اسلام آباد ہائیکورٹ کا مقامی انتظامیہ اور وزارت داخلہ سے تحریری رپورٹ طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ کا مقامی انتظامیہ اور وزارت داخلہ سے تحریری رپورٹ طلب ...

                                       اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کیخلاف کیس کی سماعت2 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے اسلام آبادکی مقامی انتظامیہ اور وزارت داخلہ سے تحریری رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے مقامی انتظامیہ کو احکامات جاری کئے ہیں کہ وہ عدالت میں تحریری طور پر جواب داخل کروائے کہ اسلام آباد میں احتجاجی دھرنوں کی اجازت کس نے دی‘ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور مقامی تاجروں کے نقصان کا ازالہ اور ان تحفظ فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔ پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اجمل بلوچ بنام ڈاکٹر طاہرالقادری کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام اباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل اکرام چوہدری جبکہ وفاق کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان طارق محمود کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے۔ ابتدائی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مریم خان سے استفسار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کی اجازت کس نے دی۔ اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ احتجاج کرنا سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے۔ عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی جبکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے احتجاج دھرنوں سے سپریم کورٹ کو جانے والے راستے بند ہوچکے ہیں۔ پارلیمنٹ کے راستے بھی بند ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی گاڑیوں کو عدالت میں جانے کیلئے راستہ نہیں مل رہا۔ وفاقی حکومت میں پچاس کے قریب سکول بند ہوچکے ہیں جن میں حکومت نے پولیس والوں کو مہمان بنا کر رکھا ہوا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ ریاست کی علامت ہے اس کی طرف جانے والے بھی تمام راستے بند ہوچکے ہیں۔ کیا مقامی انتظامیہ اس تمام صورتحال سے واقف نہیں ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو لے جانے کیلئے دشواریاں پیدا ہورہی ہیں۔ ریڈ زون میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی وجہ سے مختلف مسائل پیدا ہورہے ہیں اور وہاں پر بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ سی ڈی اے انتظامیہ نے کسی قسم کے انتظامات نہیں کئے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مریم خان نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کی اجازت دی گئی تھی اور احتجاجی دھرنوں میں ان لوگوں کو سہولیات کیلئے ہسپتال انتظامیہ اور سی ڈی اے کے ورکر موجود ہوتے ہیں۔ انتظامیہ نے ان کی باقاعدہ ڈیوٹیاں لگا رکھی ہیں۔ اطہر من اللہ نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کو چاہئے کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کیلئے ایک علیحدہ جگہ مختص کردیں تاکہ وہاں دولاکھ یا بیس لاکھ لوگ جمع ہوں جہاں وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کراسکیں تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوں اور سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستے بھی بند نہ ہوں۔ عدالت نے تحریری احکامات جاری کرتے ہوئے عدالتی معاونت کیلئے سینئروکلاء بابر ستار اور سعد رسول کو بھی طلب کیا ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو احکامات جاری کئے کہ وہ عدالت میں آئندہ پیشی پر تحریری جواب داخل کروائیں۔ سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کی اجازت کس نے دی تھی۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کیلئے کیا اقدامات کئے۔ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستے کھولے گئے ہیں۔ مقامی تاجروں کی سکیورٹی کے حوالے سے کس قسم کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں پولیس موجود ہونے سے تعلیمی نظام کا کیا متبادل انتظام کیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کیلئے کونسی جگہ کرے گی۔ عدالت نے مذکورہ احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔۔

مزید : علاقائی