کراچی کا ’بٹ‘ دو سال سے عدالتی فیصلے کا منتظر

کراچی کا ’بٹ‘ دو سال سے عدالتی فیصلے کا منتظر
کراچی کا ’بٹ‘ دو سال سے عدالتی فیصلے کا منتظر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ویب ڈیسک) شہر قائد میں ایک ظالمانہ سرکاری کارروائی میں 21 ہزار آسٹریلوی بھیڑوں کی ہلاکت سے کروڑوں روپے کے نقصان سے دو چار تاجر طارق بٹ گزشتہ دو سال سے انصاف کے حصول کےلئے ا علیٰ عدلیہ کے فیصلے کا منتظر ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اگست 2012ءمیں کراچی میں 21 ہزار آسٹریلوی بھیڑوں کی درآمد اور تلفی کے حوالے سے ایک شہری ڈاکٹر محمد اخلاق نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ ابتدائی سماعت کے دوران اعلیٰ عدالت کے حکم پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے تفتیشی افسر ایڈیشنل ڈائریکٹر اکنامک کرائم ونگ اسلام آباد یاسین فاروق نے تفصیلی تحقیقات کیں جسکی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پوری طرح صحت مند 21 ہزار بھیڑوں کو مافیا افسران کے گٹھ جوڑنے ظالمانہ طریقے سے ہلاک کیا۔ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا سے ایم وی اوشن ڈرورنامی بحری جہاز 74 ہزار بھیڑیں لےکر 4 اگست 2012ءکو روانہ ہوا، 15 اگست کو 6 ہزار 773 بھیڑیں اومان اور 18 اگست کو 46 ہزار 207 بھیڑیں قطر میں اتاری گئیں جبکہ بقیہ بھیڑیں لین دین کے تنازعہ پر بحرین کی کمپنی کے حوالے نہیں کی گئیں جنہیں کراچی کی کمپنی پی کے لائیو سٹاک اینڈ میٹ کے ایم ڈی طارق محمود بٹ نے خریدنے کا معاہدہ کیا۔ 10 ستمبر کو کورنٹائن افسران نے ان جانوروں کا معائنہ کرکے تفصیلی رپورٹ دی کہ تمام جانور مکمل صحتمند تھے۔ 4 ستمبر کو یہ بھیڑیں ریلیز کرنے کا عبوری آرڈر جاری ہوا اور انہیں اینیمل ہسبینٹری کمیشن کے احکامات پر منظور شدہ مذبح خانے منتقل کردیا گیااور 6 ستمبر کو بھیڑوں میں منہ اور کھر کی بیماری کی افواہیں پھیلادی گئیں۔ 7 ستمبر کو نیشنل ویٹرنری لیب اسلام آباد کی ایکسپرٹ ٹیم نے بھیڑوں کا معائنہ کیا اور 111 بھیڑوں کے خون کے نمونے جمع کرکے ٹیسٹ کئے گئے اور تمام رپورٹ منفی آئیں۔

مزید : کراچی