الیکشن کمیشن کی تحلیل اور اعلٰی افسروں کو عہدوں سے ہٹانے پر غور شروع

الیکشن کمیشن کی تحلیل اور اعلٰی افسروں کو عہدوں سے ہٹانے پر غور شروع

             لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) حکومت نے مئی 2013کے عام انتخابات پر تواتر سے لگنے والے الزامات کے بعد، تحریک انصاف و پاکستان عوامی تحریک کے مطالبات اور آزادی و انقلاب مارچز کازور توڑنے کے پیش نظر الیکشن کمیشن کی تحلیل اور کمیشن میں توسیع کے حامل افسروں کو عہدوں سے ہٹانے کے حوالے سے غور شروع کردیا ہے۔حتمی فیصلہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔معلوم ہواہے کہ 11مئی 2013کے عام انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور الیکشن کمیشن کے خلاف تواتر کے ساتھ دھاندلی کے الزامات عائد کئے گئے۔ان میں کمیشن کے چاروں ممبروں اور اعلیٰ افسروں کے خلاف حکمران جماعت کے ساتھ ملی بھگت کرنے، کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات شامل رہے۔اور یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہ رہا بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔جس کے جواب میں کمیشن کے چاروں ممبران نے دھاندلی اور کرپشن کے الزامات کے تحت اپنے عہدے چھوڑنے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران پنجاب سے جسٹس (ر) ریاض کیانی، سندھ سے جسٹس (ر ) روشن عیسانی، کے پی کے سے جسٹس ( ر) شہزاد اکبر اور بلوچستان سے جسٹس (ر ) فضل الرحمن نے 13جون 2011کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا تھا۔ اور ان کی مدت ملازمت 12جون2016میں پوری ہوگی ، انہیں عام طریقہ کار کے تحت ہٹایا نہیں جاسکتا ۔انہیںہٹانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرتے ہوئے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ہوگا۔یہ ریفرنس صدر مملکت کی طرف سے بھجوایا جاسکتا ہے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ الیکشن کمیشن کے وفاقی سیکرٹری اشتیاق احمد خان ریٹائرمنٹ کے بعد تیسری مرتبہ توسیع حاصل کررکھی ہے۔ جو کہ دسمبر 2014میں ختم ہوگی۔ اسی طرح صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور نے بھی 2013کے عام انتخابات کے بعد ملازمت میں توسیع حاصل کی جو رواں سال کے آخر میں اختتام پذیر ہوگی۔ صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان سونو خان بلوچ اور جوائنٹ الیکشن کمشنر پنجاب خلیق الرحمن بھی ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت میں ملنے والی توسیع کے تحت الیکشن کمیشن میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔جس سے الیکشن کمیشن کے ملازمین میں بھی مایوسی پائی جاتی ہے کیونکہ سیٹیں خالی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ترقی کے کم مواقع میسر آتے ہیں۔لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ حکومت نے مئی 2013کے عام انتخابات پر تواتر سے لگنے والے الزامات کے بعد، تحریک انصاف و پاکستان عوامی تحریک کے مطالبات میں سے ایک اہم ترین اور بڑے مطالبے کو ماننے اور آزادی و انقلاب مارچز کازور توڑنے کے پیش نظر الیکشن کمیشن کی تحلیل اور کمیشن میں توسیع کے حامل افسروں کو عہدوں سے ہٹانے کے حوالے سے غور پر شروع کردیا ہے۔اور اس سلسلے میں حتمی فیصلہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی تحلیل کے لیے چاروں ممبران کو استعفے پر رضامند کیا جائیگا۔بصورت دیگر صدر مملکت کے ذریعے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئیگی اور ممبران ایسی صورتحال کے پیش آنے سے قبل ہی وسیع تر ملکی مفاد میں مستعفی ہوسکتے ہیں۔اور اسی کے ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کمیشن کے ایکسٹینشن پر چلنے والے افسروں کو عہدوں سے ہٹا سکتے ہیں۔ جس کے بعد حکومت کو عوامی سطح پر پذیرائی ملنے کے بھر پور امید ہے۔اور یقین ہے کہ اس سے عمران خان اور طاہر القادری کے مارچ ختم ہوجائینگے یا پھر ان کا زور ٹوٹ جائیگا اور وہ تنہائی کا شکار ہوجائینگے۔

مزید : صفحہ اول