انسانی تاریخ کے شیطانی تجربات جو آپ کے رونگٹے کھڑے کردیں گے

انسانی تاریخ کے شیطانی تجربات جو آپ کے رونگٹے کھڑے کردیں گے

برلن (نیوز ڈیسک) سائنسدان اپنی زندگی کے قیمتی ترین سال انسانیت کی فلاح کیلئے تحقیق و تجربات کرتے گزار دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نیوٹن، آئن سٹائن، گلیلو، کوپرنیکس اور سٹیفن ہاکنگز جیسے ناموں کو تاریخ میں عظیم ترین مقام حاصل ہے۔ بدقسمتی سے انسانی تاریخ میں کچھ سائنسدان شیطانی تجربات میں بھی مصروف رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بدترین اور تاریک ترین کرداروں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ کچھ ایسے ہی روح فرسا تجربات کا ذکر درج ذیل ہے:1 .نازی جرمنوں کے تجربات مشہور زمانہ نورمبرگ مقدمات میں جرمن ڈاکٹروں کے خوفناک تجربات سے پردہ اٹھایا گیا۔ آشوئز کے ڈاکٹر جوزف مینجل نے بچوں کی آنکھوں میں رنگدار کیمیکل کے انجیکشن لگائے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ ان کی آنکھوں کا رنگ مستقل طور پر تبدیل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اسی طرح 1942ءمیں پولینڈ میں کرسی سے باندھ کر اس کے سر پر ایک ہتھوڑا متعدد بار مارا گیا تاکہ اس کے ردعمل پر تحقیق کی جاسکے۔ نازیوں سے ریونزبرک نامی کیمپ میں خواتین قیدیوں کے بازو?ں اور ٹانگوں کو کاٹ کر ان پر بیکٹیریا اور شیشے کے ٹکڑے لگائے اور پھےر سلفونا مائیڈ نامی مادے سے اس کا علاج کرنے کے تجربات کئے۔2 .جاپانیوں کے تجربات جاپانی فوج نے چین کے عام شہریوں پر طاعون زدہ پسو چھوڑ دئیے تاکہ ان کی بطور جنگی ہتھیار کے افادیت کا جائزہ لیا جاسکے، چین کا موقف ہے کہ ان تجربات کے نتیجہ میں 580000افراد ہلاک ہوئے۔ جاپانیوں نے چینی فجیوں کو وائرس کے انجکشن لگا کر بیمار کیا اور پھر ان کے عضو ایک ایک کر کے کاٹتے رہے تاکہ بیماری کے پھیلنے کا جائزہ لیا جاسکے۔3 .امریکہ کے جراثیمی تجربات امریکی ڈاکٹر البرٹ کلنگ مین نے 1951ءمیں پنسلوانیا کی جیل میں قیدیوں کے جسم میں ڈائی آکسن کے انجکشن لگائے تاکہ مصنوعی طور پر بیماریاں پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کی جاسکے۔ اس کے تجربات کامیاب رہے اور قیدیوں میں ہر چیز، سٹاف اور پاﺅں کی خارش جیسے امراض پیدا ہوگئے۔4 .امریکہ کے پلوٹونیم تجربات پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں شکاگو کے ایک ہسپتال میں امریکی ڈاکٹروں نے پراجیکٹ اوک رج کے تحت متعدد افریقی سپاہیوں کے خون میں پلوٹونیم کے انجکشن لگادئیے جس سے درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔5 .اسی طرح امریکی ڈاکٹر کورنیلسیئس نے کوسٹاریکا کے فوجیوں کے جسم میں کینسر کے خلیے داخل کئے جس سے درجنوں ہلاکتوں ہوئیں۔ ڈاکٹر یوجین نے اپنے تجربات میں افریقی مریضوں کو 7000 دفعہ خصوصی ایکسرے کا نشانہ بنایا جس سے مریضوں میں شدید درد، جسم سے خون بہنے اور حتیٰ کہ موت کے واقعات بھی ہوئے۔

 

مزید : صفحہ آخر