ممبر الیکشن کمیشن ریاض کیانی کا مستعفیٰ نہ ہونے اور الزامات کا سامنا کرنے کا فیصلہ

ممبر الیکشن کمیشن ریاض کیانی کا مستعفیٰ نہ ہونے اور الزامات کا سامنا کرنے کا ...

                              لاہور(شہباز اکمل جندران/انویسٹی گیشن سیل) الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان کی طرف سے الزامات عائد کرنے کے باوجود کمیشن کے ممبر جسٹس (ر ) ریاض کیانی نے مستعفی نہ ہونے اور الزامات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جسٹس ( ر) کیانی سمجھتے ہیں کہ ان کے عہدہ چھوڑنے سے ان پر لگے الزامات کو تقویت ملے گی۔دوسری طرف آئین بھی ان کے عہدے کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان کے بیان کے بعد الیکشن کمیشن اور خصوصاً ممبر پنجاب جسٹس (ر) ریاض کیانی ایکبا ر پھر سے الزامات کی شدید زد میں ہیں۔افضل خان نے الزام عائد کیا ہے کہ 11مئی 2013کے الیکشن کو تباہ کرنے میں پنجاب سے الیکشن کمیشن کے ممبرجسٹس (ر ) ریاض کیانی کا 90فیصد ہاتھ ہے۔الیکشن میں 35کی بجائے سینکڑوں پنکچر لگائے گئے۔اور دھاندلی کے اس عمل میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری،سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی اور سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم بھی شریک رہے ہیں۔ممبر الیکشن کمیشن پنجاب جسٹس (ر) ریاض کیانی نے سابق ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن افضل خان کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ افضل خان نے مدت ملازمت میںتوسیع مانگی تھی لیکن چونکہ وہ اہل نہ تھے اس لیے انہیں توسیع نہ دی گئی جس پر انہوں نے الزام تراشی شروع کردی ہے۔ جسٹس (ر ) ریاض کیانی نے ایک طرف چیف جسٹس آف پاکستا ن سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل ہے۔ تو دوسری طرف اپنے عہدے سے الگ نہ ہونے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ و ہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مستعفی ہونے یا عہدہ چھوڑنے سے ان پر لگائے جانے والے الزامات کو تقویت ملے گی۔معلوم ہواہے کہ ملک کا آئین بھی ان کے عہدے کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔اور آئین کے آرٹیکل 215(2) کے تحت تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جس کے مطابق چیف الیکن کمشنر یا کمیشن کے کسی بھی رکن کو اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا اور ایسا کرنے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے طریقہ کار کے مطابق چیف الیکشن کمشنر یاکمیشن کے کسی بھی رکن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرتے ہوئے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ہوگا۔یہ ریفرنس صدر مملکت کی طرف سے بھجوایا جاسکتا ہے۔اور ریفرنس کی سماعت کے دوران الزامات ثابت ہونے پر انہیں عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔آرٹیکل 209کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان، ان کے بعد سپریم کورٹ کے دو سب سے سینئیر جج اور چاروں ھائی کورٹس میں سے دو سب سے سینئیر چیف جسٹسز پر مشتمل پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے کسی بھی رکن یا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف دائر ہونے والے کسی بھی ریفرنس کی سماعت کرتے ہیں۔ اور الزامات ثابت ہونے پر ایسے جج یا کمشنر کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔

مقابلہ ،فیصلہ

مزید : صفحہ آخر