امریکہ کی جانب سے آئی ڈی پیز کی غذائی امداد کیلئے مزید 60لاکھ ڈالر کی فراہمی

امریکہ کی جانب سے آئی ڈی پیز کی غذائی امداد کیلئے مزید 60لاکھ ڈالر کی فراہمی

اسلام آباد (پ ر) امریکہ نے وفاق کے وزیر انتظام قبائلی علاقوں( فاٹا) کے بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) کی خوراک اور غذائیت کی ضروریات کو پوری کرنے میں حکومت پاکستان کی مدد کےلئے کو 20اگست کو اضافی 6ملین ڈالر مہیا کئے۔ یہ تعاون جو امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ( یو ایس ایڈ) کے خوراک برائے امن دفتر کے ذریعے فراہم کیا گیا، حکومت پاکستان امریکی حکومت اور اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت جاری اشراک کا حصہ ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد و مشترکہ منصوبہ ہے جوگندم کی پسائی، اسکی غذائیت کی بھر پور بنانے، نقل وحرکت اور تقسیم کی لاگت کی ادائیگی کے ذریعے گندم کی پیدا وار میں حکومت پاکستان کے کردار کو تقویت دیتا ہے۔ گندم کی غذائیت کو بھرپور بنانے کے عمل کے تحت غذائی کمی کے شکار کم وسائل والے افراد کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے حیاتیں اور نمکیات کو شامل کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کا عالمی خوراک پروگرام اس خوراک کو شمالی وزیرستان ایجنسی کے لوگوں سمیت بے گھر ہونے والے 4لاکھ افراد کی مدد کےلئے استعمال کررہا ہے۔ اس تعاون کے ساتھ یو ایس ایڈ پروگرام کا اب سے سب سے بڑا بین الاقوامی امدادی ادارہ بن گیا ہے۔ جس نے مجموعی طور پر 39ملین ڈالر کی معاونت فراہم کی ہے ۔ جو حکومت پاکستان کی جانب سے 2013ءکے بعد سے اب تک عطیہ کی گئی 2لاکھ 14ہزار میٹرک ٹن گندم کی 20فیصد سے زائد مقدار کو بہتر بنانے کےلئے کافی ہے۔ پاکستان میں انسانی بنیادوں پر امریکی تعاون اور انسانی و سماجی ترقی میں امریکی معاونت کی ایک طویل تاریخ ہے اور امریکہ اس ضمن میں بھرپور کردار جاری رکھنے کےلئے پر عزم ہے۔ 2014ءمیں یو ایس ایڈ نے مذکورہ بالا مشترکہ منصوبے کے علاوہ پاکستان کو غذائی معاونت کی مد میں 20ملین ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی ہے 2009ءکے بعد سے اب تک امریکہ نے انسانی بنیاد پر امداد کی میں پاکستان کو ایک ارب 20کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی ہے۔ جس سے ایس ایڈ انسانی بنیاد پر امداد کا سب سے بڑا دو طرفہ فراہم کنندہ ادارہ گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر