سپریم کورٹ نے شاہراہ دستور خالی کرانے کا حکم دیدیا

سپریم کورٹ نے شاہراہ دستور خالی کرانے کا حکم دیدیا

                                 اسلام آباد(آن لائن+اے این این)سپریم کورٹ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے شاہراہ دستور فوری طور پر خالی کرانے کا حکم دیدیا ہے اور چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ دھرنے کے شرکاء سرکاری ملازمین کو ہراساں کرتے ہیں، شاہراہ دستور کو کلیئر کرایا جائے منگل کو ہم اسی راستے سے عدالت آئیں گے۔ جبکہ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جہاں سے انصاف ملتا ہے اسی عدالت کی دیوار پر کپڑے سکھائے جارہے ہیں اور جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ملکہ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے اس قسم کے دھرنے شاید کینیڈا میںدیئے جاسکتے ہیں پاکستان میں نہیں، جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ڈنڈا بردار پرامن کھیل کے لئے آئے ہیں یا کہ شادی میں ڈانڈیاں کھیلنے آئے ہیں۔چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے پیر کو ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق درخواست کی سماعت کی جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ کی جانب سے دائر کی گئی ہے ۔سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شاہراہ دستور کی بندش کی وجہ سے قومی اداروں کے ملازمین کو اپنے دفاتر پہنچنے میں سخت پریشانی کا سامنا ہے، دھرنے کے شرکاءنے عدالت عظمی پر اپنے کپٹرے لٹکا رکھے ہیں، سرکاری ملازمین کی تلاشی لی جا رہی ہے اور انھیں ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف، عوامی تحریک اور اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ فریقین مل بیٹھ کر شاہراہ دستور کو خالی کرنے کے حوالے سے متفقہ لائحہ عمل طے کر لیں اورآج (منگل) اس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شاہراہ دستور کو کلیئر کرایا جائے تا کہ کل ہم اسی راستے سے عدالت آ سکیںہم سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتے، دھرنے والے کسی دوسرے مقام پر اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھیں عدالت کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ ڈنڈا بردار پرامن کھیل کے لئے آئے ہیں یا کہ شادی میں ڈانڈیاں کھیلنے ؟انہوں نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے آڈیٹر جنرل شرعی عدالت اور الیکشن کمیشن کے دفاتر مفلوج ہوچکے ہیں ۔ کہ جسٹس جواد نے کہا کہ دھرنا دینے والوں میں ایک شخص دوہری شہریت رکھتا ہے، سڑکوں پر دھرنے دینا کینیڈا میں ہوتا ہو گا۔ سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے عدالت کی طرف سے شاہراہ دستور خالی کرنے کی ہدایت پر کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن پریڈایونیوپر موجود ہیں جہاں سے آنے جانے والوں کو کوئی مشکل نہیں ہورہی ،شاہراہ دستور کے حوالے سے اپنا موقف پاکستان عوامی تحریک والے ہی دے سکتے ہیں۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ گزشتہ سال کیس کی سماعت کے دوران عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا کی شہریت رکھتے ہیں اور انہوں نے ملکہ برطانیہ کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے اس موقع پر عدالت میں وہ حلف نامہ پڑھ کر بھی سنایا گیا ،عدالت نے کہا کہ پریڈ گراﺅنڈ میں دھرنا دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے سرکاری ملازمین اور عوام کی دفاتر تک رسائی متاثر نہیں ہوتی ۔ عدالت نے کہا کہ احتجاج آئینی حق ہے مگر شاہراہ دستور کو خالی کیاجائے ۔ عدالت میں دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار کامران مرتضیٰ نے موقف اختیار کیا کہ تمام شہریوں کو نقل وحرکت کی اجازت ہونی چاہیے اور اس میںکسی قسم کی مداخلت آئین کیخلاف ہے جس سے عدالت نے بھی اتفاق کیا اور چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ احتجاج کرنے والے ہر آنے جانے والے کی شناخت طلب کرتے اور اس کی تلاشی لیتے ہیں اس طرح لوگوں کی آمدورفت متاثر ہورہی ہے ۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے دونوں احتجاجی جماعتوں کو سپورٹس کمپلیکس میں جمع ہونے کی پیشکش کی ہے ۔ بعد ازاں اٹارنی جنرل اور دونوں سیاسی جماعتوں کے وکلاءکے درمیان کافی دیر صلاح مشورہ کیا گیا جس کے بعد اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دونوں جماعتوں نے شاہراہ دستور خالی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، اس پر عدالت نے اٹارنی جنرل اور ان وکلاءکی کمیٹی کو معاملات صلاح مشورے کے ساتھ طے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت بدھ 27اگست تک ملتوی کردی ۔اے این این کے مطابق سپریم کورٹ نے شاہراہ دستور کلیئر کرانے کا حکم دیتے ہوئے اس حوالے سے (آج ) منگل کو رپورٹ طلب کرلی، سماعت کے دوران چیف جسٹس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ شاہراہ دستور کی بندش کی وجہ سے قومی اداروں کے ملازمین کو اپنے دفاتر پہنچنے میں سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ عدالت نے تحریک انصاف ، عوامی تحریک اور اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ فریقین مل بیٹھ کر شاہراہ دستور کو خالی کرانے کے حوالے سے متفقہ لائحہ عمل طے کرلیں اور ( آج) منگل کو اس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شاہراہ دستور کو کلیئر کرایا جائے تاکہ ( آج) منگل کو ہم اسی راستے سے عدالت آسکیں۔

مزید : صفحہ اول