امریکی سکول میں ’یرحمک اللہ‘ کہنا طالبہ کو مہنگاپڑگیا

امریکی سکول میں ’یرحمک اللہ‘ کہنا طالبہ کو مہنگاپڑگیا
امریکی سکول میں ’یرحمک اللہ‘ کہنا طالبہ کو مہنگاپڑگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست’ٹینیسی ‘ کے ایک ہائی سکول میں چھینک کے جواب میں ’یرحمک اللہ‘(اللہ رحم کرے )کہنے پر طالبہ کا نام خارج کردیاگیاہے تاہم ساتھی طلباءکی جانب سے بھرپور اظہاریکجہتی کیاجارہاہے۔ عرب میڈیا کے مطابق مغربی دنیا میں مذہب سے دوری کی حالیہ چونکا دینے والے واقعے کے بعد لڑکی کے فعل کے حامی اور مخالفین نے سوشل میڈیا پر بھی تبصروں کا ایک طومار باندھ رکھا ہے۔

 کمرہ جماعت میں استانی کے لیکچر کے دوران ایک طالب علم کو چھینک آئی تو اس نے چھینک کے بعد اپنے قریب بیٹھی کلاس فیلو کینڈرا کو ’سوری‘ کہا۔ جواب میں کینڈرا نے اسے 'یرحمک اللہ' کہاجس پر سکول کی 17 سالہ طالبہ کینڈرا ٹورنر کو اس کی استانی نے کمرہ جماعت سے نکال دیا۔بتایاگیاہے کہ کینڈرا کا تعلق کسی مسلمان خاندان سے نہیں بلکہ عیسائی فیملی سے ہے۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق استانی نے کینڈرا سے پوچھا کہ اس نے چھینک کے جواب میں کیا کہا جس پر طالبہ نے سچ بتادیا اور جوابی سوال پر اُس کا کہناتھاکہ گھر والوں اور ایک عیسائی پادری نے یہ بات بتائی تھی۔ استانی طیش میں آ گئی اورپادری کے پاس پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کمرہ جماعت سے نکال دیا۔

 استانی کا موقف ہے کہ کینڈرا کو ’یرحمک اللہ‘ کہنے پر کلاس سے نہیں نکالا گیا بلکہ اسے لیکچر کے دوران باتیں کرنے کی سزا کے طور پر نکالا گیا تھاتاہم کینڈرا کا کہنا ہے کہ استانی نے پوری کلاس میں کہا کہ وہ کمرہ جماعت میں اللہ کے بارے میں گفتگو نہیں سننا چاہتی ،سکول کے قواعد وضوابط کا علم ہونا چاہیے۔

کلاس روم کے علاوہ سکول کے دوسرے طلباءاور سوشل میڈیا پر بھی کینڈرا سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سکول کے طلباءنے تو سفید رنگ کی ٹی شرٹس پر انگریزی میںGodblessyou کی عبارت پرنٹ کرا رکھی ہے جس کا عربی میں مطلب 'یرحمک اللہ' بنتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس