سانحہ ماڈل ٹاؤن ، وزراء کی درخواست پرمنہاج القرآن کے ڈائریکٹر کو نوٹس

سانحہ ماڈل ٹاؤن ، وزراء کی درخواست پرمنہاج القرآن کے ڈائریکٹر کو نوٹس


لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم ، وزیراعلی پنجاب ، پرویز رشید ، رانا ثنااللہ ، سعد رفیق ، حمزہ شہباز اور عابد شیر علی سمیت 21افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف 3وفاقی وزرا کی درخواست پرادارہ منہاج القرآن کے ڈائریکٹر کو آج 26اگست کے لئے نوٹس جاری کر دیئے ہیں ۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی معاونت کے لئے طلب کرلیا ہے ۔گزشتہ روز جسٹس محمود مقبول باجوہ نے اس کیس کی سماعت کی تو وفاقی وزرا پرویز رشید ، سعد رفیق اور عابد شیر علی کے وکیل نے دلائل دیے کہ مہناج القرآن کے ڈائریکٹر جواد حامد نے مقدمہ درج کرنے کے لیے سیشن عدالت میں درخواست دی حالانکہ ان کا جاں بحق افراد کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں۔ ادارہ منہاج القرآن نے جوڈیشل کمیشن اور جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم سے کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کیا ادارہ منہاج القرآن کی جانب سے درخواست میں وزیراعظم ، وفاقی وزرا اورایسے عہدیداروں کا نام شامل کیا گیاجن کا معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ ادارہ منہاج القرآن کی جس درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھااس درخواست کو کراس ورشن کے طور پر پولیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جاچکا ہے جس پر تفتیش جاری ہے ۔ایسی صورت میں دوسری ایف آئی آر درج کرنے کے حکم کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا ۔درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس کے اختیار سماعت کا قانونی تعین ہونا ابھی باقی ہے اس حوالے سے عدالت عالیہ میں متعدد درخواستیں زیر سماعت ہیں ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس نے مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کرتے وقت متعدد عدالتی نظائر کو نظر انداز کیا ۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد حنیف کھٹانہ نے استدعا کی کہ درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے کیونکہ اس میں اہم نوعیت کے قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں اس پر عدالت نے قرار دیا کہ فیصلہ قانون اور میرٹ پر کیا جائے گا معاملہ انتہائی حساس ہے ۔عدالت مناسب وقت پر دیکھے گی کہ کیس کی سماعت کے لیے فل بنچ تشکیل دیا جائے یا سنگل بنچ ہی سماعت جاری رکھے ۔

ڈائریکٹر کو نوٹس

مزید : صفحہ آخر