عمران خان کے چھ مطالبات، مجیب الرحمن سے مماثلت؟

عمران خان کے چھ مطالبات، مجیب الرحمن سے مماثلت؟
عمران خان کے چھ مطالبات، مجیب الرحمن سے مماثلت؟

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین

سیاسی طورپر تجزیہ کیا جائے تو حکمران اس وقت دباﺅ ہی میں نہیں بلکہ ”بیک فٹ“ پر کھیل رہے ہیں، ان کی طرف سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے چھ نکات میں سے پانچ مطالبات تسلیم کرلئے گئے اور چھٹے کے حوالے سے انکار کے باوجود قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی تجویز کو مختلف طریقے سے ماننے کا عندیہ دیا جارہا ہے کہ جرم ثابت ہوجائے تو استعفا اور اسمبلی بھی تحلیل کی جاسکے گی۔ عمران خان بھی بضد ہیں کہ چھ کے چھ مطالبات من وعن پورے کئے جائیں، اس سے ہمیں بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن یاد آتے ہیں کہ ان کے بھی چھ نکات میں سے پانچ مان لئے گئے تھے اور یہ کہا جارہا تھا کہ باہمی اتفاق رائے سے آئینی خاکہ تیار کرلیا جائے لیکن ضد اور انا کے علاوہ اس وقت کے سربراہ جنرل ےحییٰ کے رویے اور بعض دوسرے تاریخی عوامل کے باعث بات نہ بنی اور بالآخر ایک کے دو ملک بن گئے۔ اس وقت دھرنے والوں میں سے عمران کے حالات کی بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔

دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری ہیں جو سخت مو¿قف اختیار کئے ہوئے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں وہ17جون کے شہداءکا حساب مانگتے ہیں اس کے علاوہ ان کا پروگرام ٹھوس ہے لیکن اس پر عمل درآمد تو وہ برسراقتدار آکر ہی کرسکتے ہیں، موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں، اس لئے ان کا زیادہ دباﺅ 17جون کے خونی واقعات کے حوالے سے ہے۔ اس سلسلے میں شریف فیملی کی طرف سے افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے خود کو بری الذمہ قرار دیا جارہا ہے، ڈاکٹر طاہر القادری اپنے مطالبات پر قائم ہیں تاہم مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، وہ کوئی بھی فیصلہ شریعت مطہرہ کے خلاف نہیں کریں گے۔

یہ صورت حال اپنی جگہ ہے۔ کہ عمران خان کے ہمدرد اور پس پردہ مشیران کے لئے مصالحہ تیار رکھتے ہیں اور ٹھنڈی ہوتی بات پھر چل نکلتی ہے۔ اب ان کی خدمت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان کو پیش کردیا گیا، جن کا ضمیر ریٹائرمنٹ کے چودہ ماہ بعد اس وقت جاگا جب عمران خان کے پاس کوئی نیا ایشو نہیں بچا تھا، یہ صاحب (روزنامہ ڈان کے مطابق) سرکاری نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان میں رپورٹرتھے، 1979ءسے 1996ءتک اس خبررساں ایجنسی سے منسلک رہے اور ملازمت کے اس عرصہ میں انہوں نے کم وبیش دس مرتبہ حج وفد کے ساتھ حج کیا، اور پھر وہ ڈیپوٹیشن پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چلے گئے۔ الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری ہونے تک انہوں نے کئی عہدے اور مراعات حاصل کیں، اور اب بیان یا انٹرویو دے کر یکایک معتبر ہوگئے۔

چودہ ماہ بعد بولنے پر ان سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ ان کا ضمیر کیسے بیدار ہوگیا؟ بہرحال ان کے انٹرویو نے عمران خان کو ایک اور موقع دے دیا کہ دھرنا جاری رکھیں اور ان کے بیان میں پھر سے جارحیت آگئی ہے۔

اطلاع یہ ہے کہ اسلام آباد میں دھرنوں کے شرکاءبور تو ہوگئے اور تھک بھی گئے ہیں لیکن ہردو گروپوں نے اپنے اپنے مشاغل ڈھونڈ لئے ہیں عمران خان والے سارا دن آرام کرنے اور گھومنے پھرنے کے بعدرات کو آنا شروع کردیتے اور پھر مغرب تک جمع ہوجاتے ہیں اور رات بارہ سے ایک بجے تک جشن آزادی منانے کے بعد واپس ٹھکانوں پر چلے جاتے ہیں جو انہوں نے پہلے ہی بنارکھے تھے۔ البتہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پیرو کار مسلسل شاہرہ دستور پر ہی ہوتے ہیں اور انہوں نے اس کے لئے شغل اختیار کرلئے ہیں، بہت تھوڑی تعداد میں لوگ آتے جاتے ہیں، تاہم ڈاکٹرطاہر القادری نے اپنے سحر سے ان کو روکا ہوا ہے۔ وہ بات چیت پر آمادہ ہوئے تو کہتے ہیں دروازے کھلے ہیں۔ مذاکرات کریں گے اپنے حقوق ومطالبات پر کریں گے۔

عمران خان نے اپنی تحریک کو پھیلانے کی دھمکی بھی دی اور ملک گیر ہڑتال سے پہیہ جام تک کی دھمکی دی ہے، یہ انداز بیان بھی ہے، بہرحال تاحال ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی، یوں بھی مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے حامیوں کو متحرک کیا ہے، ان میں تاجر اور صنعتکار بھی ہیں، اس لئے ہڑتال اور پہیہ جام ٹیڑھی کھیر ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے دھرنوں کے خلاف اپنی حمایت میں عوامی قوت کے مظاہرے شروع کردیئے ہیں جو بڑھتے جائیں گے۔ ایسے میں جمعیت علماءاسلام (ف) اوراہل سنت والجماعت کے مظاہروں سے تشویش پیدا ہوئی ہے اس پر دانشوروں سمیت فریقین اور آزادی مارچ کے مشیران خصوصی کو بھی توجہ دینا چاہئے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے عوامی حمایت کا بھرپور مظاہرہ شروع کیا ہے جو جاری رکھا جائے گا جبکہ مذاکرات کا عمل بھی جاری رہے گا اگلے دوروز میں حالات میں مثبت تبدیلی کی توقع ہے، شاید طاہر القادری کے ساتھ شرعی سمجھوتہ ہوجائے اور عمران خان اپنے ٹھکانے پر اکیلا رہے۔

مزید : تجزیہ