عدالتی حکم پر دھرنوں کے شرکاءشاہرائے دستور خالی کر دینگے تصادم کا خدشہ نہیں سیاسی رہنما

عدالتی حکم پر دھرنوں کے شرکاءشاہرائے دستور خالی کر دینگے تصادم کا خدشہ نہیں ...

                  لاہور(محمد نواز سنگرا/انویسٹی گیشن سیل) عدالت عظمیٰ کے حکم پر دھرنوں کے شرکاءشاہرائے دستور خالی کر دیں گے تصادم کا خدشہ نہیں ہے حکومت کو متبادل جگہ فراہم کرنی چاہیے۔حکومتی ضد اسے لے ڈوبے گی نازک حالات میں ضرورت کا قانون جنم لے رہا ہے جس سے ملک اور قوم کےلئے نقصان کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی رہنماو¿ں نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔سابق وفاقی وزیرنذر محمد گوندل نے کہا کہ حکومتی ضد انہیں لے ڈوبے گی عمران خان اور طاہر القادری کا کچھ نقصان نہیں ہو گا کیونکہ ان کے پاس پہلے بھی کچھ نہیں۔حکومت ملکی نقصان کی ذمہ دار ہو گی حکمران سنجیدگی سے سیاسی تناو¿ ختم کریں دیر کرنے سے ملک نقصان کی طرف جا رہا ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ دھرنے کے شرکاءسپریم کورٹ کے احکامات ضرور مانیں گے حکومت کو متبادل جگہ فراہم کرنی چاہیے۔حکومت کو تحمل کے ساتھ مطالبات مان لینے چاہیں اور عوامی تحریک اور تحریک انصاف کو بھی دھرنوں کا انداز بدلنا چاہیے۔سابق وفاقی وزیر حامد سعید کا ظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر دھرنوں کے شرکاءکو شاہرائے دستور خالی کرنے پر وقت لگے گا۔افضل خان کےانکشافات نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے اور بگڑتی صورتحال کے پیش نظر ضرورت کا قانون جنم لے رہا ہے جس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں ۔طویل دھرنے کے بعد خالی ہاتھ لوٹنا بھی مشکل ہو گا اسلئے حالات خرا ب ہو سکتے ہیں حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔تحریک انصاف کے رہنما رائے حسن نواز نے کہا کہ ایک شخص کی کرسی بچانے کےلئے ملک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔دھاندلی کی تحقیقات کے بعد الیکشن شفاف قرار پائے تو نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ حکومتی غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث حالات دن بدن گھمبیر ہو رہے ہیں ۔مسلم لیگ(ن)کے رہنما شیخ قیصرنے کہا کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے جس پر اعلیٰ سطحی اجلاس اور قومی اسمبلی کے سیشن جار ی ہیںاور مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔دھرنے دینے والوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنا چاہیے اور غیر آئینی مطالبات پر لچک دکھانی چاہیے۔عدالت عظمیٰ کے احکامات ماننا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔

سیاسی رہنما

 

مزید : صفحہ آخر