48گھنٹوں کے آخری الٹی میٹم کے گھڑیال نے ٹک ٹک شروع کر دی

48گھنٹوں کے آخری الٹی میٹم کے گھڑیال نے ٹک ٹک شروع کر دی
48گھنٹوں کے آخری الٹی میٹم کے گھڑیال نے ٹک ٹک شروع کر دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

           جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ان 48 اعصاب شکن گھنٹوں کا آغاز ہو چکا ہے جن کا الٹی میٹم کفن لہرا کر ڈاکٹر طاہر القادری نے دیا،ان کا مطالبہ ہے کہ استعفےٰ دے کر، حکومتیں توڑ کر اور کاروبار حکومت کو تالے لگا کر گرفتاریاں دے دو، ورنہ دمادم مست قلندر ہوگا۔ یہ دما دم مست قلندر کیاہے۔یہ نعرہ مستانہ پاکستان کی سیاست میں سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے لگایا تھا ، اس کے پس منظر پر بات شروع کر دی جائے تو یہ تجزیہ نہیں کالم بن جائے گا اور فی الحال کالم آرائی پیش نظر نہیں ہے صرف قارئین کرام کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اگلے 48گھنٹوں کے اندر کیا ہو سکتا ہے اور یہ گھنٹے گزرنے کے بعد کیاہوگا یا صحیح تر الفاظ میں کیا ہو سکتا ہے؟

اسلام آباد میں اس وقت ایک نہیں دو دھرنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے دھرنے کا مطالبہ یہ ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں، ورنہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک سال تک کنٹینر میں گزار دیں گے۔ اب منظر یہ بنتا ہے فرض کریں وزیر اعظم کا دل پسیج جائے اور وہ استعفیٰ دیدیں تو عمران خان کا مطالبہ تو پورا ہو گیا ۔ پھر ان کے دھرنے کا جواز بھی نہیں رہ جائے گا اور وہ رنگا رنگ جشن منا کر وہاں سے اٹھ آئیں گے اور پورے پاکستان میں اپنی کامیابی کے جلوس نکالیں گے۔

دوسرے دھرنے کے مطالبات ذرا زیادہ ہیں وہ صرف نواز شریف کا استعفیٰ نہیں مانگتے، شہباز شریف کو بھی گھر بھیجنا چاہتے ہیں ،ان کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ساری حکومتیں(قومی اور صوبائی ) توڑ دی جائیں ، نظام کی بساط لپیٹ دی جائے ۔ حکمران گرفتاریاں دیدیں، اور بھی مطالبات ہیں لیکن انہی پر اکتفا کرتے ہیں،اب سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد بھی حکومت نے اگر ایک دھرنے کو بھگتنا ہے تو ساتھ میں پہلے کی طرح دوسرے کو بھی بھگتاتے رہنے میں کیا حرج ہے۔اس لئے اس تصور کو تو ذہن سے جھٹک دینا چاہیے کہ وزیراعظم مستعفی ہوں گے۔ جن لوگوں کا یہ مطالبہ ہے کہ سارا نظام لپیٹ دیا جائے ان کا یہ مطالبہ بھی سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں،ویسے چیزیں موازنے سے سمجھ آتی ہیں تو کیوں نہ ذرا 2013ءکی جانب لوٹ چلیں جب اسلام آباد میں اس سے بڑا دھرنا دیا گیا تھا، اور اسی طرح کی شعلہ بارتقریریں ہو رہی تھیں،حکمرانوں کو یزید،فرعون اور نہ جانے کن کن القابات سے نواز ا جا رہا تھا ۔ لیکن ابھی ان القابات کی گونج گرج فضا میں ہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب یزیدیوں کے نمائندوں کے ساتھ گرما گرم کنٹینرمیں مذاکرات کر رہے تھے۔ اس لئے پیارے پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ صورت حال کو سمجھنے کے لئے عمران خان کے حالیہ یو ٹرن بھی ذہن میں رکھیں، اور کنٹینر مذاکرات کے پس منظر کو بھی نہ بھولیں،سیاست میں موقف ،پوزیشن اور پارٹیاں بدلتے دیر ہی کتنی لگتی ہے آج جو لوگ عمران خان کو ہلا شیری دے رہے ہیں وہ کبھی میاں نواز شریف کے کیمپ میں بھی تو تھے۔

عمران خان اگرچہ بار بار کہتے ہیں کہ وہ استعفیٰ لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے لیکن ان کی پارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انہیں باور کراتے رہتے ہیں کہ استعفے پر اتنا زیادہ اصرار نہ کریں اور جو پانچ مطالبات حکومت ماننے کے لئے تیار ہے فی الحال انہیں ہی کامیابی سمجھا جائے۔ اس سوچ کے حامل لوگوں میں مخدوم جاوید ہاشمی،شاہ محمود قریشی، کراچی سے منتخب رکن عارف علوی،اسد عمر اور خود صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک شامل ہیں۔ جبکہ عمران خان کی رائے سے کلی اتفاق کرنے والوں میں جہانگیرترین،اعظم سواتی اور عبدالعلیم خان شامل ہیں۔دونوں مضبوط کیمپ ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کیمپ کی رائے عمران خان کی جناب میں بار یاب ٹھہرتی ہے اگرچہ آپ کو حیرت تو ہوگی لیکن اس تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ اگر سچوایشن کا تقاضا ہوا اور عالم بالا سے آنے والا کوئی خیال عمران خان کے ذہن سے ٹکرایا تو وہ استعفے کے معاملے پر بھی یو ٹرن لے سکتے ہیں۔

گزشتہ روز ڈاکٹر طاہرالقادری سے ان کے کنٹینر میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملاقات کی تھی اور انہیں وزیراعظم کی طرف سے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے سلسلے میں بعض یقین دہانیاں کرائی تھیں تو ان کا لب و لہجہ ذرا نرم ہو گیا تھا ، لیکن آج انہوں نے کفن لہرا کر جو تقریر کی تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس کی وجہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شاہراہ دستور کو دھرنے والوں سے خالی کرایا جائے،فاضل ججوں نے کہا ہے کہ وہ آج (منگل) سپریم کورٹ آنے کے لئے شاہراہ دستور والا راستہ اختیار کریں گے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے حکومت کو ایک نیا آپشن مل گیا ہے اور امید ہے کہ وہ آج دھرنے والوں سے کہے گی کہ وہ کوئی متبادل جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ جائیں۔پنجاب کے سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ دھرنے والوں کو پیار محبت سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے لئے کہا جائیگالیکن پھر سوال یہ ہے کہ اگر وہ عجز و نیاز سے نہ مانے تو کیا ان کے دامن کو حریفانہ کھینچا جائیگا؟یہ سوال اہم ہے حکومت کا صبرو تحمل اب تک قابل تعریف رہا ہے اس لئے امید ہے وہ اب بھی اس کا دامن نہیں چھوڑے گی لیکن اگر اس کا پیمانہ صبر چھلک گیا تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو بطور ڈھال بھی استعمال کرسکتی ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری جو کفن موجود نظام کو یابصورت دیگر نواز شریف کی حکومت کو پہنانا چاہتے ہیں ،وہ بھلے سے اسے پہنا دیں لیکن خدا را اپنی شہادت کا ذکر نہ کریں کوئی انہیں شہید نہیں کر رہا نہ کسی کا ایسا ارادہ ہے جس کی شہادت کی راہ میں خواتین اور بچوں کی ایک مضبوط ڈھال موجود ہو اسے بھلا کون شہید کر سکتا ہے؟

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے بھی عمران خان سے کہا ہے کہ انہیں چاہیے کہ وہ مسئلے کا حل نکالیں،انہوں نے کہا ہے کہ وہ خون خرابہ دیکھ رہے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ عمران ان کے بیان پر توجہ دےں۔اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان ریڈزون میں ہیں۔

مزید : تجزیہ