی تکالیف کا احساس نہیں ہے ۔ ہمارا الیکشن سسٹم ایسا ہے کہ مسترد شدہ شخص نمائندہ بن جاتا ہے ۔حکمرانوں نے پورے پنجاب کو کنٹینر لگا کر سیل کردیا ہے جس سے اتنے لوگ نہیں آسکے، ملک کو قلعہ بنا دیا گیا ۔ ہمارے 25 ہزار کارکن گرفتار کیے گئے ۔ اگر حکمران رکاوٹیں نہ کھڑی کرتے تو پنڈی اسلام آباد کی سڑکیں بھر جاتی۔ حکومت نے مذاکرات صرف وقت ضائع کرنے کیلئے کیے۔ حکمران عوام کو کیڑے مکوڑوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھوک پیاس گرمی سے تنگ آکر چلے جائیں گے مگر ہم نہیں جائیں گے۔ ہم اسمبلیوں کو غیر قانونی ، غیر آئینی سمجھتے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن خود غیر آئینی تھا جو سیاسی مک مکا کے بعد تشکیل دیا گیا۔ کمیشن آرٹیکل 213 کیخلاف بنایا گیا آرٹیکل 218 کی بھی دھجیاں اڑائی گئیں۔ خورشید شاہ نے خود تسلیم کیا تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی اور الیکشن کمیشن آرٹیکل 213 کی خلاف ورزی سے بنایا گیا ۔ دھن دھونس دھاندلی سے الیکشن کرائے گئے ۔ آئین کی عمارتوں میں سب کچھ غیر آئینی ہے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بھی غیر آئینی ہیں۔ افضل خان نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے چوروں کو بے نقاب کردیا ہے اور کہا ہے کہ 35 نہیں سینکڑوں پنکچر لگے اور 90 فیصد نشستوں پر دھاندلی ہوئی شکر ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا ضمیر جاگ گیا ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ اس انکشاف کے بعد اسمبلیوں کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ۔ حکمرانوں کو ڈیڈ لائن دے رہا ہوں کہ ایوان اقتدار چھوڑ دیں اور اسلام آباد سے نکل جائیں۔ عمران خان کو کہوں گا کہ اب تحقیقات کی بھی ضرورت نہیں رہی سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ 17 دن گزرنے کے باوجود منظر عام پر کیوں نہیں لائی جارہی۔ میری ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے اسے اخبارات میں شائع کیا جائے۔ قاتل کمیشن میں پیش ہوتے وقت وکٹری کے نشان بنارہے تھے ۔ ہمیں کوئی تحقیقات نہیں چاہئیں، جادو وہ جو سر چڑھ کربولے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 11 دنوں میں صرف ایک دن غسل کیا ہے کیونکہ پانی کی قلت ہے ۔ مشکل سے وضو کرتا ہوں شاور میں بھی پانی نہیں آتا۔ آج دوسرا غسل کرلیا ہے کیونکہ میں نے شہادت کی نیت کرلی ہے۔ وضوکرلیا ہے ۔ میں کروڑوں غریبوں کیلئے شہادت دینے آیا ہوں، شہید کو غسل نہیں دیا جاتا اس لئے زندگی کا آخری غسل کرلیا ہے۔ قانون بے بس ہوچکا ہے ۔ جابر حکمرانوں کے سامنے عدالتیں بے بس ہیں۔ غریبوں کے پاس صرف کفن کا حق رہ گیا ہے ۔ میں نے اپنا کفن خرید لیا ہے۔ غریب صرف کفن دفن کیلئے رہ گئے ہیں غریبوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے ۔ کوئی ریاستی ادارہ غریبوں کی آواز نہیں سنتا۔ یتیموں کی داد رسی کوئی نہیں کرتا میں موت سے نہیں ڈرتا اسلئے شہادت کیلئے تیارہوں۔ اگر یہاں تڑپ تڑپ کر مرنا ہے تو بہتر ہے شہید ہوجاﺅں۔ کفن یا میں پہنوں گا یا نواز شریف کا اقتدار پہنے گا۔ طاہر القادری نے کہا کہ ہم ڈی چوک میں شہداءکا قبرستان بنا دیں گے ،ہم حکومت کو48 گھنٹے کی آخری ڈیڈ لائن دے رہا ہوں ورنہ دمادم مست قلندر ہوگا۔ اب ہم مرحلہ انقلاب میں داخل ہوگئے ہیں ۔ اب جو گھروں میں بیٹھے رہے ظالم ہوں گے۔ عوام گھروں سے نکل آئیں۔48 گھنٹوں بعد حالات کا ذمہ دار میں نہیں ہوں۔

مزید : صفحہ اول