بسیں نا پید ،27 ہزار طالبات ٹرانسپورٹ کے مسائل کا شکار

بسیں نا پید ،27 ہزار طالبات ٹرانسپورٹ کے مسائل کا شکار
بسیں نا پید ،27 ہزار طالبات ٹرانسپورٹ کے مسائل کا شکار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے صوبائی دارالحکومت کے 30 خواتین کالجوں کو 9 اضافی بسوں کی فراہمی کے باوجود 27 ہزار سے زائد طالبات ٹرانسپورٹ کے لاتعداد مسائل کا شکار ہیں، طالبات کو سکوٹیز کی فراہمی کے اعلان کے عملی شکل اختیار نہ کرنے اور پنک بسوں کے خواب خیال ہوجانے سے طالبات کی اکثریت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کا عذاب جھیلنا ہی واحد آپریشن رہ گیا ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن کے ذرائع کے مطابق شہر کے 12 خواتین کالجوں میں سرے سے بسوں کی سہولت موجود ہی نہیں ہے جبکہ 18 خواتین کالجوں کیلئے صرف 25 بسیں مختص ہیں۔ بلال گنج کالج، کلیتہ البنات کالج، شاہدرہ کالج، گوالمنڈی کالج، کوٹ لکھپت کالج، کاہنہ نو کالج، مرغزار کالونی کالج، رابعہ بصری اور سلامت پورہ کالج برائے خواتین کی ہزاروں طالبات کو گھر سے درسگاہ تک پہنچنے یا واپس جانے کیلئے کوئی ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں جسکی وجہ سے بعض طالبات تعلیمی سلسلہ ادھورا چھوڑ کر گھر بیٹھ جانے پر مجبور ہوگئی ہیں جبکہ پوسٹ گریجویٹ وحدت کالونی کالج، اسلامیہ کالج کوپرروڈ، ٹاﺅن شپ کالج، اسلامیہ کالج کینٹ، مصطفیٰ آباد کالج، جناح ڈگری کالج مزنگ، اپوا کالج، بند روڈ کالج، گلشن راوی کالج، باغبانپورہ کالج، ٹمبر مارکیٹ کالج کے پاس صرف ایک ایک بس ہے اور ہوم اکنامکس کالج برائے خواتین کے پاس 5، گلبرگ کالج، سمن آباد کالج اور واپڈا ٹاﺅن کالج کے پاس 22 بسیں ہیں جو طالبات کی سفری ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ اس حوالے سے مقامی اخبار سے گفتگو میں طالبات نے بتایا کہ بہت سی طالبات داخلہ ہوجانے کے باوجود صرف اس لئے تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتیں کہ ان کے والد یا بھائی کے پاس انہیں پک اینڈ ڈراپ دینے کیلئے وقت نہیں ہوتا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کی اجازت وہ دے نہیں سکتے اگر کالج کے پاس سہولت ہو تو بہت سی طالبات تعلیم مکمل کرسکتی ہیں۔طالبات کا کہنا تھا کہ جن کالجوں میں بسیں موجود ہیں وہ بھی اکثر طالبات کے روٹس پر نہیں جاتیں اور ان کیلئے ٹرانسپورٹ پر تنہا سفر آسان نہیں ہوتا۔

مزید : بزنس